اس نامور مسلمان پہلوان کا تذکرہ جسے وقت کے حکمران نے دو خون معاف کر رکھے تھے ۔۔۔پڑھیے پہلوانی کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > دلچسپ و عجیب وا قعات > اس نامور مسلمان پہلوان کا تذکرہ جسے وقت کے حکمران نے دو خون معاف کر رکھے تھے ۔۔۔پڑھیے پہلوانی کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ

اس نامور مسلمان پہلوان کا تذکرہ جسے وقت کے حکمران نے دو خون معاف کر رکھے تھے ۔۔۔پڑھیے پہلوانی کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک)مہاراجہ ننھے گاماں کی ہر خواہش پوری کرتاتھا۔ رفتہ رفتہ گامے کا صدمہ ختم ہوتا چلاگیا۔ عزیز بخش کی وفات کے تین ماہ بعد امام بخش (بھولو کا والد) پیدا ہوا۔ گاماں اپنے نومولود بھائی کے ساتھ ایسا مصروف ہوا کہ باپ کی کمی جاتی رہی۔ اسی طرح ایک سال بیت گیا۔ گاماں اور امام بخش کی

پرورش کی ذمہ داری ان کے نانا امیر بخش پہلوان (نون پہلوان) کے ذمہ تھی۔ نانا کے زیر پرورش آنے کی وجہ سے گاماں، گاماں نون والا کہلانے لگا تھا۔راجہ کو ابھی عزیز بخش کی ناگانی موت نہیں بھولی تھی کہ نون پہلوان بھی داغ مفارقت دے گیا۔ اسے ایک شقی القلب برہمن نے قتل کر دیا تھا اور اس طرح گاماں اور امام بخش اپنے نانا کے سایہ عاطف سے بھی محروم ہوگئے۔ راجہ بھوانی سنگھ نون پہلوان کے قتل پر تلملا اٹھا۔ ریاست میں کہرام سا مچ گیا۔ راجہ مارے غیض و غضب کے دھاڑنے لگا۔قتل اور ہماری ریاست میں۔یعنی ہمارے خاص پہلوان کا قتل۔ ہمارے عزیز کے سسر اور گامے کے نانے کا قتل۔ نہیں ہم یہ خون برداشت نہیں کر سکتے۔ اس بدبخت کو فوراً ہمارے حضور پیش کیاجائے جس نے یہ ظلم کیا ہے۔‘‘راجہ اپنے پہلوانوں کو نہایت عزیز رکھتا تھا۔ خاص طور پر عزیز بخش اورنون پہلوان کے گھرانوں سے اس کی محبت اور شفقت سب سے بڑھ کر تھی۔ اگرچہ وہ کسی سے امتیاز نہیں برتتا مگر یہ قدرتی بات تھی کہ وہ عزیز بخش پہلوان سے متاثر تھا جس کی وجہ سے وہ اسے چاہتا تھا۔ اسی لئے اس نے نون پہلوان کے قتل کو معمولی نہیں لیا تھا۔نون پہلوان کے قتل کاپس منظر اتنا گھمبیر نہیں تھا جس کی بنا پر اسے قتل کردیا گیا تھا۔ اس کا ریاست دتیہ کے ایک بڑے خاندان

کے برہمن زادے سے کسی بات پر جھگڑا ہوگیا تھا۔ طیش میں آکر نون پہلوان نے برہمن زادے کو تھپڑ رسیدکر دیا۔ برہمن ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا مگر اس وقت اپنے مقابل راجہ کے مصاحب اور نامی گرامی پہلوان کو دیکھ کر ذرا دیر کے لئے رک گیا تھا۔ معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ برہمن کے دل میں گرہ سی پڑ گئی۔ نون پہلوان کا تھپڑ ریاست دتیہ میں اس کے لیے رسوائی کی بازگت بن گیا۔ برہمن نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا اور موقع کی تلاش میں رہا۔ آخر کار اسے نون پہلوان پر ہاتھ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ایک روز جب نون پہلوان اپنے خیالوں میں گم چلا جا رہا تھا برہمن نے آنا فاناً تلوارکا بھرپور وار کیا اور یوں اپنے تھپڑ کا بدلہ لے لیا۔ ضرب کاری تھی۔ نون پہلوان بمشکل گھر تک پہنچا لیکن زندگی موت کے آگے ہار گئی۔نون پہلوان کا قاتل خوش آمیز امید لے کر راجہ کے دربار میں آلہ قتل سمیت حاضر ہوگیاتھا۔ اسے وشواش تھا کہ راجہ اسے اعلیٰ ذات کا ہونے کے ناطے معاف کر دے گا اور پھر جب وہ اپنی رسوائی کا ماجرا سنائے گا تو راجہ کا دل نرم پڑ جائے گا۔ مگر راجہ بھوانی سنگھ کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ ادھر برہمن زادے نے اعتراف جرم کیا ادھر راجہ نے فیصلہ دے دیا۔اس کمبخت کو فوراً پھانسی پر لٹکا دو۔ اسکی موت کانظاہرہ ہم بھی دیکھیں گے۔‘‘

راجہ کے حکم پر برہمن زادے کو فوراً سزائے موت دے دی گئی۔

راجہ بھوانی سنگھ کی پہلوانوں سے عقیدت غایت درجہ تھی ایک طرف وہ پہلوان کے قتل پر ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر قاتل کو پھانسی کی سزا دے رہا ہوتا تو دوسری طرف ایک پہلوان کو قتل کرنے کے جرم پر عام معافی دے دیتا۔محمد بخش پہلوان بھی راجہ بھوانی سنگھ کا مصاحب تھا۔ ایک روز ورزش کے بعد محمد بخش غسل کے لئے تازہ پانی کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کا ملازم کنوئیں سے پانی لانے گیا ہوا تھا مگر وہ وہاں جھگڑا کر بیٹھا۔ پہلوان کو دربار میں پہنچنا تھا مگر غسل نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی تھی۔ ملازم بغیر پانی کے واپس آیا اور ماجرا سنایا تو محمدبخش پہلوان جھنجھلاہٹ میں خود کنویں پر جا پہنچا اور طیش میں آکر جھگڑا کرنے والے کو تھپڑ رسید کر دیا۔ پہلوان کا تھپڑ کسی ہتھوڑے کی کاری ضرب تھا۔ مقابل ایک عام سا انسان تھا۔ وہ تھپڑ کھاکر کنویں کی منڈیر پر ایسا گرا کہ گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ریاست میں پہلوان کے ہاتھوں میں قتل کا شور برپا ہوگیا۔ قتل کی سزا موت تھی اور راجہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جرم کرنے والے کو کم ہی بخشا تھا۔

اس نے اپنے پسندیدہ شاہ زور کے جرم کا سنا تو سوچ میں پڑ گیا۔ وہ کسی صورت اپنے پہلوان سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتا تھا۔ کافی غور و خوض کے بعد راجہ نے فیصلہ صادر کیا کہ وہ ایک موقع پر محمد بخش پہلوان کو دو خون معاف کر چکا ہے۔لہٰذا ایک قتل اس کے کھاتے سے حذف کیا جاتا ہے۔ دوسری بار قتل کرنے کی صورت میں بھی محمد بخش کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ البتہ تیسرے قتل پر سزائے موت سے نہیں بچ سکے گا۔گاماں اور امام بخش عمر کے اس حصے میں تھے جب انہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی۔ گاماں کی تربیت تو شروع ہو چکی تھی لیکن امام بخش ابھی دودھ پیتا بچہ تھا۔ نانا کے قتل کے بعد ان کے ماموں عید ا پہلوان اور بوٹا پہلوان نے ان کی تربیت و پرورش کی ذمہ داری اٹھا لی۔ امام بخش نے گھنٹوں کے بل چلنا سیکھا تو گاماں اسے بھی اکھاڑے میں لے چلتا۔ پہلوانی سے گامے کے عشق کا یہ اظہار تھا کہ وہ اپنے ننھے منے بھائی کو اکھاڑے مٹی میں کھیلنے کے لئے لے آتا تھا۔ حالانکہ عیدا پہلوان سے منع بھی کرتا کہ ابھی امام بخش کو ماں کی گود سے چھین کر اکھاڑے میں نہ لایا کرے۔

گاماں ماموں کی بات سن کر جھنجلاجاتا اور کہتا۔ماما! خود ہی تو کہتے ہو تم دونوں بھائیوں کو بڑا شاہ زور بننا ہے پھر کیوں امام بخش کو اکھاڑے میں لانے سے روکتے ہو۔‘‘ماموں لا جواب ہو جاتا اور کہتا۔’’گامے پتر! توٹھیک ہی کہتا ہے۔ تیرے باپ کی بڑی کواہش تھی کہ تو ایسا شاہ زوربنے کہ دنیا میں تیری ٹکر کا کوئی اور نہ ہو۔‘‘’ماما۔۔۔بس تو چنتا نہ کیا کہ میں قیامت کے روز اپنے عزیز کے سامنے تجھے شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ چھ سال کے گاماں کی زبان سے یہ حوصلہ افزا باتیں سن کر عیدا پہلوان شاد ہو جاتا اور گاماں کا کندھا تھپک کر کہتا’’گامے پتر۔۔۔سوہنا رب سوہنیاں کرے گا۔ مجھے پورا یقین ہے تیری جوڑ کا کوئی اور ماں پترنہ جنے گی۔‘‘گاماں درویش صفت باپ کا بیٹا تھا۔ انکساری اور خوف خدا اس کی گھٹی میں پڑا تھا۔ ماموں کی زبان سے یہ سنتا تو کہتا۔’دیکھ ماما! میرا عزیز کہتا تھابیٹاکبھی بڑا بول نہ بولنا۔ یہ بندے کو اوقات بھلا دیتا ہے۔ تو بھی ایسا نہ کہا کر۔ بس دعا کر خدا بھلا ہی کرے۔‘‘عیداپہلوان خود بھی درویشانہ اوصاف سے مالا مال تھا ۔ وہ تو بھانجے کا دل بہلانے اور جوش دلانے کے لئے بڑے بول بول دیتا تھا۔ مگر بھانجے کا جواب سن کر اس کا اطمینان بڑھ جاتا اور یوں وہ گامے کے رجحان کو ناپتا رہتا۔ (جاری ہے)


Top