جھوٹ کی اجازت کے مواقع – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > جھوٹ کی اجازت کے مواقع

جھوٹ کی اجازت کے مواقع

بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کی بھی اجازت دیدی ہے، لیکن وہ مواقع ایسے ہیں کہ جہاں انسان اپنی جان بچانے کے لئے جھوٹ بولنے پر مجبور ہوجائے، اور جان بچانے کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو، یا کوئی ناقابلِ برداشت

ظلم اور تکلیف کا اندیشہ ہو کہ اگر وہ جھوٹ نہیں بولے گا تو وہ ایسے ظلم کا شکار ہوجائے گا جو قابلِ برداشت نہیں ہے، اس صورت میں شریعت نے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ البتہ اس میں بھی حکم یہ ہے کہ پہلے اس بات کی کوشش کرو کہ صریح جھوٹ نہ بولنا پڑے بلکہ کوئی ایسا گول مول لفظ بول دو، جس سے وقتی مصیبت ٹل جائے جس کو شریعت کی اصطلاح میں ’’تعریض اور توریہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا لفظ بول دیا جائے جس کے ظاہری طور پر کچھ اور معنی سمجھ میں آرہے ہیں اور حقیقت میں دل کے اندر آپ نے کچھ اورمراد لیا ہے، ایسا گول مول لفظ بول دو تاکہ صریح جھوٹ نہ بولنا پڑے۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جھوٹ سے اجتناب:ہجرت کے موقع پر جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمارہے تھے۔ تو اس وقت مکہ والوں نے آپ کو پکڑنے کے لئے چاروں طرف اپنے ہرکارے دوڑا رکھے تھے۔ اور یہ اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص حضور اقدس ﷺ کو پکڑکر لائے گا اس کو سواونٹ انعام کے طور پر دیئے جائیں گے، اب اس وقت سارے مکہ کے لوگ آپ کی تلاش میں سرگرداں تھے، راستے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جاننے والاایک شخص مل گیا، وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جانتا تھا مگر حضور اقدس ﷺ کو نہیں جانتا تھا۔

اس شخص نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں ؟ اب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ آپ کے بارے میں کسی کو پتہ نہ چلے، اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمنوں تک آپ کے بارے میں اطلاع پہنچ جائے۔ اب اگر اس شخص کے جواب میں صحیح بات بتاتے ہیں تو آپ ﷺ کی جان کا خطرہ ہے، اور اگرنہیں بتاتے تو جھوٹ بولنا لازم آتا ہے۔ اب ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کی رہنمائی فرماتے ہیں ، چنانچہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ: ہٰذَا الرَّجُلُ یَہْدِیْنِیْ السَّبِیْلَ۔ یہ میرے رہنما ہیں جو مجھے راستہ دکھاتے ہیں، صحیح بخاری، کتاب مناقب الانصار۔ باب ہجرۃ النبی ﷺ۔ حدیث نمبر:۳۹۱۱)اب آپ نے ایسا لفظ ادا کیا جس کو سن کر اس شخص کے دل میں خیال آیا کہ جس طرح عام طور پر سفر کے دوران راستہ بتانے کے لئے کوئی رہنما ساتھ رکھ لیتے ہیں ، اس قسم کے رہنما ساتھ جارہے ہیں ، لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دل میں یہ مراد لیا کہ دین کا راستہ دکھانے والے ہیں ، جنت کا راستہ دکھانے والے ہیں ، اللہ کا راستہ دکھانے والے ہیں ۔اب دیکھئے کہ اس موقع پر انہوں نے صریح جھوٹ بولنے سے پرہیز فرمایا۔ بلکہ ایسا لفظ بول دیا جس سے وقتی کام بھی نکل گیا اور جھوٹ بھی نہیں بولنا پڑا۔جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ یہ فکر عطا فرمادیتے ہیں کہ زبان سے کوئی کلمہ خلافِ واقعہ اور جھوٹ نہ نکلے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح مدد بھی فرماتے ہیں


Top