کئی ماہ کی گرمیاں ، چند دنوں کی سردیاں : آج سے لگ بھگ 80 سال بعد 2100 میں اس خطے کا کیا حشر ہونیوالا ہے ؟ کئی سالوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی ٹیم نے انتہائی خوفناک پیشگوئی کردی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > کئی ماہ کی گرمیاں ، چند دنوں کی سردیاں : آج سے لگ بھگ 80 سال بعد 2100 میں اس خطے کا کیا حشر ہونیوالا ہے ؟ کئی سالوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی ٹیم نے انتہائی خوفناک پیشگوئی کردی

کئی ماہ کی گرمیاں ، چند دنوں کی سردیاں : آج سے لگ بھگ 80 سال بعد 2100 میں اس خطے کا کیا حشر ہونیوالا ہے ؟ کئی سالوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی ٹیم نے انتہائی خوفناک پیشگوئی کردی

لاہور (ویب ڈیسک) ہمالیہ‘ کوہ ہندکش کے برف زار’ اس کے ماتھے کا جھومر عظیم الشان گلیشئر ‘اس صدی کے آخر تک پگھل کر ہوا میں تحلیل ہوجائیں گے غائب ہوجائیں گے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور درجہ حرارت میں اضافہ برصغیر پر آفات کے ان دیکھے دروازے کھول دے گا جس کے نتیجے میں

نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سیلاب اور اس کے بعد برف سے محروم ہونے سے دریاوں میں پانی کا بہاوبھی ختم ہوگا اور ان دریاو ں کی روانی کے دم توڑنے سے چین اور بھارت کے لہلہاتے سبزہ زار ویران ہوجائیں گے سرسبز و شاداب فصلیں ناپید ہو جائیں گی۔ ہندو کش کا مشرقی سرا شمال میں قراقرم سلسلہ سے جاملتا ہے۔ جنوبی طرف یہ دریائے کابل کے قریب سپن غر سلسلہ سے مل جاتا ہے۔ ہندو کش تاریخی طورپر بودھ مت کے ماننے والوں کا اہم مقام تصور ہوتا ہے۔ بامیاں بدھا کی نشانی بھی اسی سلسلے کی کڑی مانی جاتی ہے۔ یہ خطہ اہم مذاہب کا گھرانہ، تاریخی اور اہم ترین تجارتی راستوں اور مسافروں کی گزرگاہ رہا ہے۔ جنگجووں اور حملہ آوروں کا راستہ بھی یہی رہا ہے۔ ہمالیہ پہاڑی سلسلوں کا وہ مقام ہے جو تبت کی سطح مرتفع اور برصغیر کے میدانوں کو الگ کرتا ہے۔ ہمالیہ کرہ ارض پر بلند ترین پہاڑی چوٹیوں کی بناء پر مشہور ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ اورکے ٹو بھی اسی سلسلے میں شامل ہے۔ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ مغرب وشمال مغرب سے ہوتا مشرق وشمال مشرق تک چلاجاتا ہے جو چوبیس سو کلومیٹر کی کمان بن جاتی ہے۔

اس کی مغربی طرف نانگا پربت کی بلند چوٹی ایستادہ ہے جو جنوب کے شامل مشرق میں دریائے سندھ کے خم میں واقع ہے۔ مشرق میں نمچارا بروا کی طرف یرلنگ سانگپو یا یرلنگ ڑانگبو دریا بہہ رہا ہے جو مغربی تبت کے آنگسی گلیشئیر سے نکلتا ہے۔ یہ دریائے برہم پترا کا بالائی بہائو کہلاتا ہے۔ شمال مغرب میں یہ قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں سے منسلک ہے۔ شمال میں تبت کی سطح مرتفع اسے جدا کرتی ہے جہاں انڈس سانگپو سرچر کی وادی ہے۔ جنوب کی طرف ہمالیہ کا ایک محور بنتا ہے جو انڈوگینگیٹک پلین کہلاتا ہے۔ مغرب میں یہ پاکستان، مشرق میں ارونا چل پردیش سے جاملتی ہے۔ ہمالیہ کے باشندوں کی تعداد پانچ کروڑ ستائیس لاکھ ہے جس میں پانچ ممالک نیپال، بھارت، بھوٹان، چین اور پاکستان شامل ہیں۔ دنیا کے بڑے دریاسندھ، گنگا، سانگپوبرہما پتراہیں۔ ہمالیہ سنسکرت سے نکلا ہے جس کے معنی برف کا مسکن ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہندوکش اور ہمالیہ کے برف اوڑھے بڑے بڑے پہاڑ انٹارکٹیکا اور آرکٹیک خطوں کے بعد تھرڈ پول کہلاتا ہے جہاں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں واقع ہیں۔ہندو کْش بھی پہاڑی سلسلہ ہے جس میں ’کْش‘کے معنی ’ہندوکا قاتل‘ ہیں۔بعض کے نزدیک یہ کش نہیں کیش ہے

جس کے معانی مسکن کے ہیں۔ جیسے کشمیر میں کیش سے مراد مسکن ہے۔ یہ آٹھ سو کلو میٹر طویل پہاڑی سلسلہ ہے جو افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ وسطی افغانستان سے شمالی پاکستان تک پھیلاہوا ہے۔ مغربی حصے میں یہ کوہ ہمالیہ سے جاملتا ہے۔شمال میں دریائے آمو کی وادی کو جنوب میں دریائے سندھ کی وادی سے الگ کردیتا ہے۔ یہاں بھی بلند ترین پہاڑی چوٹیاں موجود ہیں جن میں ترچ میر کی سات ہزار سات سو آٹھ میٹر بلند چوٹی واقع ہے۔ یہ ضلع چترال میں ہے۔ پامیر پہاڑی چوٹی کا سلسلہ پاکستان، چین اور افغانستان کو ملاتی ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی بربادی کی پیشگوئی کرنے والی رپورٹ کے مصنفین کی قیادت کرنے والے فلپ ویسٹر کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ماحولیاتی بحران سے ہمارا سامنا ہے جس سے پہلے ہم کبھی دوچار نہیں ہوئے۔ پہاڑوں کی ترقی کے بین الاقوامی مرکز (International Centre for Integrated Mountain Development) سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ویسٹر کے مطابق عالمی سطح پربڑھتی حدت ان جمے ہوئے یخ بستہ برفانی پہاڑی چوٹیوں میں تبدیلی لارہی ہے جس کے نتیجے میں صدی سے بھی کم عرصے میں آٹھ ممالک پتھریلی سرزمین میں بدل جائیں گے۔ یہ رپورٹ گہری تحقیق اور بہت بڑی محنت کا ثمر ہے۔

یہ رپورٹ 210 افراد نے مل کر لکھی ہے جس میں انکشاف کیاگیا ہے کہ اس خطے کی ایک تہائی برف 2100تک پگھل جائے گی۔رپورٹ کے مطابق اگر پیرس ماحولیاتی معاہدہ2015ء کے تحت تمام حکومتیں ماحولیاتی حدت کم کرنے کے لئے اپنا پورا زور بھی لگائیں تب بھی اس عمل کو روکنا ممکن نہیں۔ اگر یہ تمام حکومتیں برف پگھلنے کے عمل کو روکنے کے لئے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہیں اور گرین ہائوس گیسز کو روکنے کی کوشش نہیں کرتیں تو پھر اسی مدت میں دو تہائی برف پگھل جائے گی۔ ویسٹر کے نزدیک یہ سب سے پریشان کن بات ہے۔ یہ رپورٹ نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں جاری کی گئی۔ 1970ء سے اب تک ان پہاڑوں کی برف کی تہہ میں کمی آچکی ہے اور اسکے کئی حصوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ برف پگھلنے سے سمندروں کی سطح بڑھ جائے گی۔ سطح سمندر میں کتنا اضافہ ہو گا، یہ بتانا ابھی ممکن نہیں۔ یہ تمام خطہ پینتیس کلومیٹر (یا دو ہزار ایک سوپچھتر میل) پر پھیلا ہوا ہے۔ اس پھیلاو میں افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، بھارت، میانمار، نیپال اور پاکستان آتے ہیں۔ ان سب سے مل کر یہ خطہ وجود میں آتا ہے۔ برف پگھلنے سے جو دریا متاثر ہوں گے ان میں یانگزی، می کانگ، سندھ اور گنگا شامل ہیں۔

کاشتکار اور کسان خشک سالی میں ان ہی دریاوں پر اپنی کاشت اور فصلوں کے لئے انحصار کرتے ہیں۔ پچیس کروڑ لوگ پہاڑوں میں رہتے ہیں اور ایک ارب پینسٹھ کروڑ لوگ دریائی وادیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ دریاوں کے بہائومیں تبدیلی سے پانی سے بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوگی اور پہاڑی تودوں کے گرنے کی رفتار بھی بڑھے گی، اس سے زمین کے کٹائو میں اضافہ ہونے سے ارضیاتی مسائل اور بڑھیں گے۔ امپیریل کالج لندن کے ماہر واٹر بائی ٹائرٹ کے مطابق اس امرکو جاننے کے لئے ابھی مزید تحقیق درکار ہے کہ کس طرح گلیشئرز دورافتادہ فصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ گلیشئرز سے پگھلنے والی برف دریاوں میں پانی کے بہاو کا باعث بنتی ہے۔ اس بہاو میں دیگر اور ذرائع سے بھی پانی آملتا ہے، ان میں آبشاریں، دلدلی زمین اور زیرزمین پانی شامل ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق مختلف جزیروں میں آباد افراد سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ سطح سمندر میں اضافے سے ان کے جزیروں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ بھوٹان سے تعلق رکھنے والے رپورٹ کے مصنف داشو رینزی دْرجی نے کہاکہ صرف جزیروں پر رہنے والی ہی سب سے زیادہ متاثر نہیں ہوں گی بلکہ پورے پہاڑی خطے کے بسنے والے ہی اس کی زد میں ہیں۔

پوری دنیا موسمیاتی اور ماحولیاتی تغیر کی لپیٹ میں ہے اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جارہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں ایسے درخت موجود ہیں جو تین ہزار سال پرانے تصور ہوتے ہیں۔ ان درختوں کو زندگی کے درخت بھی کہاجاتا ہے۔ گزشتہ بارہ سال میں دیکھاگیا ہے کہ ان میں سے 13قدیم ترین درخت جزوی یا مکمل طورپر موت کی وادی میں پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک تحقیق میں اس کا سبب ماحولیاتی تغیر بتایاجاتا ہے۔ برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنے والے پانچ سال انتہائی گرم ہوں گے۔ ماحولیاتی وموسمیاتی تغیرات کے نتیجے میں موسم گرم ہوتا جارہا ہے جس سے طوفان، جھکڑ اور گردآلود تیز رفتار بگولے جنم لیں گے۔ ان ماہرین کے مطابق دنیا بھر کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دس سو سال میں دنیا نے برفانی ادوار سے گرم ادوار تک کا سفرطے کیا ہے۔ گزشتہ گیارہ ہزار سال میں موسم کی تبدیلیوں نے حیات انسانی کو کرہ ارض پر پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اربوں ٹن گرین ہائوس گیسز فضاء میں شامل ہوچکی ہے جس میں زیادہ تر گرین ہائوس گیسز میں اضافہ گزشتہ صدی میں ہوا ہے۔ ان گرین ہائوس گیسز نے ماحولیاتی تغیر میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔


Top