نہ ایک انچ ادھر نہ ایک انچ ادھر : افواج پاکستان نے چند روز قبل نصر میزائل کا کامیاب تجربہ دراصل کس مقصد کے لیے کیا تھا ؟ پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی ایک شاندار معلوماتی رپورٹ جو آپ کا لہو گرما دے گی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > نہ ایک انچ ادھر نہ ایک انچ ادھر : افواج پاکستان نے چند روز قبل نصر میزائل کا کامیاب تجربہ دراصل کس مقصد کے لیے کیا تھا ؟ پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی ایک شاندار معلوماتی رپورٹ جو آپ کا لہو گرما دے گی

نہ ایک انچ ادھر نہ ایک انچ ادھر : افواج پاکستان نے چند روز قبل نصر میزائل کا کامیاب تجربہ دراصل کس مقصد کے لیے کیا تھا ؟ پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی ایک شاندار معلوماتی رپورٹ جو آپ کا لہو گرما دے گی

لاہور (ویب ڈیسک) جب میزائل (کوئی بھی میزائل) اپنے لانچنگ پیڈ یا ٹیوب سے نکلتا اور فائر ہوتا ہے تو وہ پہلے سیدھا اوپر کی طرف جاتا ہے۔ دورانِ پرواز اس کی سمت کا زاویہ تبدیل کرکے مطلوبہ ہدف کی طرف موڑا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن جب میزائل اپنی انتہائی حد کی عمودی بلندی پر

نامور دفاعی تجزیہ کار ، پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر اور معروف کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کا لم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پہنچ کر نیچے زمین کی طرف گرتا ہے تو زمین اپنی کششِ ثقل کے باعث اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔۔۔۔ یہی وہ مرحلہ ہے جسے بلاسٹک کہا جاتا ہے۔ یعنی زمین پر گرنے کے آغاز سے شروع کریں تو ہدف تک لے جانے کی راہ میں میزائل پر جو قوتیں اثر انداز ہوتی ہیں وہ میزائل کی رفتار، ہدف پر جا گرنے کا زاویہ اور زمین کی کشش ہوتی ہے۔ یہ کشش نہ صرف رفتار کو متاثر کرتی ہے(یعنی تیز تر کر دیتی ہے) بلکہ ہدف پر لگنے کے مقام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر ہدف زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی اسلحہ کا بڑا ڈپو ہے، ریلوے جنکشن ہے، بڑا ڈیم ہے، بڑی شہری آبادی ہے، ایسا بڑا کارخانہ ہے جہاں حساس اسلحہ جات پروڈیوس کئے جا رہے ہیں تو چند گز کا فاصلہ کچھ زیادہ اثر نہیں ڈالتا۔ لیکن اگر ہدف کا ایریا محدود ہو اور اس کو پِن پوائنٹ ٹارگٹ کرنا ہو تو پِن پوائنٹ درستگی (Accuracy) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اگر کسی ساکن ہیڈکوارٹر یا کسی ہیڈورکس یا کسی فیکٹری (چھوٹے سائز کی) کو نشانہ بنانا ہو تو کامل درجے کی درستگی درکار ہو گی۔ ذرا سی اِدھر اُدھر ضرب منزل مقصود کو کوسوں دور کر سکتی ہے۔

ایک تیسرا سنریو (Scenerio) یہ بھی ہے کہ اگر ٹارگٹ، سائز کے لحاظ سے محدود ہو اور موبائل بھی ہو تو اس کو ہِٹ (Hit) کرنا بھی دشوارہوتا ہے۔ ساکن ٹارگٹ تو بآسانی ہٹ کیا جا سکتا ہے لیکن متحرک(موبائل) ٹارگٹ کو ہٹ کرنا از بس مشکل امر ہے۔۔۔ ’’نصر‘‘ ٹیکٹکل بلاسٹک میزائل کا تجربہ اسی آخری سنریو کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ انڈین آرمی چیف جنرل بپن روات سرجیکل سٹرائیک کی بات بھی کرتے رہے ہیں(بلکہ ان کے سیاسی زعماء بھی بار بار اس دعوے کی درستگی پر اصرار کرتے رہے ہیں)۔۔۔ اس کے علاوہ وہ کولڈ سٹارٹ تھیوری کا بھی ذکر فرماتے رہے ہیں۔ یہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین انڈیا کی مسلح افواج نے صرف پاکستان کے خلاف وضع کیا تھا۔ دنیا کی کسی اور فوج کا یہ ڈاکٹرین نہیں۔اس کولڈ سٹارٹ کا مقصد وہ حملے ہے جو انڈیا کی روائتی فورسزکو پاکستان کی طرف سے کسی جوہری حملے کی صورت میں ’’ہولڈنگ اٹیک‘‘ (Holding Attack) کی اہلیت بھی دے اور ساتھ ہی اس کی تینوں فورسز (زمینی، فضائی، بحری) کو پاکستان کے خلاف روائتی یلغار کے مواقع بھی فراہم کرے۔ لیکن کئی انڈین آرمی کمانڈر گاہے بگاہے اس کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین کی موجودگی سے انکار بھی کرتے رہے ہیں۔ جہاں انہوں نے کئی بار ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی لانچنگ کی خبریں چلائی ہیں (جو بے سروپا تھیں) وہاں اسی تواتر سے کولڈ سٹارٹ تھیوری کی آزمائش کا ذکر نہیں کیا۔۔۔

لیکن پاکستان کو انڈیا کی طرف سے اس کولڈ سٹارٹ حملے کا اندیشہ ضرور ہے اور اسی کا توڑ کرنے کے لئے اس ’’نصر‘‘ میزائل کے تجربے کئے جاتے رہے ہیں! اہلِ عسکر جانتے ہیں کہ اس مختصر سے ابتدائی نوعیت کے کالم میں کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین کے حسن و قبح پر زیادہ تفصیل سے بحث نہیں کی جا سکتی۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔۔۔ایک تو یہ ایک مشکل، ٹیکنیکل، پروفیشنل اور پیچیدہ موضوع ہے اور دوسرے انڈیا کی طرف سے یہ عذر بھی لایا جاتا رہا ہے کہ کولڈ سٹارٹ حملے کی لانچنگ کے بعد بھی یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ پاکستان آرمی، انڈیا کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گی۔۔۔ میرا خیال ہے اس حوالے سے انڈین ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ پاکستان، انڈیا کے مقابلے میں ایک چھوٹا ملک ہے اور اس کی روائتی فورسز بھی کم سائز کی ہیں۔ اس لئے اگر کبھی جنگ ہوئی اور اس جنگ (روائتی) نے طول کھینچا تو پاکستان کی ’’جوہری دہلیز‘‘ زیادہ دور نہیں رہ سکے گی! قارئین کو ایک اور بات بھی نوٹ کرنی چاہیے کہ اگر پاکستان ’’نصر‘‘ میزائل کا بار بار تجربہ کر رہا ہے اور یہ میزائل ٹیکٹیکل ہے، سٹرٹیجک نہیں، اس کی رینج بھی

70کلومیٹر ہے اور اس کی درستگی (Accuracy) پر بھی زور دیا جا رہا ہے تو ہمارے عسکری کمانڈر اتنے کم عقل تو نہیں کہ وہ خواہ مخواہ اس میزائل کی ریفائننگ (Refining) پر زور دیں اور بار بار تجربے کرکے اپنا وقت اور پاکستان کا پیسہ برباد کرتے پھریں۔ نصر کے اس دوسرے تجربے کے بارے میںISPR کے ایک بیان میں کہا گیا ہے: The 2nd phase of this exercise was aimed at testing the extreme in-flight manoevrability, including the end-flight manoevrability, capable of defeating, by assured penetration` any currently available BMD system in our neighbourhood or any other system under procurement/developmen”. اس بیان کا اردو ترجمہ یہ ہے: ’’اس ایکسرسائز کا یہ دوسرا تجربہ اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ اس میزائل کی انتہائی حدِ رفتار کے دوران اس کی منوورنگ (بشمول اختتامِ پرواز منوورنگ) کو ٹیسٹ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ آیا کہ اس میزائل میں یہ اہلیت ہے بھی یا نہیں کہ وہ ہمارے ہمسائے (بھارت)ًمیں جو بلاسٹک میزائل ڈیفنس (BMD) سسٹم خریدا گیا ہے یا وہاں ڈویلپ کیا جا رہا ہے اس کو 100 فیصد درستگی کے ساتھ چیرپھاڑ کر اسے بے اثر کر سکے‘‘۔ راقم السطور نے بہت سا پروفیشنل عسکری تحریری مواد

اور درجن بھر سے زیادہ کتابیں انگریزی سے اردو میں ترجمہ ضرور کی ہیں لیکن نہ تو میں یہ دعویٰ کسی گھمنڈ کے زور پر کر رہا ہوں نہ خودستانی کی وجہ سے ایسا کہہ رہا ہوں کہ اگر کوئی فوجی یا سویلین آفیسر / اہلکار مندرجہ بالا ترجمے سے بہتر ترجمہ کر سکے تو میں اس کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔۔۔ ترجمے کے علاوہ دوسری مشکل اس کی تفہیم ہے۔ اردو زبان کے قاری کو اگر آپ نے سمجھانا ہے کہ درج بالا ’’پیراگراف‘‘ کا مفہوم کیا ہے تو پہلے تین الفاظ کی تشریح کرنی پڑے گی جو یہ ہیں۔(1) منوورنگ ۔۔۔ (2) اختتامِ پرواز۔۔۔ (3) چیرپھاڑ کر۔ منوورنگ کا توکوئی ترجمہ اردو میں نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ اس میزائل کے تجربے میں اس بات کی آزمائش کی گئی ہے کہ جب یہ اپنی زیادہ سے زیاہد حدِ رفتار پر اڑ رہا ہو اور اس کو گراؤنڈ کنٹرول سے حکم ملے کہ وہ اپنی اڑان لائن (Trajectory) کو تبدیل کرے تو اس سرگرمی کو ’’منوورنگ‘‘ کہا جائے گا۔ اور پھر جب وہ اپنی پرواز کی آخری حد تک ٹارگٹ کے نزدیک پہنچ جائے اور یہاں بھی اگر اسے گراؤنڈ کنٹرول سے ہدائت کی جائے کہ زاویہ ء پرواز تبدیل کرو تو وہ ’’اختتامِ پرواز منوورنگ ‘‘کہلائے گی

۔۔۔ اور جہاں تک اردو لفظ ’’چیرپھاڑ‘‘ کا تعلق ہے تو یہ Penetration کا ترجمہ ہے۔ اس کا ایک اور اردو ترجمہ ’’تداخل‘‘ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن وہ ’’چیرپھاڑ‘‘ کے مقابلے میں زیادہ ثقیل لفظ ہے۔ جب ’’نصر‘‘ فائر کیا جا رہا ہو گا اور بھارت کی طرف سے بلاسٹک ڈیفنس میزائل سسٹم سے کوئی میزائل فائر کرکے ’’نصر‘‘ کو مار گرانے کی کوشش کی جائے گی تو اس مرحلے میں نصر کی Penetration کام آئے گی یعنی بھارت کے دفاعی میزائل کو ’’چیرپھاڑ‘‘ کر اس کے ہدف تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ہمیں معلوم ہے کہ انڈیا یا تو روس سے ایس۔400 قسم کاBMD سسٹم خرید چکا ہے یا خریدنے والا ہے یا اسرائیل کی مدد سے اپنے ہاں کوئی ایسا ہی دفاعی نظام ڈویلپ کر رہا ہے۔۔۔یہ ’’نصر‘‘ اسی سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر آپ نے دیکھا تو اس ٹیسٹ میں جو بڑا سا جھنڈا زمین پر گاڑا گیا تھا اس کے اردگرد چار پانچ سرخ رنگ کے پردے بھی لگائے گئے تھے وہ بطور فاصلہ پیما نصب کئے گئے تھے۔ لیکن نصر کا یہ دوسرا تجربہ عین جھنڈے کے بانس کے پاؤں میں جا لگا۔۔۔۔ اور یہی اس کی کامیابی تھی.


Top