الہام کیا ہے اور کیسے ہوتا ہے؟ ایمان افروز تحریر – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل سٹوریز > الہام کیا ہے اور کیسے ہوتا ہے؟ ایمان افروز تحریر

الہام کیا ہے اور کیسے ہوتا ہے؟ ایمان افروز تحریر

امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ الہام کے معنی ہیں: “کسی شخص کے دل میں کوئی بات القا کر دینا لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القا کے ساتھ مخصوص ہو چکا ہے جو اللہ تعالٰی کی جانب سے کسی شخص کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔”{مفردات القرآن بذیل

مادہ ‘لھم’}الہام کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں: ایک صورت تو وہ ہے جس میں ہر انسان کے دل میں خیروشر کو پہچاننے کی صلاحیت ودیعت کی گئی ہے اور یہی صلاحیت و استعداد بعض اہل علم کے بقول [فطرت] کہلاتی ہے جبکہ اس کا اللہ تعالٰی کی طرف سے ودیعت کیا جانا [الہام] کہلاتا ہے، قرآن کریم میں اس الہام کی طرف اس طرح اشارہ کیا گیا ہے:وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا۔ فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ”قسم ہے نفس کی اور اسےدرست کرنے کی، پھر اللہ تعالٰی نے اس نفس کو برائی سے بچنے اور پرہیزگاری اختیار کرنے کی سمجھ عطا فرمائی”{سورہ الشمس: 7،8}الہام کی دوسری صورت یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالٰی کی طرف سے کسی نیک صالح مسلمان کے دل میں حالت بیداری میں کوئی اچھی بات ڈال دی جاتی ہے، جس کا تعلق مستقبل کی کسی غیبی بات سے ہوتا ہے۔ اگر یہ الہام انبیاء کی طرف کیا جائے تو یہ بمنزلہ وحی شمار ہوتا ہے، مگر غیر انبیاء کا الہام وحی نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ وحی کے مقابلہ میں انتہائی کمزور اور خواب کے مشابہ ہوتا ہے یعنی ج طرح حالت نیند میں سچے خواب کے ذریعے کسی غیبی امر سے مطلع کر دیا جاتا ہے، اسی طرح حالت بیداری میں بعض اوقات بذریعہ الہام کوئی بات دل میں ڈال دی جاتی ہے اور پھر وہ اسی طرح پیش آتی ہے جس طرح اس کے بارے میں خیال [یا دوسرے لفظوں میں الہام] پیدا ہوتا ہے۔الہام اور وسوسہاللہ تعالٰی نے ہر انسان کے ساتھ

ایک فرشتہ اور ایک شیطان مقرر کر رکھا ہے۔ شیطان انسان کے دل میں وسوسے اور برے خیالات جب کہ فرشتہ اچھے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے۔ جب کسی شخص کے دل میں اچھا خیال آئے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اسے ہی الہام بھی کہا جاتا ہے اور اگر کوئی برا خیال آئے تو پھر وہ شیطان کی طرف سے پیدا کردہ وسوسہ ہوتا ہے۔ انسان کے دل میں وسوسہ یا الہام پیدا کرنے میں فرشتے اور شیطان کی یہ کشمکش مسلسل جاری رہتی ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند احادیث پیش کی جارہی ہیں: ۱۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جن {شیطان} اور ایک فرشتہ ساتھی {ہمزاد} بنا کر مقرر کر دیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ کے ساتھ بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے ساتھ بھی مگر اللہ تعالٰی نے اس شیطان کے خلاف میری مدد فرمائی ہے اور میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے، اسلیے وہ مجھے خیر ہی کا حکم دیتا ہے”{صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان۔۔۔۔۔، ح 2814}۲۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ابن آدم پر شیطان بھی اثر انداز ہوتا ہے اور فرشتہ بھی۔ شیطان اس طرح اثر اندا ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل میں برائی اور حق کی تکذیب ڈالتا ہے اور فرشتہ اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل میں اچھائی اور حق کی تصدیق ڈالتا ہے۔ لہٰذا جس کے ساتھ یہ [فرشتے والا معاملہ] ہو تو وہ اس پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرے اور جس کے ساتھ دوسرا [شیطان والا] معاملہ ہو تو وہ اللہ تعالٰی سے شیطان مردود کی پناہ مانگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت آخر تک تلاوت فرمائی: ‘شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالٰی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے”


Top