’’ یہ لو 10ہزار ڈالر اور ۔۔۔‘‘ 1980 میں دبئی کے حاکم ’ شیخ زید بن سلطان النہیان ‘ نے مرتضی بھٹو کو کیا آفر کرائی، پی آئی اے کا جہاز اغوا کر کے افغانستان کیوں لیجایا گیا؟ سالوں بعد سارا کچا چٹھہ کھل گیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > انٹر نیشنل > ’’ یہ لو 10ہزار ڈالر اور ۔۔۔‘‘ 1980 میں دبئی کے حاکم ’ شیخ زید بن سلطان النہیان ‘ نے مرتضی بھٹو کو کیا آفر کرائی، پی آئی اے کا جہاز اغوا کر کے افغانستان کیوں لیجایا گیا؟ سالوں بعد سارا کچا چٹھہ کھل گیا

’’ یہ لو 10ہزار ڈالر اور ۔۔۔‘‘ 1980 میں دبئی کے حاکم ’ شیخ زید بن سلطان النہیان ‘ نے مرتضی بھٹو کو کیا آفر کرائی، پی آئی اے کا جہاز اغوا کر کے افغانستان کیوں لیجایا گیا؟ سالوں بعد سارا کچا چٹھہ کھل گیا

لاہور (نیوز ڈیسک) فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب میں کئی انکشافات کیے ہیں، جن میں وہ اپنے والد کے معاشقے کا بھی خاصا ذکر کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔روزنامہ خبریں کے مطابق کتاب SONGS OF BLOOD AND AWORD (لہو اور تلوار کے گیت) میں انہوں نے اپنے والد، ان کے معاشقے

کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا ہے اور والد کو دہشتگردی کے الزامات سے بری الذمہ قرار دلوانے کی کوشش کی ہے، اپنے خاندان کے بارے میں لکھتے ہوئے فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ جب بینظیر بھٹو ن ے 1988ءمیں وطن واپسی کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے ضیاءالحق کو یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ وہ حکومت کے لئے نہیں بلکہ ایم آر ڈی کے لئے خطرہ ہوں گی۔ فاطمہ بھٹو بتاتی ہیں کہ ان کے والد کو شام اور لیبیا سے کتنے ہتھیار ملے اور ایک ایسا موقع بھی تھا کہ جب ان کے والد اسلحہ سے بھرا ہوا جہاز لے کر کابل پہنچے۔ وہ لکھتی ہیں کہ دبئی کے بادشاہ شیخ زید بن سلطان النہیان نے ان کے والد کو مسلح جدوجہد کرنے سے منع کیا اور صرف 10ہزار ڈالر کی امداد کی۔ ان کے والد شیخ زید بن سلطان کی رقم کو اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے تھے اسی لئے اس رقم سے اپنی گرل فرینڈ ڈیلارونک کے لئے رولیکس گھڑی کا تحفہ خرید لیا۔ الذوالفقار نامی تنظیم کی طرف سے پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے کے بارے میں کہتی ہیں کہ سلام اللہ ٹیپو ہمیشہ سے مشکوک تھے اور وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ کابل میں الذوالفقار کے تربیتی کیمپ میں مرتضیٰ بھٹو سے مل چکے تھے۔فاطمہ بھٹولکھتی ہیں کہ سلام اللہ ٹیپو نے دو مرتبہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے کی تجویز پیش کی لیکن ان کے والد نے ہر بار یہ تجویز مسترد کردی۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کو پی آئی اے کے طیارے کے اغوا کا پتہ اس وقت چلا جب انہیں کابل ہوائی اڈے کے ائیرکنٹرول ٹریفک سے کال موصول ہوئی۔ وہ لکھتی ہیں کہ طیارہ اغوا کرنے کا فیصلہ ان کے والد کا نہیں بلکہ سلام اللہ ٹیپو کا ذاتی تھا۔ فاطمہ بھٹو طیارے کے اغوا سے پیدا ہونے والی مشکلات کا الزام بھی بینظیر بھٹو کو دہتی ہیں جنہوں نے طیارے کے اغوا کی خبر پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’ہمارے لوگوں نے یہ کارنامہ کردکھایا ہے۔‘ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ انہوں نے جب بھی ’وڈی بوا‘ کے دوستوں سے طیارے کے اغوا کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو جواب ملا ’نہیں نہیں بینظیر تو ہمیشہ پرامن سیاسی جہدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔‘ یہ بتائے بغیر کہ وہ بینظیر بھٹو کی کس دوست سے ملیں وہ اپنا فیصلہ دیتی ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ جب ان کے والد واپس پاکستان پہنچ گئے اور انہیں تمام الزامات سے باعزت بری کردیا گیا تب بھی ان کی پھوپھی انہیں جیل سے رہا نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فوج کی طرف سے مرتضیٰ بھٹو کو ’ہیرو‘ نہ بنانے کے مشورے پر رہا کیا گیا۔ فاطمہ بھٹو جب اپنے باپ کی موت کا احوال بیان کرتی ہیں تو اس وقت ان کا انداز بیان زوردار واور جذباتی ہوجاتا ہے اور وہ بتاتی ہیں کہ سترکلفٹن کے باہر جب ان کے والد کے قافلے پر پولیس نے حملہ کیا تو وہ زخمی ضرور ہوئے لیکن ہلاک نہیں ہوئے اور پولیس نے ان کو اپنی ایک گاڑی میں ڈال کر گولی ماری اور پھر کراچی کے مڈ ایسٹ ہسپتال کے دروازے پر پھینک دیا۔ وہ لکھتی ہیں کہ مڈ ایسٹ ہسپتال میں ایمرجنسی کے کیسز سے نمٹنے کا تجربہ تھا نہ ہی یقین تھا۔ فاطمہ بھٹو نے پاکستان کے سابق صدر فاروق احمد لغاری کے حوالے سے لکھا ہے کہ آصف زرداری نے انہیں کہا تھا کہ اس ملک میں یا میں رہ سکتا ہوں یا مرتضیٰ بھٹو۔ کتاب میں فاطمہ بھٹو اپنی زندہ پھوپھی صنم بھٹو کا صرف ایک بار لکا سا ذکر کرتی ہیں اور بینظیر بھٹو کی اولاد کا وہ سرے سے نام لینا بھی پسند نہیں کرتیں۔


Top