حضرت علی کی والدہ کی وفات پر حضور کاعمل – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > حضرت علی کی والدہ کی وفات پر حضور کاعمل

حضرت علی کی والدہ کی وفات پر حضور کاعمل

سید نا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی محمد عبداللہ مدنی : سید نا حضرت علی رضی اللہ عنہ

کی والدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قمیض مبارک کفن کے لئے دی آپ اس کی قبر میں بھی اترے قبرمیں میت کو کس کس نے اتارا؟محدث طبرانی(360ھروایت کرتے ہیں ۔ترجمہ:۔”حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبر میں اتارا“۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تو سب ہاشمی تھے ،ایک بطن سے تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تو ہاشمی نہ تھے قریش کے بطن بنوتیم میں سے تھے ،حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اس انداز میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہونا ان کے باہمی انس ومودت کا پتہ دیتا ہے ،غم کے مواقع پر حقیقت بولتی ہے دل ایک دوسرے کی طرف کھینچتے ہیں غم کے لمحے منافقت کے سائیں میں بسر نہیں ہوتے ان سے حقیقی تعلقات کا پتہ چلتا ہےاورغربت اور رزق کی بندش توڑنے والا ایسا طاقتورروحانی وظیفہ جو دنوں میں تقدیر بدل ڈالے گا کون ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ اسکی آمدن میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے۔خاص طور پر جن لوگوں کو تنگ دستی کا سامنا ہوتا ہے کون ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ اسکی آمدن میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے۔خاص طور پر جن لوگوں کو تنگ دستی کا سامنا ہوتا ہے یا جو یکایک نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ایسے لوگ جن کی ترقی نہیں ہوتی ،مہنگائی اور دیگر ضرورتوں کی وجہ سے ان کا ہاتھ تنگ ہوجاتا ہے۔ان میں سے بہت ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ مالی تنگ دستی کی وجہ سے وہ سڑکوں پر بھیک مانگنے پر بھی مجبور ہوجاتے ہیں،قرض لیتے ہیں لیکن پھر ادا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔مالی حالات انہیں خودکشی پر مجبور کردیتے ہیں۔موجودہ حالات میں جب گھر کا ایک فرد کمائے گا تو مالی حالات بلاشبہ خراب تر رہیں گے۔ایسے تمام لوگ یہ وظیفہ پڑھا کریں ،انشا اللہ چالیس روز تک روزانہ شام مغرب کے بعد اکیالیس سو بار پڑھنا معمول بنا لیں اور سجدے میں سر گرا کر ایک سو بار پڑھنے کے بعد اللہ سے دعا کیا کریں ۔وظیفہ یہ ہے۔یا وہاب یا رزاقاکیالیس دن پڑھنے کے بعد روزانہ سو بار پڑھا کریں۔ان شاء اللہ مراد پوری ہوگی


Top