جبرائیل علیہ السلام انسان کے بھیس میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے دونوں گھٹنےجوڑ کر بیٹھ گیےاورسوال کیا یارسول اللہ۔۔۔۔۔ وہ وقت جب صحابہ اکرام انجان آدمی کو حضور ﷺ ؛کے اتنا قریب دیکھ کر تجسس میں پڑ گیے، ایمان افروز واقعہ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل سٹوریز > جبرائیل علیہ السلام انسان کے بھیس میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے دونوں گھٹنےجوڑ کر بیٹھ گیےاورسوال کیا یارسول اللہ۔۔۔۔۔ وہ وقت جب صحابہ اکرام انجان آدمی کو حضور ﷺ ؛کے اتنا قریب دیکھ کر تجسس میں پڑ گیے، ایمان افروز واقعہ

جبرائیل علیہ السلام انسان کے بھیس میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے دونوں گھٹنےجوڑ کر بیٹھ گیےاورسوال کیا یارسول اللہ۔۔۔۔۔ وہ وقت جب صحابہ اکرام انجان آدمی کو حضور ﷺ ؛کے اتنا قریب دیکھ کر تجسس میں پڑ گیے، ایمان افروز واقعہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ایک روز ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ۔کہ ایک آدمی ہمارے سامنے نمودار ہوئے۔جن کے کپڑے نہایت سفید اور بال نہایت کالے تھے۔ان پر سفر کا کوئی نشان ظاہر نہ تھا ۔اور ہم میں سے کوئی انہیں

پہچانتا بھی نہ تھا۔حتیٰ کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور اتنے قریب بیٹھے کہ اپنے دونوں گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں شریف سے ملا دئیے۔اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں زانوں پر رکھے۔جیسے نمازی التحیات میں دوزانوبیٹھتا ہے ۔اور عرض کیا۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتا ئیے کہ اسلام کسے کہتے ہیں ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ۔اور نماز قائم کر و،زکوٰة دو ،رمضان کے روزے رکھو،استطاعت ہوتو حج کرو۔وہ شخص کہنے لگے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا صحابہ کرام فرماتے ہیں ۔ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ یہ صاحب پوچھتے بھی ہیں ۔اور تصدیق بھی کرتے ہیں جیسے کہ انہیں پہلے ہی پتا ہو۔پھر انہوں نے عرض کیا کہ اچھا اب ایمان کے متعلق بتائیے کہ ایمان کسے کہتے ہیں ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتوں ۔کتابوں اس کے رسولوں اور قیامت کو مانو،اور اچھی بری تقدیر کو مانو یہ سن کر پھر انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۔پھر پوچھا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب بتائیے کہ احسان کیا ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔اگر یہ نہ ہو سکے تو یہ سمجھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہےانہوں نے پھر عرض کیا کہ قیامت کی خبر دیجیے۔ فرمایا کہ یہ بات تم جس سے پوچھ رہے ہووہ اس کے متعلق تم سے زیادہ خبردار نہیں انہوں نے کہااچھا۔تو قیامت کی کچھ نشانیا ں ہی بتائیے۔فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لونڈی اپنے مالک کو جنے لگی اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں ،بکریوں کے چرواہوں کو محلوں میں فخر کرتے دیکھو گے اس کے بعد وہ صاحب چلے گئے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔میں کچھ دیر ٹھہرا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عمر رضی اللہ عنہ ! جانتے ہو یہ کون تھا ؟میں نے عرض کیا اللہ ورسولہ اعلم ۔اللہ اور اس کا رسول ہی جانے ۔فرمایا۔یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔


Top