وضو کے بعد جس کپڑے سے منہ پونچھا جاتا ہے اس کا ایسا فائدہ سامنے آگیا کہ جان کر آپ بھی اس کپڑے کو سنبھال سنبھال کر رکھیں گے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسلامی واقعات > وضو کے بعد جس کپڑے سے منہ پونچھا جاتا ہے اس کا ایسا فائدہ سامنے آگیا کہ جان کر آپ بھی اس کپڑے کو سنبھال سنبھال کر رکھیں گے

وضو کے بعد جس کپڑے سے منہ پونچھا جاتا ہے اس کا ایسا فائدہ سامنے آگیا کہ جان کر آپ بھی اس کپڑے کو سنبھال سنبھال کر رکھیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) احاد یث کی کتب میں وضو کے کپڑے کی اہمیت پر متعدد روایات موجود ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس ایک کپڑا رکھتے تھے۔ جس سے وضوکے بعد اعضاء وضو کو خشک کیا کرتے تھے اور روایت کیا گیا ہے کہ علقمہ نامی ایک سفید کپڑا اپنے پاس رکھتے تھے۔جس سے منہ کو پونچھا کرتے تھے۔

حضرت معاذؓ سے منعقول ہے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وضو کرنے کے بعد کپڑے کے کونے سے اپنا منہ مبارکپونچھا کرتے تھے۔ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص لایا جائے گا اور اس کے اعمال وزن کیے جائیں گے تو اس کی برائیاں بھلائیوں پر غالب آجائیں گی اور بدیوں کا پلہ جھکجائے گا ،اتنے میں وہ کپڑا لایا جائے گا جس سے یہ دنیا میں اپنے منہ اور اعضاء وضو کوپونچھتا تھا ۔فرشتے اس کپڑے کو نیکیوں کے پلے میں رکھ دیں گے اور نیکیوں کا پلہ جھک جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اعضاء وضو کو کپڑے سے پونچھنا مکروہ نہ جانتے تھے۔ وضو کے دوران منہ کو دھویا جاتا ہے، پاک کیا جاتا ہے، مسواک کا اتنا اہتمام بتلایا گیا کہ مسواک کے ساتھ پڑھی گئی نماز بغیر مسواک کے پڑھی گئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ آج اگر سائنس کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو انسان کا منہ اس کے لئے غذا کے اندر لے جانے کا ایک راستہ ہوتا ہے، اس کا Crushing Unit ہے۔ جب انسان کھانا کھاتا ہے،اگر منہ کو صاف نہ کرے اور اس میں کچھ (ذرّات) Residues بچ جائیں تو ان (ذرّات) میں کچھ عرصہ کے بعد بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔گوشت اور غذا کے کچھ باریک ٹکڑے پھنس جائیںتو ان میں Fermentation پیدا ہوجاتی ہے۔ اب یہ دانتوں کے لئے نقصان دہ ہے اور ویسے بھی منہ کے اندر بدبو مچائیں گے اور منہ کے اندر جراثیم پیدا کریں گے اور پھر اسی گندادہنی کے ساتھ اگر وہ بندہ اگلا کھانا کھائے گا تو یہ منہ کی گندگی بھی Food (خوراک) کے ساتھ اس کے معدہ میں چلی جائے گی۔ انسان کے دانتوں کے اندر جو جگہیں ہوتی ہیں، وہاں جراثیم نے اپنی کالونیز بنائی ہیں۔ لاکھوں کے حساب سے جراثیموہاں پرورش پارہے ہوتے ہیں۔اب جو آدمی اپنے منہ کو صاف نہیں کرتا، وہ اپنی Food (غذا) کے ساتھ بیماریوں کے جراثیم خود اندر لے جارہا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بیمار کرنے کا ذریعہ بنارہا ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں اور ہر مرتبہ مسواک کے ساتھ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔آپ مجھے کوئی بندہ دُنیا میں بتادیں، جو دن میں پانچ مرتبہ برش کرکے اپنے دانتوں کو پانچ مرتبہ صاف کرتا ہو؟ دُنیا میں سب سے زیادہ صاف رہنے والا غیر مسلم بھی دن میں دو یا تین مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرے گا۔دن میں پانچ مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرنے اور اپنے دانتوں کو برش کرنے کی سعادت کس کو نصیب ہے، یہ فقط مسلمان کو نصیب ہے۔ اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ایک وقت تھا کہ جب باہر کے ملک کا سفر کیا جاتا تھا تو لوگ اُس وقت کہتے تھے کہ صبح جانے سے پہلے برش کیا جانا چاہئے۔


Top