عراق میں پہلی دفعہ یورپی خاتون کو پھانسی کی سزا ۔۔۔وجہ کیا بنی ؟جان کر آپ بھی عراقی عدالت کے فیصلے پر داد دیں گے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > انٹر نیشنل > عراق میں پہلی دفعہ یورپی خاتون کو پھانسی کی سزا ۔۔۔وجہ کیا بنی ؟جان کر آپ بھی عراقی عدالت کے فیصلے پر داد دیں گے

عراق میں پہلی دفعہ یورپی خاتون کو پھانسی کی سزا ۔۔۔وجہ کیا بنی ؟جان کر آپ بھی عراقی عدالت کے فیصلے پر داد دیں گے

بغداد (ویب ڈیسک)داعش کے آغاز سے ہی ایک چیز جو دنیا کو حیران کر دینے والی سامنے آئی تھی وہ یہ تھی کہ اس تنظیم میں قابل اور پڑھے لکھے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اس کے علاوہ مغربی ممالک سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے داعش میں قدم رکھا اور اب عراق میں عدالت نے
اتوار کے روز ایک مراکشی نژاد جرمن عورت کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ خاتون پر شام اور عراق میں داعش تنظیم سے تعلق رکھنے اور اس کو مدد پیش کرنے کا الزام ہے۔سپریم جوڈیشنل کونسل کے ترجمان بیرسٹر عبدالستار بیرقدار نے بتایا کہ سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ملزمہ نے دہشت گرد تنظیم کو مجرمانہ کارروائیوں کے ارتکاب کے واسطے لوجسٹک سپورٹ اور مدد پیش کی۔ علاوہ ازیں اس کو عراقی سکیورٹی فورسز اور فوج پر حملوں میں شرکت کے حوالے سے بھی قصور وار ٹھہرایا گیا۔یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی عدلیہ نے کسی یورپی عورت کو سزائے موت سنائی ہے۔ملزمہ کی عمر اور گرفتاری کے مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ بیرقدار کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزمہ نے جرمنی سے شام اور پھر عراق کا سفر کرنے کا اعتراف کیا۔ اس کے ساتھ دو بیٹیاں بھی تھیں جن کی شادی دہشت گرد تنظیم کے ارکان سے ہوئی۔عراقی عدلیہ نے ستمبر 2017 میں پہلی مرتبہ داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک روسی جنگجو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اسے موصل شہر کو واپس لینے کے لیے ہونے والے معرکے کے دوران گرفتار کیا گیا۔جولائی 2016 میں جرمن عدلیہ نے اعلان کیا کہ عراقی حکام نے موصل میں داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر جرمن لڑکی (16 برس) کو گرفتار کیا ہے۔جرمن جریدے ” Der Spiegel” کے مطابق مذکورہ لڑکی بغداد میں تین
جرمن لڑکیوں کے ساتھ زیر حراست تھی جو گزشتہ سالوں کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ جُڑ گئی تھیں۔ ان تمام کو 10 جولائی کو گرفتار کیا گیا۔جریدے کا کہنا ہے کہ جرمن سفارت کار بغداد ایئرپورٹ کی جیل میں ان چاروں عورتوں سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جریدے کے مطابق ان میں ایک خاتون مراکشی نژاد اور دوسری کا تعلق چیچنیا سے ہے تاہم وہ جرمن پاسپورٹ کی حامل ہے ۔دسمبر 2017 میں عراقی حکام نے دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت کے 38 مجرموں کو پھانسی دی۔عراقی حکام نے سرکاری طور پر ابھی تک اُن مسلح افراد کی مجموعی تعداد کا اعلان نہیں کیا جو جون 2014 میں داعش تنظیم کی طرف سے قبضے میں لیے جانے والے علاقوں کی واپسی کے واسطے شروع کی جانے والی کارروائیوں کے بعد سے گرفتار ہوئے۔خیال رہے کہ عراقی عدلیہ نے کسی یورپی عورت کو سزائے موت سنائی ہے۔ملزمہ کی عمر اور گرفتاری کے مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ بیرقدار کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزمہ نے جرمنی سے شام اور پھر عراق کا سفر کرنے کا اعتراف کیا۔ اس کے ساتھ دو بیٹیاں بھی تھیں جن کی شادی دہشت گرد تنظیم کے ارکان سے ہوئی۔عراقی عدلیہ نے ستمبر 2017 میں پہلی مرتبہ داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک روسی جنگجو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اسے موصل شہر کو واپس لینے کے لیے ہونے والے معرکے کے دوران گرفتار کیا گیا۔جولائی 2016 میں جرمن عدلیہ نے اعلان کیا کہ عراقی حکام نے موصل میں داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر جرمن لڑکی (16 برس) کو گرفتار کیا ہے


Top