ہمیں اپنا بچپن یاد کیوں نہیں رہتا؟ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > دلچسپ و عجیب وا قعات > ہمیں اپنا بچپن یاد کیوں نہیں رہتا؟

ہمیں اپنا بچپن یاد کیوں نہیں رہتا؟

لاہور (ویب ڈیسک) ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو اپنا بچپن یاد نہیں ہوتا، خاص طور پر بچپن کے ابتدائی دن تو بالکل یاد نہیں ہوتے۔7 سال کی عمر سے کچھ افراد کو اپنا بچپن یاد رہ جاتا ہے۔ہمیں اپنے بچپن کی زیادہ تر باتیں اپنے والدین یا رشتہ داروں سے سننے کو ملتی ہیں کہ ہم بچپن میں کیسے تھے؟ کتنی شرارتیں کرتے تھے یا پھر کچھ باتیں تصاویر کے

ذریعے معلوم ہوتی ہیں۔ماہرین کے مطابق بچپن کی باتیں بھول جانا یا بچپن یاد نہ رہنے کے عمل کو چائلڈ ہوڈ ایمنیسیا (بچپن میں یاداشت کا کمزور ہونا) کہلاتا ہے ۔ لیکن ماہرین اب تک اس حوالے سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں کہ آخر بچپن یاد نہ رہنے کی کیا وجہ ہے؟ ایک طرف یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بچپن میں بچے چھوٹے ہوتے ہیں، ان میں شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہے ہیں یا کیا نہیں کررہےمختصراً چھوٹی عمر میں دماغ اتنا پختہ نہیں ہوتا کہ ارد گرد ہونے والی باتوں کو یاد رکھا جائے۔جب بچہ 6 مہینے کا ہوجاتا ہے تو اس میں لانگ ٹرم میموری اور شاٹ ٹرم میموری پیدا ہوجاتی ہے۔ 6 مہینے کا بچہ زیادہ سے زیادہ 1 ہفتے تک چیزوں کا یاد رکھتا ہے ، یہ بچے کی لانگ ٹرم میموری کہلاتی ہے۔ کچھ چیزیں بچہ منٹوں میں ہی بھول جاتا ہے تو یہ بچوں کی شارٹ ٹرم میموری کہلاتی ہے۔ماہرین کے مطابق جب بچہ ایک ہی کھلونے سے بار بار کھیلتا ہے تو بچے کو کھلونے سے کھیلنا آجاتا ہے۔ لیکن اگر بچہ کسی کھلونے سے بس ایک بار کھیلے اور پھر کئی دنوں بعد بچے کو وہ کھلونا کھیلنے کےلیے دیا جائے تو بچہ بھول جائے کہ اس کھلونے سے کیسے کھیلنا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بچے اپنے والدین کو روز دیکھتے ہیں اس لئے بچوں کو اپنے والدین کی پہچان ہوجاتی ہے۔ لیکن بچے رشتے داروں کو نہیں پہچان پاتے کیونکہ وہ ان سے نا آشنا نہیں ہوتے۔ماہرین کے مطابق بچوں کا دماغ 7 سال کی عمر میں پختہ ہوتا ہے اور وہ 7 سال کی عمر سے چیزوں کو یاد رکھنا شروع کردیتے ہیں۔


Top