حاجی عبدالوہاب۔۔۔ پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ کے مقدس کام کو عام کرنے والے خود کتنی بڑی شخصیت تھے؟ جان کر آُپ ان کی خدمات کو سلام پیش کریں گے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسلامی واقعات > حاجی عبدالوہاب۔۔۔ پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ کے مقدس کام کو عام کرنے والے خود کتنی بڑی شخصیت تھے؟ جان کر آُپ ان کی خدمات کو سلام پیش کریں گے

حاجی عبدالوہاب۔۔۔ پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ کے مقدس کام کو عام کرنے والے خود کتنی بڑی شخصیت تھے؟ جان کر آُپ ان کی خدمات کو سلام پیش کریں گے

آہ۔۔۔گذشتہ دنوں اسلام اور ملک و ملت کے عظیم محافظ حضرت مولانا سمیع الحق کی مظلومانہ شہادت کے بعد عالم اسلام کو تبلیغی جماعت کے عالمی امیر حاجی عبدالوہاب کی وفات کی صورت میں ایک اور صدمہ کو سہنا پڑا ۔۔۔۔اور حاجی عبدالوہاب 75 سال یعنی پون صدی دعوت و تبلیغ کے اس مقدس کام پر لگانے کے

پر لگانے کے بعد لاکھوں لوگوں کی ہدایت ،ہزاروں لوگوں کے ایمان کا ذریعہ بننے اور انسانیت کی خدمت کے تمغے سجائے اللہ تعالیٰ کی بارہ گاہ میں سرخرو ہوگئے ۔حاجی عبدالوہاب کی تمام زندگی بانی تبلیغ جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ کے مقدس کام کو عام کرنے میں گذری آپ کی وفات سے دعوت و تبلیغ اور نیکی و خیر کا ایک روشن باب بند ہوگیا حاجی عبدالوہاب کی ایمان افروز روشن زندگی اور لاکھوں لوگوں کی آپ کی نماز جنازہ میں شرکت قابل رشک ہے۔آج پوری دنیا میں رائیونڈ کی پہچان اور شناخت دعوت و تبلیغ والے اس مقدس کام اور تبلیغی جماعت کے حوالہ سے ہے ، حاجی عبدالوہاب ہندوستان کے ضلع کرنال میں 1922ء میں پیدا ہوئے گریجویشن اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے کیا اور پھر تحصیلدار بھرتی ہوگئے آپ راجپوت فیملی سے تعلق رکھتے تھے بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلوی سے ملاقات ہوئی اور ان کی خلوص بھری باتیں ان کے دل و دماغ میں ایسے نقش ہوئیں کہ پھر تحصیداری چھوڑ کر اپنے آپ کو دعوت و تبلیغ والے اس کام سے وابستہ کر لیااورپھرایسے’’ فنا فی التبلیغ‘‘ ہوئے کہ کھانے پینے، سونے ، پہننے اور آرام سے بے پرواہ ہوکر ہر وقت دعوت و تبلیغ کی فکر ان پر سوار ہوتی اور پوری امت اور انسانیت کے لیے فکرمند ہوکر اکثر فرماتے کہ، پوری انسانیت کی ہدایت کی دعا کرو غیر مسلم بھی اللہ ہی کے بندے ہیں۔آپ اپنی تقریروں میں

کثرت کے ساتھ یہ جملہ ارشاد فرماتے جو کہ آپ کی پہچان بن گیا ہے’’اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین اور غیر اللہ سے کچھ نہ ہونے کا یقین اپنے دلوں میں بٹھالو‘‘۔مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل صاحب کے بقول نبویؐ تڑپ ان کے دل میں تھی بلاشبہ وہ کروڑوں میں ایک تھے وہ قال ہی نہیں حال میں بھی تبلیغی تھے ایک مرتبہ لقمہ ہاتھ میں اٹھایا اور منہ میں ڈالنے کی فکر نہ رہی اور پون گھنٹہ تک دین اور دعوت و تبلیغ کی اہمیت کے حوالہ سے گفتگو فرماتے رہے جہاں حاجی عبدالوہاب حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری کے ہاتھ پر بیعت تھے وہاں وہ شیخ التفسیر امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری سے بھی بیعت اور خلیفہ مجاز تھے ، حاجی عبدالوہاب کی زندگی تبلیغی جماعت کے عظیم راہنماء مولانا محمد عمر پالنپوری کے اس جملہ کی عملی تصویر تھے کہ ’’اس دعوت و تبلیغ والے کام کو کرتے کرتے مرنا ہے اور مرتے مرتے کرنا ہے‘‘حاجی عبدالوہاب کی بھی یہی کیفیت تھی کہ بستر مرگ پر بھی جب آپ کو ہوش آتا تو آپ کی گفتگو اس دعوت و تبلیغ والے کام اور کارگزاری کے حوالہ سے ہو تی آپ بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کی فکر عملی تصویر بن چکے تھے جب کسی جاننے والے نے ایک خط کے ذریعہ مولانا محمد الیاس کاندھلوی ہے ان کی خیریت دریافت کی تو آپ نے سوزودرد میں ڈوبے ہوئے قلم کے ساتھ جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ’’ طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے

اور سب خیریت ہے‘‘ آپ کی بھی یہی کیفیت ہوتی۔آپ نے بھی مولانا محمد الیاس کاندھلوی کی طرح جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھا کہ لوگ شرک و بدعت، جہالت اور ضلالت و گمراہی کے ’’بحرظلمات‘‘ میں ڈوبے ہوئے ہیں تو ان کے دل پر چوٹ لگی اور وہ امت محمدیہ کی اصلاح کے سلسلہ میں متفکر و پریشان دیکھائی دینے لگے، آپ نے محسوس کیا کہ عام دینداری جو پہلے موجود تھی اب ختم ہوتی اور سمٹتی چلی جا رہی ہے، پہلے یہ دین داری خواص تک اور مسلمانوں کی ایک خاص تعداد میں رہ گئی تھی پھر اس کا دائرہ اس سے بھی تنگ ہوا اور ’’اخص الخواص‘‘ میں یہ دینداری باقی رہ گئی ہے پہلے جو خاندان اور قصبات و علاقے اور شہر ’’رشد و ہدایت‘‘ کے مراکز سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اس قدر تیزی کے ساتھ انحطاط و زوال ہوا کہ اب ان کی ’’مرکزیت‘‘ ختم ہوتی جارہی ہے جہاں پہلے علم و عمل کی قندیلیں روشن رہتی تھیں اب وہ بے نور ہیں، دوسری بات آپ نے بھی یہ محسوس کی کہ علم چونکہ ایک خاص طبقہ تک محدود رہ گیا ہے اس لیے آپ یہ چاہتے تھے کہ عوام الناس میںپھر سے دینداری پیدا ہو، خواص کی طرح عوام میں بھی دین کی تڑپ اور طلب پیدا ہو، ان میں دین سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ انگڑائیاں لے، اس کے لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہر ایک دین سیکھے، کھانے، پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی طرح دین سیکھنے او اس پر عمل کرنے کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں اور یہ سب کچھ صرف مدارس و مکاتب اور خانقاہی نظام سے نہیں ہوگا کیونکہ ان سے وہی فیضیاب ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے دین کی طلب ہواور وہ اس کا طالب بن کر خود مدارس و مکاتب اور خانقاہوں میں آئیں، مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں اس لیے حاجی عبدالوہاب ضروری سمجھتے تھے کہ اس ’’دعوت و تبلیغ‘‘ کے ذریعہ ایک ایک دروزاہ پر جا کر اخلاص و للہیت کے ساتھ منت و سماجت اور خوشامد کر کے ان میں دین کے ’’احیائ‘ کی طلب پیدا کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور ماحول سے نکل کر تھوڑا سا وقت علمی و دینی ماحول میں گزاریں تاکہ ان کے دل میں بھی سچی لگن اور دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہوا اور یہ کام اسی دعوت والے طریقہ سے ہوگا جو طریقہ اور راستہ انبیاء کرامؑ کاتھا اور جس پر چلتے ہوئے صحابہ کرامؓ جیسی مقدس اور فرشتہ صفت جماعت پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے میں کامیاب ہوئی اور پھر جب اس دعوت و تبلیغ سے عام فیضاء دینی بنے گی تو لوگوں میںدین کی رغبت اور اس کی طلب پیدا ہوگی تو مدارس و خانقاہی نظام اس سے کہیں زیادہ ہوگا بلکہ ہر شخص مجسمِ دعوت اور مدرسہ و خانقاہ بن جائے گا۔


Top