یہ لوگ حضور ؐ کی عزت پر پہرہ دینے کا دعویٰ کس منہ سے کرتے ہیں جبکہ خود ان کا حال یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ توفیق بٹ نے بات کا بتنگڑ بنا کر ملکی حالات خراب کرنے والوں کو آئینہ دکھا دیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسلامی واقعات > یہ لوگ حضور ؐ کی عزت پر پہرہ دینے کا دعویٰ کس منہ سے کرتے ہیں جبکہ خود ان کا حال یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ توفیق بٹ نے بات کا بتنگڑ بنا کر ملکی حالات خراب کرنے والوں کو آئینہ دکھا دیا

یہ لوگ حضور ؐ کی عزت پر پہرہ دینے کا دعویٰ کس منہ سے کرتے ہیں جبکہ خود ان کا حال یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ توفیق بٹ نے بات کا بتنگڑ بنا کر ملکی حالات خراب کرنے والوں کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک)کچھ شرپسند مولوی بار بار یہ فرماتے ہیں ”ہم حضور کی عزت پر پہرہ دینے والے لوگ ہیں “ …. میں سمجھتا ہوں حضور کی عزت ان شرپسندوں کے پہرے کی ہرگز محتاج نہیں ہے۔ ویسے بھی جن کی اپنی عزت داﺅ پر لگی ہو، جن کی وجہ سے ملک، معاشرے اور ریاست کی عزت داﺅ پر لگی ہو،

نامور کالم نگار تو فیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بلکہ سچ پوچھیں تو جن کی وجہ سے دین اسلام کی عزت داﺅ پر لگی ہو، وہ حضورﷺ کی عزت پر پہرہ دینے کے لائق کیسے ہوسکتے ہیں ؟۔ آپﷺ کے اعمال ہی آپﷺ کی عزت کے لیے کافی ہیں۔ آپﷺ انسانوں کے حقوق کا کتنا خیال کرتے تھے اس ضمن میں چند واقعات ان شرپسند مولویوں کی خدمت میں ایک بار پھر اس امید کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔ ان واقعات کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوگا، اگر صحیح معنوں میں یہ شرپسند مولوی، آپ کے اعمال کے مطابق زندگی بسر کرنا شروع کردیں ان کی ہرقسم کی دکانیں، ہرقسم کے کاروبار بند ہوجائیں گے، لہٰذا وہ وہی کچھ کریں گے جو ان کی فطرت کے عین مطابق ہے کہ یہ بھی آپﷺ نے ہی فرمایا تھا ”اگر کوئی مجھ سے کہے احد(پہاڑ) اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے، میں مان لوں گا، لیکن کوئی یہ کہے کسی انسان کی فطرت تبدیل ہوگئی ہے میں نہیں مانوں گا“ ۔….آپ دوسروں کے جذبات کا کس قدر احترام کرتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے آپﷺ فرماتے ” میں نماز لمبی کرنا چاہتا ہوں مگر پیچھے سے مجھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے

تو اس کی ماں کا خیال کرکے نماز مختصر کردیتا ہوں“،…. آپ جب کسی کو حاکم بناکر کسی جگہ بھیجتے تو فرماتے ”لوگوں کو خوشخبری دے کر اسلام سے مانوس کرنا، انہیں ڈرا دھمکا کر اسلام سے متنفر نہ کرنا، ان کے لیے آسانی پیدا کرنا، مشکل پیدا نہ کرنا “،…. اس کے برعکس ہمارے کچھ شرپسند مولوی ہمارے دین کو ”دہشت“ کی ایک علامت بناکر اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے ان کا مقصد لوگوں کو دین اسلام کے قریب کرنا نہیں، دین اسلام سے دور کرنا ہے، …. میں نے بے شمار مولویوں سے یہ سنا ہے ”روز قیامت بال سے باریک تار ہوگی، نیچے آگ کا سمندر ہوگا، اس تار پر چلنا ہوگا، اور پھر انسان آگ کے اس سمندر میں پھینک دیئے جائیں گے “،…. اپنی تقریروں اور وعظوں سے یہ شرپسند مولوی اپنی طرف سے شاید یہ ثابت یا ظاہر کرنا چاہتے ہیں اللہ نے صرف دوزخ ہی بنائی ہے اور جنت اگر بنائی بھی ہے تو اس کی کنجی ان شرپسند مولویوں کے ہاتھ میں دے دی ہے، جس کو پارسائی کا یہ سرٹیفکیٹ دیں گے وہ جنت میں چلا جائے گا، جس کو نہیں دیں گے وہ دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ شرپسند مولوی لوگوں کو یہ نہیں بتاتے کہ ہمارے دین اسلام نے انسانوں کے لیے کتنی آسانیاں پیدا کی ہیں۔

وہ یہ نہیں بتاتے سلام میں پہل کرنے والے کو کتنی نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، …. وہ یہ نہیں بتاتے راستے سے پتھر ہٹانا ، جو ایک معمولی اور عام سی بات ہے، کا کتنا اجر ہے، …. وہ یہ نہیں بتاتے کہ بیماروں اور مسافروں کے لیے روزے اور نماز کی کتنی چھوٹ ہے، …. وہ یہ نہیں بتاتے کوئی انسان اللہ سے جب کوئی دعا مانگتا ہے اور کسی وجہ سے جو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ دعا پوری نہیں ہوتی، تو اس کے بدلے اللہ اس انسان کے کتنے گناہ معاف فرما دیتا ہے، …. وہ یہ نہیں بتاتے آپ نے ارشاد فرمایا ”سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اس کا مسلمان بھائی محفوظ رہے“ ،….آپ نے کسی شخص کی کسی برائی کا ذکر کرنا ہوتا کبھی اس کا نام نہ لیتے، ہمیشہ یہ فرماتے ”لوگوں کا کیا حال ہوگیا ہے وہ یہ کہتے ہیں یا وہ یہ کرتے ہیں “،….حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک بار آپ نے فرمایا ” خدا کے نزدیک سب سے بُرا شخص وہ ہے جس کی برائی کے ڈر سے لوگ اسے چھوڑ دیں“،…. ایک بار اُم المومنین حضرت زینبؓ نے حضرت صفیہؓ کو یہودیہ کہہ دیا۔آپ کو اس کا دلی صدمہ ہوا، آپ نے کئی روز حضرت زینبؓ سے کلام نہ فرمایا،

آپ لوگوں کی دل آزاری سے کس قدر گریز فرماتے تھے اس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے آپ کا ارشاد مبارک تھا ”اگر تین آدمی کسی مجلس میں ہوں تو دو الگ ہوکر باہم سرگوشی نہ کریں، اس سے تیسرے آدمی کی دل آزاری ہوگی“،…. آپ کے نزدیک کسی مسلمان کو گالی دینا بدترین عمل اور اسے کافر کہنا کفر کے مترادف تھا۔ آپ اکثر فرماتے”تم میں جو شخص بازار میں آئے اور اس کے ہاتھوں میں تیر ہو تو وہ اس کی نوک والی سمت اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھے ایسا نہ ہو وہ کسی مسلمان کو لگ جائے“،…. میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا، میرے آنسو نہیں تھمتے جب بھی میں یہ پڑھتا ہوں کہ ”ایک بار آپ ایک مجلس میں تشریف لائے۔ وہاں ایک شخص ادھراُدھر کی باتیں کرکے لوگوں کو ہنسارہا تھا، آپ نے پیار سے اس کی کمر میں لکڑی چبھودی۔وہ کہنے لگا ”یارسول اللہ میں آپ سے بدلہ لینا چاہتا ہوں“۔….آپ نے فوراً اپنی قمیض اٹھادی۔اس پر اس شخص نے اٹھ کر آپ کی کمر مبارک کو بوسہ دیا اور کہا ” میں صرف یہی چاہتا تھا“۔…. جہاں تک مروت اور احسان کا تعلق ہے آپ اس ضمن میں بھی اپنے اور بیگانے میں کوئی فرق نہ رکھتے، آپ مشرکین کے تحائف تک قبول کرلیتے تھے اور بدلے میں انہیں بھی تحائف دیتے تھے۔

کوئی یہودی رضاکارانہ طورپر آپ کی خدمت کرنا چاہتا آپ اسے ہرگز منع نہ فرماتے۔ کچھ یہودی آپ کی شان میں گستاخی فرماتے تو آپ ہمیشہ درگزر اور تحمل سے کام لیتے، فتح مکہ کے بعد آپ نے اپنے بدترین اور جانی دشمنوں کو معاف کرکے انسانی عظمت کا بے مثال نمونہ پیش کیا،…. حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں ”ایک بار میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا، آپ کے جسم پر گاڑھے حاشیے والی چادرتھی، ایک بدونے وہ چادر اس زور سے کھینچی آپ کے مبارک کندھے پر نشان پڑ گیا، پھر وہ نہایت بدتمیزی سے کہنے لگا ” اے محمد میرے ان دو اونٹوں پر مال لدوادو اور یہ سن لو یہ مال تمہارا ہے نہ تمہارے باپ کا “ ….آپ اس کی بیہودہ گفتگو سن کر پہلے تو خاموش رہے، پھر فرمایا ” مال تو اللہ کا دیا ہوا ہے، میں اس کا بندہ ہوں لیکن تم نے جو بدتمیزی کی ہے اس کا بدلہ تو لیا جاسکتا ہے“۔…. اس شخص نے فرمایا ” رسول اللہ آپ کی بات تو درست ہے مگر میں جانتا ہوں آپ ایسا نہیں کریں گے“، آپ نے پوچھا ” تمہیں کیوں یقین ہے میں ایسا نہیں کروں گا ؟“۔…. وہ شخص بولا ” اس لیے کہ آپ بدلہ نہیں لیتے، آپ برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے“۔ …. آپ اس شخص کی یہ بات سن کرمسکرا دیئے اور حکم دیا اس بدو کے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجوریں لاد دی جائیں “…. کیا آپ کے ساتھ عقیدت محبت اور آپ کی عزت کے پہرادار ہونے کے دعویدار کچھ شرپسند مولوی ان حقائق کو جھٹلا سکتے ہیں؟…. اب بھی وقت ہے اپنے اعمال کو آپ کے اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کی وہ کوشش کرلیں، ورنہ ریاست یا حکومت ان کے جرائم کے مطابق کوئی سزا انہیں نہ بھی دے سکی روز محشر آپ کا سامنا کرتے ہوئے کم ازکم اس حوالے سے وہ ضرور شرمندہ ہوں گے کہ محسن انسانیت کی امت کو وہ اذیت دیتے رہے !(ش س م)


Top