پیپلز پارٹی کی چھتری میں سوراخ ہو گیا ۔۔۔۔۔ عام انتخابات میں جیت کے دعوے کرنے والے بلو اور اسکے بابا کے کام کی خبر آ گئی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > متفرق > پیپلز پارٹی کی چھتری میں سوراخ ہو گیا ۔۔۔۔۔ عام انتخابات میں جیت کے دعوے کرنے والے بلو اور اسکے بابا کے کام کی خبر آ گئی

پیپلز پارٹی کی چھتری میں سوراخ ہو گیا ۔۔۔۔۔ عام انتخابات میں جیت کے دعوے کرنے والے بلو اور اسکے بابا کے کام کی خبر آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سابق پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان نے کہا ہے کہ حکومت کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور ملک میں ہیجان کی کیفیت کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا ووٹر آصف علی زرداری کی چھتری کے نیچے کبھی نہیں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کے پاس ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ڈگری ہے

لیکن آصف زرداری انہیں اکیلے سیاست نہیں کرنے دے رہے جس کے پارٹی کےلئے انتہائی منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی گلی محلے اور تھڑے کی پارٹی تھی جسے دیواروں اور محلات کے اندر بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر بابو سرفراز خان جتوئی نے کہا ہے آصف زرداری اور ان کی پارٹی سندھ میں کچھ ڈلیور نہیں کرسکے، سندھ کابینہ میں کرپٹ وزیر شامل ہیں، گورننس نام کی چیز نہیں، سندھ کو مسائلستان بنا دیا گیا ہے حتیٰ کہ ضلع لاڑکانہ میں بھی پینے کا پانی نہیں دے سکے۔ چیف جسٹس سندھ نے انکی بہن فریال تالپور کی کرپشن پر کہا کہ ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے لیکن اس خاتون نے لاڑکانہ کو بھی نہیں چھوڑا۔ نوائے وقت کو دئیے انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا آصف زرداری کا جب گھیراﺅ ہوتا ہے تو وہ بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا سہارا لیتے ہیں اور ان کے قبرستان گڑھی خدا بخش میں سیاسی گھر بناتے ہیں۔ کیا یہ وقت کی ستم ظریفی نہیں سابق صدر پاکستان اور ملک کی بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ بیک ڈور قوتوں کا آلہ¿ کار بن کر ایک ”ملا“ کے پاس جا پہنچتا ہے۔

جو قوتیں انہیں وہاں لے گئیں انہوں نے ہی اس ملاقات کا بھانڈہ پھوڑا وگرنہ یہ خورشید شاہ کی ملاقات کی آڑ میں خفیہ ملاقات کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا عمران خان بھی انہیں گالیاں دیتا تھا اور آج بھی ان پر برس رہا ہے لیکن انہوں نے اس کے سامنے بھی گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا الیکشن 2013ءمیں پیپلزپارٹی نے سند ھ میں 33لاکھ ووٹ حاصل کرکے حکومت بنائی جبکہ پیپلزپارٹی کے خلاف 37 لاکھ ووٹ پڑے۔ ستم ظریفی کہنا چاہئے اقلیتی ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی سندھ کی حکمران بنی تاہم الیکشن 2018میں اب یہ سندھ میں حکومت نہیں بنا سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ زرداری ٹولہ مفاد پرست ہے الیکشن 2013 کے بعد مفاہمت کا نعرہ لگایا تاکہ احتساب سے بچا جاسکے۔ آصف زرداری ہر وقت پینترے بدلتے ہیں اب بھی انہوں نے احتساب اور کرپشن سے بچنے کیلئے پینترہ بدلا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پیر پگاڑا اور پرویزمشرف کا ایک اتحاد میں ہونا ظاہر کرتا ہے کس نے یہ اتحاد بنایا ہے سندھ میں یہ اتحاد کامیاب نہیں ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) سندھ میں الائنس نہیں بنائیگی البتہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گے اور ہم سندھ میں حکومت بنائیں گے۔ 1997ءمیں بھی مسلم لیگ (ن) نے سندھ میں قومی اسمبلی کی 17 سیٹیں جیتی تھیں۔(ش س م)


Top