محبت کی قیمت ادا کیا کریں گے ۔۔۔۔ نامور کالم نگار نے تین واقعات میں معاشرے کا اصل چہرہ دکھا دیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > منتخب کالم > محبت کی قیمت ادا کیا کریں گے ۔۔۔۔ نامور کالم نگار نے تین واقعات میں معاشرے کا اصل چہرہ دکھا دیا

محبت کی قیمت ادا کیا کریں گے ۔۔۔۔ نامور کالم نگار نے تین واقعات میں معاشرے کا اصل چہرہ دکھا دیا

رائے احمد نواز کھرل : صوبہ پنجاب کی شان اور انگریزوں کوتگنی کا ناچ نچا دینے والے گھبرو جوان کو اسکے اپنے ہی دوستوں نے 10 محرم کے روز غداری کرکے مروا دیا ؟ ملاحظہ کیجیے ایک سچا تاریخی واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک)پہلی مثال:امام زین العابدینؓ، حضرت حسین ؓکے صاحبزادے تھے، واقعہ کربلا کے وقت آپ ؓکی عمر تقریباً بیس بائیس برس تھی، آپ ؓ واحد بالغ مرد تھے جو کربلا کے بعد زندہ بچ گئے۔ مولانا مودودی اپنی کتاب خلافت و ملوکیت میں لکھتے ہیں کہ کربلا کے بعد ایک شخص امام زین العابدین ؓکو چھپا کر اپنے گھر لے آیا،

معروف کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ وہ آپ ؓ کی خاطر مدارت کرتا تھا اور آپ ؓ کی حالت دیکھ دیکھ کر روتا تھا، امام زین العابدین ؓ کو لگتا تھا کہ اِس شخص سے زیادہ اُن کا مخلص اور وفادار کوئی نہیں ہو سکتا، اس دوران ابن زیاد نے منادی کروا دی کہ جو کوئی علی ابن حسین (زین العابدینؓ) کی خبر دے گا یا انہیں پکڑ کر لائے گا اسے تین سو درہم انعام دیا جائے گا، منادی سنتے ہی اُس شخص نے روتے ہوئے آپؓ کے ہاتھ گردن سے باندھے، اسی حالت میں آپ ؓ کو لے کر ابن زیاد کے پاس گیا اور تین سو درہم وصول کرکے گھر آ گیا۔دوسری مثال:واقعہ کربلا کے ردعمل میں جب مکہ اور مدینہ میں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تو اسی یزید نے دوبارہ ان کی سرکوبی کے لیے فوج بھیجی اور اِس کام پر مسلم بن عقبہ کو مامور کیا جس نے مدینے میں خون کی ندیاں بہا دیں، عورتوں سے زیادتی کی اور مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار کی، اس کو واقعہ حرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ’’کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد مدینے کا کوئی شخص اپنی لڑکی کی شادی کرتا تو اس کے باکرہ ہونے کی ذمہ داری نہیں لیتا تھا اور کہتا تھا کہ کیا معلوم حرہ کی جنگ میں اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔‘‘ (حوالہ ’’الفخری‘‘ محمد علی ابن علی ابن طبابا)۔

جو لوگ اس بربریت میں یزید کے ساتھی تھے انہوں نے دولت، اقتدار اور طاقت کی خاطر جانتے بوجھتے ہوئے یہ سب کچھ کیا اور اس بابت کسی قسم کا ابہام اُن کے ذہنوں میں نہیں تھا۔واقعہ کربلا کے بعد کسی مزید مثال کی ضرورت تو نہیں مگر ایک تیسری مثال انگریز کے دور کی لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ 1857میں انگریز فوج کو بھرتی کی ضرورت آن پڑی، اس ضمن میں انہوں نے رائے احمد نواز کھرل سے رابطہ کیا جو اس وقت پنجاب میں کھرل قبیلے کا لیڈر تھا، اُس نے نہ صرف انگریز فوج کی بات ماننے سے انکار کیا بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ وہ تاج برطانیہ کا نہیں بلکہ دلی کے سلطان کا وفادار ہے، انگریزوں کو اس جواب کی ہرگز توقع نہیں تھی، وہاں کے اسسٹنٹ کمشنر کو حکم ہوا کہ جو بھی انگریز سرکار کے حکم کی سرتابی کرے اسے جیل میں ڈال دو چنانچہ ساہیوال کی جیل بے گناہ قیدیوں سے بھر دی گئی، کھرل کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے جیل پر حملہ کرکے قیدیوں کو چھڑا لیا، انگریز سرکار کی رِٹ مٹی میں مل گئی جو انہیں کسی طور منظور نہ تھا۔ انگریزوں نے کھرل کے گھر والوں کو گرفتار کر کے دباؤ ڈالا تاکہ وہ گرفتاری دے اور یہی ہوا، اپنے گھر والوں کی خاطر احمد نواز کھرل نے گرفتاری دے دی مگر اس کا شدید رد عمل ہوا اور انگریزوں کو اسے رہا کرنا پڑا۔ اب یہ ضروری ہو گیا تھا کہ انگریز ایسے خطرناک دشمن سے جان چھڑاتے سو انہوں نے وہی طریقہ آزمایا

جو ٹیپو سلطان کو شکست دینے کے لئے اپنایا تھا، کھرل کے دوستوں میں سے سرفراز کھرل اور نیہان سنگھ بیدی نے غداری کی اور انگریز اسسٹنٹ کمشنر برکلے کو کھرل کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کر دیں، برکلے نے کھرل کو جا لیا، کہتے ہیں کہ اسے گولی اپنے دوست بیدی نے ہی ماری، بالآخر کھرل انگریز فوج سے بے جگری سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔ اس روز دس محرم تھی۔ صرف دو دن بعد کھرل کے دوست مراد فتیانہ نے کھرل کی موت کا بدلہ برکلے کو قتل کرکے لیا۔ تاریخ میں دو قسم کے لوگ ملتے ہیں، پہلی قسم وہ ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹ اور برائی کا ساتھ دیتی ہے، یہ وہی لوگ ہیں جو امام زین العابدین ؓکو پیسوں کے بدلے ابن زیاد کے حوالے کر آتے ہیں،جو یزید کے دست و بازو بن کر مدینے پر چڑھائی کر دیتے ہیں اور جو رائے احمد نواز کھرل کے ساتھ غداری کرکے اپنے دوست کی جان کی قیمت انگریز سرکار سے وصول کرلیتے ہیں۔ یہ واقعات انسانی نفسیات کا خلاصہ ہیں۔ انسان چونکہ بنیادی طور پر خودغرض واقع ہوا ہے سو جو بات اُس کے مفاد میں ہوتی ہے اُسے اپنا لیتا ہے اور جو بات اُس کے ذاتی مفاد سے ٹکراتی ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ ایک شخص کو علم ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے، غلط کیا ہے اور

درست کیا ہے، اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے، مگر اُس شخص کی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ وہ سچائی، اچھائی اور درست بات کا ساتھ چھوڑ کر ابن زیاد کا ساتھ دیتا ہے کیونکہ اُس کا ذاتی مفاد تین سو درہم کے عوض امام زین العابدین ؓ کو ابن زیاد کے حوالے کرنے میں ہے حالانکہ اسے اچھی طرح علم ہے کہ وہ غلط کام کر رہا ہے اسی لئے ساتھ ساتھ روتا بھی جاتا ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو جانے انجانے یا کم علمی کی بنا پر تاریخ کے غلط راستے کا انتخاب کر لیتے ہیں مگراُ ن کی نیت صاف ہوتی ہے، وہ صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ وہ درست سمت میں کھڑے ہیں جبکہ اُن کے مخالف نظریئے کے حامل افراد باطل کی قوتیں ہیں، چنانچہ خود کو حق پر سمجھتے ہوئے وہ اپنے مخالفوں کو برائی کے ایجنٹ کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ حقیقت میں انہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ خود ایسی بس میں سوار ہیں جس کا بدمست ڈرائیور بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ کرتے ہوئے پہلے ہی چار حادثات کر چکا ہے اور اب بھی اُس نے اپنی روش نہیں بدلی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دوسری قسم کے لوگ نیک نیت ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ منزلِ مقصود تک پہنچنا چاہتے ہیں تو پھر وہ بدمست ڈرائیور کی بس میں کیوں سوار ہیں، کیا انہیں ڈرائیور کی خلاف قانون حرکتیں نظر نہیں آتیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے۔

دراصل ایسے لوگوں کو یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ تمہیں یہی ڈرائیور منزل تک پہنچا سکتا ہے، لہٰذا اس کے بدمست ہونے کی پروا نہ کرو، کیا ہوا اگر اِس کے پاس لائسنس نہیں یہ بہتیرے لائسنس یافتہ ڈرائیورز سے بہتر ہے، سو آنکھیں بند کرکے اس بس میں سوار ہو جاؤ اور یاد رکھو جو لوگ تمہیں اس بس میں سواری سے روک رہے ہیں دراصل وہ تمہارے دشمن ہیں کیونکہ وہ تمہیں منزل تک پہنچتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ مگر یاد رہے کہ ایسے لوگ بالآخر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیئے جاتے ہیں کیونکہ لا علمی بہرحال کسی غلط کام کا جواز نہیں بن سکتی۔ مسلم بن عقبہ کے ساتھ مل کرمدینہ پر چڑھائی کرنے والے مسلمان تھے، نمازی تھے، امیر کی اطاعت والی دلیل کو ڈھال بنا کر انہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ ظلم عظیم کے مرتکب ہو رہے ہیں، ایک ایسے ظلم کے جس میں ابن زیاد جیسے شخص نے بھی یزید کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔آج ہم لوگوں کی بھی یہی نفسیات ہے، ہم جو دن رات اِس ملک کے لئے ٹسوے بہاتے ہیں، اپنے زریں خیالات سے اخبارات کے صفحے کالے کرتے ہیں، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ملکی حالات کا ماتم کرتے ہیں اور کوئی اینکر ہمارے آگے مائیک کر دے تو چھاتی پیٹ کر وطن کی محبت کی دہائی دیتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم لوگ روتے دھوتے ٹیکس چوری کرتے ہیں، آہیں بھرتے ہوئے ٹریفک سگنل توڑتے ہیں، حب الوطنی کی شراب پی کر ناجائز تجاوزات سے آدھی سڑک روک لیتے ہیں اور وطن کی محبت میں سر سے پاؤں تک ڈوب کر ریمنڈ ڈیوس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکن سفارت خانے میں امیگریشن کی درخواست بھی دے ڈالتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اِس ملک سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور پھر روتے دھوتے اس کی گردن میں رسی ڈال کر لاقانونیت کا شکنجہ بھی کس دیتے ہیں۔ قیمت چاہے تین سو درہم ہی کیوں نہ ہو۔


Top