اگر اگلے انتخابات کے بعد بھی عمران خان وزیراعظم نہ بن سکے تو کیا ہو گا؟ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > منتخب کالم > اگر اگلے انتخابات کے بعد بھی عمران خان وزیراعظم نہ بن سکے تو کیا ہو گا؟

اگر اگلے انتخابات کے بعد بھی عمران خان وزیراعظم نہ بن سکے تو کیا ہو گا؟

پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے اب قبل از وقت انتخابات کروانے کا پر زور مطالبہ کیا جارہا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد عمران خان کے اس مطالبے کی وجہ یقینی طور پر انکی خوش فہمی ہے کہ اب اگر عام انتخابات ہوئے، تو وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔
لیکن عمران خان اس بار بھی وزیراعظم نابن سکے تو؟۔۔۔اس بار بھی اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے ساتھ ہاتھ کردیا تو؟۔کیا ہوگا اگر قومی اسمبلی کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بھی تحریک انصاف مطلوبہ سیٹیں جیتنے میں ناکام رہی تو؟۔وزیراعظم بنے کے نعرے تو عمران خان نے 2013 کے عام انتخابات سے قبل بھی لگائے تھے۔ لیکن ہوا کیا؟۔بڑی مشکل سے عمران خان قومی اسمبلی کی 24 نشستیں اور خیبر پختونخوا صوبائی حکومت حاصل کرنےمیں کامیاب ہوئے۔سال 2013 کے عام انتخابات کے بعد ایک طرف تو عمران خان پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خلاف احتجاج اور عدالتوں میں کیسز کی سماعتوں میں مصروف رہے۔ دوسری طرف عمران خان خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت بنی گالہ میں بیٹھ کرچلا رہے ہیں۔ جس نے ان چار سالوں میں چند قابل تعریف کارنامے سرانجام دئیے۔ جن میں ایک ارب درخت لگانے کا پروجیکٹ سرفہرست ہے۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عمران خان ان پانچ سالوں میں خیبر پختونخوا کو دوسرے صوبوں کیلئے ایک مثال بنادیتے۔ باقی تین صوبوں کے شہری اپنے صوبے کے سیاستدانوں کو کے پی کے حکومت کی مثالیں دیتے۔لیکن ایسا کچھ ہوا نہیں۔جن شعبوں میں کے پی حکومت نے کارنامے انجام دئیے بھی ہیں۔ وہ بھی ایسے قابل ذکر نہیں کہ سندھ یا بلوچستان اور خاص کر پنجاب کے رہنے والے ان پروجیکٹس کو دیکھ کر عش عش کراٹھیں۔؎
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ عمران خان 2013 کے عام انتخابات کے بعد سے حالتِ احتجاج میں ہیں اور کبھی انتخابات میں دھاندلی، کبھی چار حلقوں میں دھاندلی اور پھر پینامہ لیکس کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کو 126 دنوں تک یرغمال بنائے رکھا۔ میڈیا پر نواز حکومت کے خلاف الزام لگاتے رہے۔ پورے ملک میں کئے جانیوالے جلسوں میں انتخابی ماحول بنائی رکھا۔ سندھ میں جلسہ کیا تو زرداری چور، پنجاب میں جلسہ کیا تو شریف چور۔ یعنی کہ ان چار سالوں میں کے پی کے کی صوبائی حکومت پر کم توجہ دی اور شریف و زرداری کی کرپشنز کی غضب ناک کہانیاں زیادہ سنائیں۔اب جبکہ عام انتخابات قریب ہے تو عمران خان پھر سے وزیراعظم بنے کے دعوے کررہے ہیں۔ جس کے امکانات 2013 کے انتخابات سے بھی کم لگ رہے ہیں۔پھر اگلے انتخابات کے بعد ہوگا کیا؟۔اگلے انتخابات بھی اسی الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کروائے جائیں گے اور 2017 انتخابی ایکٹ میں کی جانیوالی تبدیلیوں کو ان انتخابات میں لاگو کیا جائیگا۔ جن پر تحریک انصاف بھی متفق ہے۔تو کیا عمران خان انتخابات کے نتائجتسلیم کریں گے یا رپھڑی کھلاڑی کی طرح شکست کے بعد روندی کا رونا پٹنا ایک بار پھر سے شروع کردیں گے۔
ممکنہ طور پر حالیہ تاریخ کو دہراتے ہوئے اگلے انتخابات کو بھی رد کیاجائیگا اور احتجاج کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائیگا۔آج تک عمران خان نے صرف لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے ننائج پر تنقید نہیں کی اور اس کی وجہ یہ کہ وہ انتخابات فوج کی زیر نگرانی میں ہوئے تھے۔ جس پر اگر عمران خان تنقید کرتے تو وہ پاک فوج پر تنقید کرنے کے مترادف ہوتی۔ جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ کانتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والا جوڈیشل کمیشن ہویا قومی اسمبلی کے چار حلقوں کی تحقیقات کرنے والا الیکشن ٹربیونلز۔ الیکشن کمیشن ہویا اسلام آباد ہائیکورٹ۔ عمران خان نے اپنے خلاف آنیوالے فیصلوں پر تنقید ہی کی ہے۔اور تو اور 2013 کے انتخابات سے پہلے سابق چیف الیکشن کمشنر مرحوم فخروالدین جی ابراہیم کی تعیناتی کو عمران خان نے خوب سراہا۔ مگر جب انتخابی نتائج توقعات کے خلاف آئے تو عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو بھی انتخابی دھاندلی میں ملوث قرار دے دیا۔ایسی حالات میں نہیں لگتا کہ عمران خان اگلےانتخابات کے بعد بھی وزیراعظم بنے میں کامیاب ہوں گے اور ایک بار پھر سے وہ انتخابی نتائج کو رد کردیں گے۔ جس کے بعد پھر سے نئی بنے والی حکومت کے خلاف 2023 کےانتخابات تک احتجاج کا سلسلہ شروع کرہوجائیگا اور یہ سلسہ تب تک جاری رہگا۔ جب تک کہ عمران خان وزیر اعظم نہیں بن جاتے۔ چاہے اس میں کتنے سال ہی کیوں نا لگ جائیں۔


Top