عثمان بزدار کے معاملے پر عمران خان کا یوٹرن لینا حکومت اور تحریک انصاف کے لیے کیوں ضروری ہے ؟ صف اول کے صحافی نے دور نبویؐ کا ایک واقعہ بیان کرکے شکوک وشبہات کا خاتمہ کر دیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > عثمان بزدار کے معاملے پر عمران خان کا یوٹرن لینا حکومت اور تحریک انصاف کے لیے کیوں ضروری ہے ؟ صف اول کے صحافی نے دور نبویؐ کا ایک واقعہ بیان کرکے شکوک وشبہات کا خاتمہ کر دیا

عثمان بزدار کے معاملے پر عمران خان کا یوٹرن لینا حکومت اور تحریک انصاف کے لیے کیوں ضروری ہے ؟ صف اول کے صحافی نے دور نبویؐ کا ایک واقعہ بیان کرکے شکوک وشبہات کا خاتمہ کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) حکمران کوصرف آرزو پالنے اورنیک نیتی سے کامیابی نصیب نہیں ہوتی بلا شبہ کامیابی کے لئے یہ بنیادی خوبیاں ہیں مگرکاروبار مملکت میں کامیابیوں کے لئے بہترین ہنرمندوں کا انتخاب ،اصحاب فکر و دانش اور زندگی کے مختلف شعبوں کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔امیر تیمور نے اپنی کامیابی کا رازبتاتے ہوئے کہا ’’

نامور کالم نگار زیڈ بی پسروری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جو بات میں نے ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھی وہ یہ ہے کہ کوئی کام اس وقت تک انجام نہ دوں جب تک صورت احوال کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور نہ کرلوں اور اصحاب فکر و دانش سے مشاورت مکمل نہ کرلوں ، میرا مشاہدہ ہے کہ ایک حکمران زندگی کے مختلف شعبوں کے تجربہ کار لوگوں کے ساتھ مل کر ہی کامیابی حاصل کر سکتاہے‘‘۔ حکمرانی ہوائی قلعے تعمیر کرنے کا نام نہیں،بغیر مشاورت کے بے تکی ہانکنا حکمران کا وصف نہیں۔ ایک فیصلہ، چند دن بعد اس سے انحراف پھر ایسا ہی بغیر مشاورت کے دوسرا فیصلہ پھر اس پر یوٹرن، اپنے الفاظ کا پاس نہ رکھ سکنا اور کمزور فیصلہ سازی رہنماکا مرتبہ کم کر دیتی ہے رفتہ رفتہ عوام کے دلوں میں رعب دبدبہ ختم کر دیتی ہے۔(جس شخص کو اپنی ذات پر حکمرانی نہیں تو اسے گھاس پر بادشاہ شمار کرو۔۔۔یعنی کہ وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جسے ایک تنکے پر اختیار نہیں،لوگوں پر اس کی شخصیت کا اعتبار قائم نہیں رہتا )۔کامیابیوں کے ستارے ماتھے پر چمک رہے ہوںیا ناکامیوں کی گٹھڑیاں سر پر لدی ہوں حکمرانوں کے اعمال ہی ان پر سوار ہوتے ہیں

اور تاریخ رقم کررہے ہوتے ہیں۔ تاریخ اسلامی کے سب سے عظیم حکمران و مدبر رہنما حضرت عمر ؓ کہ جن کے بارے میں نبی پاکﷺکا فرمان ہے ’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا‘‘۔ کیا حضرت عمر بن خطابؓ اکیلے ایسے عظیم کارنامے رقم کرسکتے تھے۔ اداروں کی تشکیل اور فلاحی ریاست کا قیام ممکن تھا تاریخ بتاتی ہے کہ اہل فکرودانش کی ایک باصلاحیت ٹیم کے انتخاب سے وہ یہ کارنامے رقم کرسکے۔ٹیم پر ذرا غور کریں ریاست مدینہ میں حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ، حضرت سلمان فارسیؓ ،حضرت محمد بن مسلمہؓ اور دوسرے محدث صحابہ کی مشاورت کے ساتھ مکہ، کوفہ، بصرہ ،شام ،مصر،یمن ،فلسطین اور حجازو آذربائیجان تک پھیلی اسلامی ریاست کے گورنرز میں حضرت سعد بنؓ ابی وقاص، حضرت عمار بن یاسرؓ ، حضرت عثمان بن العاصؓ اور حضرت عبداللہ بن ربیعہؓ جیسے ذہین و فطین صحابہؓ کی ٹیم کے ساتھ اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ تمام امور پر مکمل مشاورت ہوتی اور حتمی فیصلے کا اختیار حضرت عمرؓ کو ہوتا۔اگر کسی گورنر کے بارے میں انتظامی امور کی شکائت ملتی تو تصدیق کے بعد یہ نہیں کہا کہ اسے ہی برقرار رکھنا ہے اور ضدنہیں کی کہ یہ میرا انتخاب ہے

اور اسے ہی مسلط رکھا جائے۔حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کہ جن کے لئے حضورپاک ﷺ نے غزوہ احد کے موقعہ پر نبی ؐ کی ڈھال بننے پر اور کفار پر تیر برسانے پر فرمایا ’’ اے سعد ، تیر چلا میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں‘‘۔ جنت کی بشارت جنہیں مل چکی تھی فاتح ایران حضرت سعدؓ بن ابی وقاص نے بطور گورنر کوفہ اپنے دفتر کے باہر پہرہ لگایا تو انہیں معزول کردیا۔گورنر مصر حضرت عیاض بن غنیمؓ نے باریک لباس پہنا تو انہیں تبدیل کردیا گیا کہ گورنر کے لئے باریک لباس کی ممانعت تھی۔حضرت عمرو بن العاصؓ کے بارے میں ایک عام شخص نے شکائت کی کہ گورنر نے مجھے کوڑوں کی ناحق سزا دلوائی تو حضرت عمرؓ نے گورنر کو کوڑے مارنے کا حکم دیا،جس کے بعد اس شخص نے عدل فاروقی سے متاثر ہو کر حضرت عمروؓ بن العاص کو معاف کر دیا۔ 1538ء سے 1545ء ہندوستان کی تاریخ کا مختصر سا عرصہ جس میں شیر شاہ سوری ایسے کارنامے رقم کر گیا کہ مغلیہ کی پانچ سو سالہ تاریخ اس کے سامنے شرمندہ ہے۔شیر شاہ سوری نے گڈ گورننس اور تعمیر و ترقی کے یہ کارنامے صرف سنتالیس (47) بہترین ہنرمندوں اور اصحاب فکرو دانش کی

ٹیم منتخب کر کے رقم کئے۔ کپتان ٹیم کے چناؤ میں مار کھا گیا۔ بے ہنرلوگوں سے ہنرمندی کے کام لینا ممکن نہیں۔کلب لیول کی گلی ڈنڈا کی ٹیم سے کرکٹ کی انٹر نیشنل چیمئین شپ جیتنے کا خواب محض خام خیالی ہی کہا جا سکتا ہے،جس ٹیم میں آئی ٹی کا وزیر خود کہہ رہا ہو کہ مَیں میڈیکل ڈاکٹر ہوں مجھے آئی ٹی کا کیا تجربہ وہاں کِسی سے کرشموں کی توقع کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ آدھے ملک کی آبادی والے صوبہ پنجاب کے لئے ایک متحرک وزیراعلیٰ چاہئے تھا روبوٹ سے انسانوں پر حکومت کا تجربہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ایسا تجربہ ابھی تک امریکہ اور چین جیسے ایڈوانس ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے ممالک نے نہیں کیا، لیکن خان صاحب نے پنجاب میں اس تجربہ سے اپنا مذاق اڑوانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جائزہ لینا ہو گا۔کمزور کھلاڑیوں اور اناڑیوں کی جگہ نئے لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔کاروبار حکومت چلانے کے لئے ماہرین کی ٹیم تلاش کرنا ہو گی۔ موجودہ ٹیم تو ایک لوکل سطح کا ادارہ چلانے کی اہل نہیں۔اس ٹیم کو برقرار رکھ کر ناکامی کا منہ دیکھنے کی بجائے اسے بدل کر کامیابی کی طرف بڑھنا ہو گا۔


Top