حضوراکرم ؐ نے پیٹ کے بل سونے سے کیوں منع فرمایا ؟ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسلامی واقعات > حضوراکرم ؐ نے پیٹ کے بل سونے سے کیوں منع فرمایا ؟

حضوراکرم ؐ نے پیٹ کے بل سونے سے کیوں منع فرمایا ؟

لاہور(ویب ڈیسک)آج کل کی مصروف زندگی انسان کو بہت تھکا دیتی ہے اور دن بھر کے مصروف دن کے بعد جب رات میں بستر نظر آتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ بس اس پر فوراً لیٹ کے سوجائیں۔لہذا کچھ لوگوں کوتھکے ہوئے دن کے بعد جیسے ہی بسترنظر آتا ہے، وہ فوراً الٹے ہوکے اس پر سوجاتے ہیں۔ہر کوئی شخص مختلف طریقے سے سوتا ہے،

کچھافراد زیادہ جگہ لے کے سوتے ہیں، کچھ لوگ بالکل سمٹ کے سوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پیٹ کے بل اوندھے ہوکے سوتے ہیں۔لیکن کیا آپ جانتےہیں کہ پیٹ کے بل سونا کتنا خطرناک ہے؟پیٹ کے بل سونا آپ کی گردن اور پیٹھ کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی نیند میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے ،جس کے باعث اگلے دن آپ کا دن بالکل اچھا نہیں گزرتا اور تھکا تھکا محسوس کرتے ہیں۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں کھیچاؤ پیدا ہوجاتا ہے، جس کے باعث آپ کو سونے میں دقت محسوس ہوتی ہےاور آپ اپنے روٹین کے کام بھی صحیح طور پر سرانجام نہیں دے سکتے ۔پیٹ کے بل سونے سےآپ کے جسم کے کون کون سے حصے متاثر ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہے۔ریڑھ کی ہڈی آپ کے جسم میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اگر یہ صحیح طور پر کام نہیں کرے گی توآپ کا پورا جسم متاثر ہوگا اور آپ کوئی بھی کام صحیح طرح سرانجام نہیں دے سکتے۔اس کےعلاوہ پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کئی سارے حصے سن ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔٭پیٹ کے بل سونے سے گردن بھی متاثر ہوتی ہے،مسلسل الٹے یا

پیٹ کے بل سونے سے آپ کی گردن میں درد بیٹھ جاتا ہے اور آپ آسانی کے ساتھ گردن کو حرکت نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پیٹ کے بل سونے کی بہت زیادہ عادت ہے تو آپ اس طرح سوتے ہوئے تکیے کا استعمال بالکل نہیں کریں، یا اگر کریں بھی تو بالکل پتلے تکیے کا استعمال کریں تاکہاس سےآپ کی گردن میں درد نہیں بیٹھے۔٭ جب آپ صبح سو کے اٹھیں تو اپنی جسم کو اسٹرچ کریں،اس عمل سے آپ کا جسم نارمل ہوجائے گا۔ حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیتے پھر فرماتے :اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ “.اے اللہ مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچائیے جس روز آپ اپنے بندوں کو اٹھائنگے۔حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سوتے تو فرماتے :اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوت “اے اللہ میں آپ کے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور آپ کے نام کے ساتھ مرتا ہوں۔اور جب آپ ﷺ بیدار ہوتے تو فرماتے :الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ”تمام تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے


Top