جب پورے پاکستانی قوم پر کویت کا ویزہ بند تھا تو کیسے یہ نایاب ویزہ بیٹھے بٹھائے کالم نگار توفیق بٹ کی جھولی میں آن گرا ؟ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں کے محاورے کو سچ ثابت کر دینے والی تحریر – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > جب پورے پاکستانی قوم پر کویت کا ویزہ بند تھا تو کیسے یہ نایاب ویزہ بیٹھے بٹھائے کالم نگار توفیق بٹ کی جھولی میں آن گرا ؟ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں کے محاورے کو سچ ثابت کر دینے والی تحریر

جب پورے پاکستانی قوم پر کویت کا ویزہ بند تھا تو کیسے یہ نایاب ویزہ بیٹھے بٹھائے کالم نگار توفیق بٹ کی جھولی میں آن گرا ؟ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں کے محاورے کو سچ ثابت کر دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) میں پہلی بار کویت 2015ءمیں گیا تھا، کویت میں سالہا سال سے مقیم ملک نذیر احمد کھوکھر میرے ایف سی کالج کے شاگردِعزیز ملک شہباز بارا کے اُس وقت اکلوتے سُسر تھے، پہلی بار جب اُنہوں نے مجھے کویت آنے کی دعوت دی تو یورپ، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے بار بار سیر سپاٹے کے

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعدمیں نے سوچا اِن ممالک کے مقابلے میں کویت کی کیا حیثیت ہے؟ سو میں نے اُن سے معذرت کرلی، کویت کی اہمیت کا صحیح اندازہ مجھے اُس وقت ہوا جب دوستوں نے بتایا گزشتہ چھ سات برسوں سے کویت نے پاکستانیوں پر ویزے کی مکمل پابندی عائد کررکھی ہے۔ میں نے ملک نذیر صاحب سے پوچھا ”اِن حالات میں آپ مجھے کویت آنے کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں؟ وہ بولے ”اُن کے ایک دوست ندیم اشرف، کویت کے وزیراعظم جابر المبارک الصمدالصباح کے پرسنل سٹاف افسر ہیں، میں اُن سے گزارش کروں گا کہ وزیراعظم صاحب سے بات کرکے آپ کا ویزہ نکلوادیں“ …. مجھے اُن کی بات کا یقین نہ آیا، پھر کچھ دِنوں بعد ندیم اشرف لاہور تشریف لائے، میری اُن سے ملاقات ہوئی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا اُن کے ایک جائز مسئلے میں میں نے اُن کی مددکی۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ اُنہوں نے بھی مجھے کویت آنے کی دعوت دی، فرمایا ” وہ واپس کویت جاکر وزیراعظم سے گزارش کرکے میرا ویزہ نکلوادیں گے“….میں نے اُن کی بات کو بھی سیریس نہیں لیا، میں نے سوچا ہم پاکستانی عمومی طورپر چونکہ ” پھڑئیے “ ہوتے ہیں ندیم اشرف بھی کچے اور سچے پاکستانی ہیں یہ بھی کوئی ”پھڑ“ ہی ماررہے ہیں،

اِس بات کا یقین مجھے اِس لیے بھی تھا میری ایک ٹریول ایجنٹ سے ملاقات ہوئی تھی، اُس نے مجھے بتایا ”ایک غیر شادی شدہ نوجوان جِس کا بینک بیلنس اور ٹریول ہسٹری صفر ہو، وہ یہ تصور کرسکتا ہے اُسے امریکہ، کینیڈا ، برطانیہ یا آسٹریلیا کا ویزہ مِل جائے، لیکن ایک ارب پتی جِس نے دنیا بھر کے ممالک کی سیاحت کی ہو، اگر یہ چاہے اُسے کویت کا ویزہ مِل جائے یہ ناممکن ہے، …. ویزے کی بندش کی اصل وجہ میں آگے چل کر آپ کو بتاﺅں گا ،کویت سے ویسے بھی میری کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے یہ سنا تھا خوبصورتی کے لحاظ سے بھی یہ کوئی خاص ملک نہیں ہے۔ لیکن جب مجھے پتہ چلا کویت کا ویزہ پاکستانیوں کے لیے گزشتہ چھ سات برسوں سے بند ہے مگر مجھے ویزہ مِل سکتا ہے، میں نے سوچا ایسی صورت میں ضرور جانا چاہیے، میں نے برادرم ندیم اشرف کی دعوت اِس نیت کے ساتھ قبول کرلی یہ کام اُن سے ہونا تو ہے نہیں، دعوت قبول کرنے میں کیا حرج ہے؟۔….اُنہوں نے میری پاسپورٹ کی کاپی لی اور واپس کویت چلے گئے۔ کچھ ہی دِنوں بعد مجھے واٹس ایپ پر ایک پیپر بھجوایا، یہ عربی زبان میں لکھا ہوا تھا،

میں نے جب اِسے پڑھنے کی کوشش کی میرے پلے ککھ نہیں پڑا، مجھے لگا برادرم ندیم اشرف نے کوئی آیات وغیرہ ٹائپ کرکے بھجوائی ہیں کہ میں روزانہ اِنہیں پڑھ کر خود پر پھونک لیا کروں، یا اِس کا کوئی پرنٹ وغیرہ نکلوا کر اُسے پانی میں گھول کر پی لیا کروں۔ بچپن میں جب ہم بیمار ہوتے تھے یا پڑھائی میں ذرا سُستی دِکھاتے تھے، یا کِسی معاملے میں ضِد وغیرہ کرتے تھے، ہمارے والدین عموماً ایسے ” تعویذ“ وغیرہ پانی میں گھول کر یا دم وغیرہ کرکے ہمیں پلایا کرتے تھے۔ ٹھیک تو اللہ کے فضل وکرم سے ہم نے ویسے بھی ہوجانا ہوتا تھا، مگر گھروالے سمجھتے تھے یہ اُس ”تعویذ“ کا اثر ہے جو ”بابے کرنی والے“ نے اُنہیں دیا ہے….چند روز پہلے ایسے ہی ایک ”بابے کرنی والے“ کے پاس ہماری ایک ہمسائی گئی، بابے کرنی والے نے اُسے ایک تعویذ لِکھ کر دیا اور کہا اِسے دِن میں تین بار پانی میں گھول کر پی لینا، ہمسائی نے ایسے ہی کیا، اُسے اُس کے مسئلے میں ذرا افاقہ نہ ہوا، وہ دوبارہ ”بابے کرنی والے“ کے پاس گئی اور گِلہ کیا بابا جی افاقہ نہیں ہوا، بابے نے پوچھا ” بی بی تم نے یہ تعویذ نلکے کے پانی میں بھگو کے پیا تھا یا ”منرل واٹر“ میں؟۔ہمسائی بولی ”بابا جی میں نے یہ تعویذ نلکے کے پانی میں بھگو کر پیا تھا“ ….

بابا جی بولے ”اِسی لیے افاقہ نہیں ہوا…. تمہیں یہ تعویذ ”منرل واٹر“ میں بھگو کر پینا چاہیے تھا“….سُنا ہے تعویذ دھاگے کرنے والوں کا کاروبار اب بھی چل رہا ہے۔ بلکہ اب تو یہ ”کاروبار حکومت“ بن چکا ہے، ایک زمانے میں ” دم “ کی بڑی اہمیت ہواکرتی تھی، بچے بیمار ہوتے بڑے اُنہیں اُٹھا کر ڈاکٹروں کے پاس لے جانے کے بجائے مسجدوں میں لے جایا کرتے تھے۔ مسجد کے مین دروازے سے بڑے، اپنے اپنے بچوں کو گود میں اُٹھائے کھڑے ہوتے تھے، نمازی مسجد سے باہر نکلتے ہوئے بچوں پر آیات وغیرہ پڑھ کر پُھونکتے تو بڑے، بچوں کو اِس یقین کے ساتھ گھر لے آتے یہ بچے اب ٹھیک ہو جائیں گے، اور ایسے ہی ہوتا تھا۔ اصل میں اُس دور کے نمازیوں کے قول وفعل میں تضاد نہیں ہوا کرتا تھا، تب لوگ نماز پڑھتے ہوئے یہ نہیں سوچا کرتے تھے”ناجائز دولت کیسے کمانی ہے ؟…. غریب رشتہ داروں کا حق کیسے مارنا ہے؟۔ جھوٹ اور مکروفریب سے دوسروں کی زندگیاں کیسے تباہ کرنی ہیں؟ ۔ وغیرہ وغیرہ ،اُن کا پورا دھیان نماز کی طرف ہوتا تھا، اور اُس نماز کی طرف ہوتا تھا جِس کے نتیجے میں اخلاقی رویے بلند ترین مقام پر ہوتے تھے، لہٰذا اُن کے ” دم “ اور ” پھونکوں“ وغیرہ میں بڑا اثر ہوتا تھا، اور ایسے ہی ہمارے امام مسجدوں اور مولوی صاحبان کے ” دم “ میں بھی بڑا اثر ہوتا تھا،

آج لوگوں کو اکثر مولوی صاحبان سے دم کرواتے ہوئے ڈر لگتا ہے وہ ” دم “ کے بجائے ایک دم ہی نہ کردیں،…. پرانے وقتوں میں ڈاکٹروں کی ”دکانیں“ خالی ہوتی تھیں اور مسجدیں بھری ہوتی تھیں۔ مسجدوں کو کئی حوالوں سے باقاعدہ ایک ”علاج گاہ “ سمجھا جاتا تھا، یہاں بگڑے ہوئے اخلاقیات کا علاج بھی ہوتا تھا۔ بڑے سے بڑا اخلاقی مسئلہ محلے کے چند بڑے مسجد میں بیٹھ کر حل کر لیا کرتے تھے، مسجدوں کا تقدس ہوتا تھا، جیسے محلے کے بزرگوں کا ہوتا تھا۔ مسجدیں اب صرف نمازیں وغیرہ پڑھنے کے لیے ہی رہ گئی ہیں، بلکہ اب تو نماز کے لیے بھی اتنے لوگ مسجدوں میں نہیں آتے جتنے مسجدوں کے طہارت خانے استعمال کرنے آتے ہیں، …. اگلے روز میں اپنی بیوی سے کہہ رہا تھا کہ المیہ ہے ہمارے ہاں بچہ ایک دِن سکول نہ جائے ہم لٹھ لے کر اُس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، لیکن کئی کئی مہینے مسجد میں نہ جانے کا کوئی حساب اُس سے نہیں لیتے، ….خیر میں اپنے کویت کے پہلے دورے کی بات کررہا تھا۔ واٹس ایپ پر ویزہ موصول ہونے کے اگلے روز مجھے جناب ندیم اشرف کا فون آگیا، پوچھنے لگے ”آپ نے واٹس ایپ چیک کیا ہے ؟“….میں نے عرض کیا ” جی کیا ہے ….یہ تعویذ دِن میں کتنی بار پانی میں گھول کر پینا ہے ؟اُنہوں نے ایک زبردست قہقہہ لگایا اور بولے ”حضور یہ آپ کا کویت کا ویزہ ہے“ ….مجھے یہ سُن کر بڑی حیرت ہوئی۔ اُن کا فون بند ہوا میں نے دوبارہ اپنا واٹس ایپ چیک کیا، مجھے تین ماہ کا ویزہ جاری کیا گیا تھا، ویزے پرباقاعدہ طورپر لِکھاہوا تھا “ یہ ویزہ وزیراعظم کویت کی خصوصی ہدایت پر ویزا پالیسی ریلیکس کرکے جاری کیا گیا ہے، اِسے آئندہ کسی مثال کے طورپر پیش نہیں کیا جائے گا “ ….کویت کے ویزے کی جواہمیت دوست ،احباب مجھے بتاتے رہے، یوں محسوس ہورہا تھا کویت کا ویزہ لگنے کے بعد پوری دنیا کے دروازے میرے لیے کھل گئے ہیں، اب دنیا کے کِسی ملک میں جانے کے لیے مجھے ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی


Top