کشمیر جنگ سے نہیں بلکہ میرے اس فارمولے سے آزاد ہو سکتا ہے ، یہ فارمولہ کیا ہے اور اس پر عمران خان کس طرح اندر کھاتے عمل درآمد شروع کر چکے ہیں ۔۔؟ سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا دل خوش کر دینے والا انکشاف – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > کشمیر جنگ سے نہیں بلکہ میرے اس فارمولے سے آزاد ہو سکتا ہے ، یہ فارمولہ کیا ہے اور اس پر عمران خان کس طرح اندر کھاتے عمل درآمد شروع کر چکے ہیں ۔۔؟ سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا دل خوش کر دینے والا انکشاف

کشمیر جنگ سے نہیں بلکہ میرے اس فارمولے سے آزاد ہو سکتا ہے ، یہ فارمولہ کیا ہے اور اس پر عمران خان کس طرح اندر کھاتے عمل درآمد شروع کر چکے ہیں ۔۔؟ سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا دل خوش کر دینے والا انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک )سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل وہی ہے جو میں نے اپنی کتاب میں دیا ہے، مسئلہ کشمیر اب جنگ سے حل نہیں ہو گا اور نہ ہی بھارت پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے،مشرف دور میں بننے والے فارمولے کی دونوں ملکوں کی ’’ڈیپ سٹیٹ ‘‘ قوتوں نے مخالفت نہیں کی ، مسئلہ کشمیر پر آج بھی وہی پالیسی ہے

کوئی تبدیلی نہیں آئی،وزیر اعظم عمران خان کی پاک بھارت وزرائے خارجہ کی سائیڈ لائن ملاقات کی دعوت بڑا مدبرانہ فیصلہ تھا،اب پاک بھارت جنگ ہوئی تو وہ پانی پر ہو گی جو انتہائی تباہ کن ہو گی ۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’حرف راز ‘‘ میں میزبان اوریا مقبول جان اور محمد عثمان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ میں نے دنیا کو بتایا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے؟مسئلہ کشمیر کا حل وہی ہے جو میں نے اپنی کتاب میں دیا ہے ،وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میری ہی کتاب کا حوالہ دیا ہے ،میں نے اپنی کتاب میں تمام تفصیلات بیان کی ہیں ،اس میں چار نہیں 14 پوائنٹ ہیں ،خدانخواستہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر اب کوئی جنگ ہوئی تو وہ پانی پر ہو گی اور یہ جنگ انتہائی تباہ کن ہو گی ،یہ بات میں نے نہیں بلکہ امریکی سینیٹ نے کہی ہے ،میں نے اپنی کتاب میں تمام تفصیلات بیان کی ہیں ،میں نے اپنی کتاب میں جن کے نام لئے اس بارے میں آج تک پاکستان آرمی، آئی ایس آئی،ہندوستان کے سیاست دانوں،صدر بش،منموہن سنگھ اور صدر مشرف سمیت کسی نے بھی تردید نہیں کی

جس کا مطلب ہے کہ وہ تمام باتیں مستند ہیں ۔خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا وہ فارمولہ چل ہی نہیں سکتا تھا جبکہ تک دونوں ملکوں کی’’ڈیپ سٹیٹ ‘‘جو مستقل حکومتیں ہیں جن میں انٹیلی جنس ایجنسیز اور فوج شامل ہیں وہ ساتھ نہ ہوں،مسئلہ کشمیر کا یہ فارمولہ تین سال کی محنت کے بعد نکلا تھا میں نے جادو کر کے نہیں نکالا تھا ،اس فارمولے کی تیاری میں میرے ساتھ فارن سیکرٹری تھے ،آئی ایس آئی کی نمائندگی جنرل کیانی کر رہے تھے جبکہ فوج کی نمائندگی فور سٹار جنرل احسن سلیم حیات کر رہے تھے ،اس سے زیادہ بحث کسی اور چیز پر نہیں ہو سکتی جتنی اس مسئلہ پر ہوئی ، ڈیڑھ دو سال پہلے یہ پتا لگا کہ منموہن سنگھ ہندوستان میں جب اس معاملے پر بات چیت کر رہے تھے تو انہوں نے کشمیر میں ہر جرنیل کو جس نے کشمیر میں سرو کیا ہے بلکہ ہر ریٹائرڈ جرنیلز سے مشاورت کی ،سنجے بارو کی کتاب میں تو ان تمام جرنیلوں کے نام بھی شامل ہیں اور کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس نے کیا گیم کھیلی ؟ یہ چیز وہاں پہنچ ہی نہیں سکتی تھی جب تک دونوں ممالک کی ’’ڈیپ سٹیٹ ‘‘ اس کی بیک نہ کرتی۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی معاملات ہوں گے تو یہی ہوں گے ،کوئی اور راستہ نہیں ہے،دونوں ملکوں کے درمیان 5 بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں تین بڑی اور دو چھوٹی جنگیں شامل ہیں،چار مواقع پر ہم جنگ کے دہانے پر تھے ۔انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر خارجہ تھا اس وقت دس لاکھ فوجی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی موبالائزیشن تھی ،آمنے سامنے 11 مہینے فوجیں کھڑی رہیں اور ساری دنیا سوچ رہی تھی کہ آج نہیں تو کل دو نیو کلیئر ممالک میں جنگ ہو جائے ۔انہوں نے کہا کہ میں کشمیریوں سے درپردہ اور علی الاعلان بھی ملتا رہا اور گفتگو ہوتی رہی ،پاکستان اور کئی ملکوں میں خفیہ بھی ملتا رہا ،مجھے پتا تھا کہ جو بھی مسئلہ آئے گا ،جو بھی ہم حل ڈھونڈنے کا اعلان کریں گے وہ اسی وقت رَد ہوجائے گی اگر کشمیریوں نے ہماری طرف سے پیش ہونے والے حل کو رد کیا ،میں یہ ٹٹولتا رہا کہ ہم کیا چیز کہیں جسے کشمیری رد نہیں کریں گے؟خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ کشمیری سب سے پہلے مجھے یہ کہہ رہے تھے کہ بھارت کی فوج سے ہمارے بچے اور عورتیں نفسیاتی مریض بن رہے ہیں ،

ہمارے بچے اور عورتیں باہر نکلتے ہیں تو بھارتی فوجی ان پر سنگینیں تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں،کشمیریوں کا سب سے پہلا مطالبہ تھا کہ بھارت کی فوج سے ہماری جان چھڑائیں اور ہمارے شہروں سے فوجیں باہر نکلوائیں،ہمیں اور کسی چیز سے کوئی سروکار نہیں ہے اس کے بغیر کوئی بھی پرپوزل نہیں چل سکتا ،دوسرا کشمیریوں کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ نقطعہ آغاز یہ ہو گا کہ فارن اور ڈیفنس کے علاوہ کشمیر مکمل طور پر خود مختار ہو گا ،تیسری چیز ہمارے اور کشمیری کے لئے ضروری تھا کہ کشمیر ہے کیا ؟ہم تو مانتے ہی نہیں تھے کہ کشمیر گلگت و بلتستان کا حصہ ہے کیونکہ مہاراجہ کے گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ اس جنگ کے دو ہیرو جن میں سے ایک میجر براؤن جو گلگت سکاؤٹ کے ہیڈ تھے ،دوسرے ائیر مارشل اصغر خان کے بھائی بریگیڈئیر اسلم خان جو کرنل امام کے نام سے مشہور تھے انہوں نے مہاراجہ کی آزادی ڈیکلئیر کر دی تھی،ہمارا پوائنٹ یہ تھا کہ اس سب کے بعد وہ کشمیر کا حصہ نہیں رہا ،پھر ہمیں کشمیر کو ڈیفائن کرنا پڑا ،ہم پانی کے علاوہ کسی ضمانت کو قبول نہیں کرتے تھے ،

ہم نے جوائنٹ میکنزم بنایا جس میں واٹر کے پراجیکٹ بھی شامل تھے ،کشمیری کہتے تھے کہ ہندوستان کا الیکشن کمیشن سارے بھارت میں فیئر الیکشن کراتا ہے لیکن یہاں پر دھاندلی کے ذریعے انتخابات ہوتے ہیں ،اُس کے لئے عالمی گارنٹیز تھی کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو انٹرنیشنل مانیٹر یہاں آکر آبزرو کریں گے ،یہ عارضی حل 10 پندرہ سال کے لئے ہو گا اور ہر سال فارن منسٹرز اس کو ریویو کیا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم صرف یہ مانتے کہ بارڈر جہاں ہے وہیں رہے گا تو پھر اس سے تبدیلی نہ آتی ،پاکستان اس کے لئے تیار نہ تھا ،ہم سٹیٹس کو توڑنا چاہتے تھے ،ہم نے سٹیٹس کو اس طرح تبدیل کیا کہ پاکستان اور بھارت کے منتخب نمائندے اس کمیٹی میں بیٹھیں گے جس میں کوئی پندرہ سبجیکٹ تھے جن میں تعلیم ،سیاحت اور پانی کا معاملہ بھی شامل تھا ،میں آج بھی دعویٰ کرتا ہوں کہ کوئی بھی ذی ہوش لوگ خصوصا فوجی یہ جانتے ہیں کہ جنگ کا کیا مطلب ہے؟جنگ اب حل نہیں ہو گا اور نہ ہی بھارت پاکستان اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے ،اگر بھارت پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا تو اب تک کر چکا ہوتا ،بھارت نے میں بڑا ڈرایا دھمکایا گیا اور کولڈ سٹارٹ اور حملے کی بھی دھمکی دی گئی جس پر ہماری طرف سے جواب آیا ٹیکٹیکل نیو کلئیر ویپن ۔

انہوں نے کہا کہ اس فارمولے کی ڈیپ سٹارٹ کی طرف سے مخالفت نہیں کی گئی،میری خوش قسمتی ہے کہ یہ سارے کیبل لیک آؤٹ ہو گئےہیں ،ان کیبل میں بتایا گیا ہے کہ جب میں وزیر خارجہ نہیں رہا تو امریکی سفیر این پیٹرسن مجھے ملنے آئیں اور مجھے کہا کہ کیا فارمولہ تھا ؟جس پر میں نے بتایا ، اس نے بعد میں جنرل کیانی اور جنرل احمد شجاع پاشا سے بات کی اور بتایا کہ قصوری صاحب یہ کہہ رہے ہیں،این پیٹرسن نے مجھے کہا کہ پھر اب آگے کیا کریں ؟میں نے کہا کہ بیک چینل نیگوشی ایٹر بنائیں ،اس نے کہا کسے بنائیں ؟جس پر میں نے کہا کہ سابق فارن سیکرٹری ریاض محمد خان کو بنائیں کیونکہ اگر آپ کسی کو باہر سے لائیں گے تو فارن آفس والے اعتراض کریں گے حالانکہ طارق عزیز نے اس حوالے سے بہت اہم کردار ادا کیا تھا ،جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے کہا کہ قصوری صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں، ہم ایگری کرتے ہیں ، اس مسئلے کا یہی حل ہے اور آج بھی یہی پالیسی ہے اور تبدیلی نہیں آئی ۔خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بھارت نے تو اس فارمولے کو ناممکن کر دیا ہے ،بھارتی فوجوں کے تسلط اور ان کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم ،بچوں کی آنکھیں پھوڑی ہیں ،خواتین کی آبرو ریزی کی ہے ،جس طرح بھارت نے کنڈیکٹ کیا ہے اس سےبھارت کشمیریوں کو لوز کر چکا ہے ،کشمیر کی زمین ابھی ان کے ہاتھ سے نہیں گئی ،وزیر اعظم عمران خان نے بڑے مدبرانہ طور پر ایکشن لیتے ہوئے کہا کہ میں وزیر خارجہ کو بھیجتا ہوں آپ بھی بھیجیں،یو این جی اے میں سائیڈ لائن پر بات کریں گے ، جس پر مودی نے لپک کر کہا کہ ٹھیک ہے تاہم 24 گھنٹوں میں انہوں نے ایسا یوٹرن مارا کہ دنیا حیران رہ گئی ،مودی بھارت کا الیکشن جیتنے کے لئے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان زہر پھیلا رہے تھے ،ان کے اندازے سے زیادہ زہر پھیل گیا تھا جس کی وجہ سے انہیں اپنے ہی سپورٹرز سے گالیاں پڑنی شروع ہو گئیں جس پر انہوں نے یو ٹرن لینے میں عافیت جانی ۔


Top