عمران خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔۔۔وزیر اعظم کے ’ پاکستان سزدان پورٹل ‘(شکایت سیل ) کے پہلے کیس پر عملدرآمد ہو گیا ، یہ کیس کہاں ہوا اور کیا تھا ؟ جانیے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > عمران خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔۔۔وزیر اعظم کے ’ پاکستان سزدان پورٹل ‘(شکایت سیل ) کے پہلے کیس پر عملدرآمد ہو گیا ، یہ کیس کہاں ہوا اور کیا تھا ؟ جانیے

عمران خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔۔۔وزیر اعظم کے ’ پاکستان سزدان پورٹل ‘(شکایت سیل ) کے پہلے کیس پر عملدرآمد ہو گیا ، یہ کیس کہاں ہوا اور کیا تھا ؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیراعظم عمران خان نے کچھ روز قبل پاکستان کے سب سے پہلے ” پاکستان سیٹیزن پورٹل ‘ متعارف کروایا جس میں کوئی بھی پاکستانی اپنی شکایت درج کروا سکتاہے جس پر حکومت کی جانب سے براہ راست کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اب خوشخبری یہ ہے کہ اس کا پہلا کیس سامنے آ گیاہے جس پر احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔
حکومت کے ’ پاکستان سیٹزن پورٹل ‘ کے پہلے کیس پر عملدرآمد ہو گیا ،احکامات جاری ،یہ کیس کہاں ہوا اور کیا تھا ؟ عمران خان نے وہ کر دکھایا جو اور کوئی نہ کر سکاتفصیلات کے مطابق عمران خان نے اس پورٹل کا افتتاح کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا پورٹل ہے جو کہ چار ہزار سرکاری دفاتر کو ایک ساتھ جوڑے گا اور یہ ہمارے نئے پاکستان کے منشور کا حصہ ہے ۔حال ہی میں ایک شہری کی جانب سے پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کروائی گئی اور اس پر کارروائی کیلئے جاری ہونے والے احکامات کا سکرین شاٹ شیئر کیاہے جو کہ انٹر نیٹ پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہاہے ۔نوٹیفکیشن سے یہ ظاہرہو تاہے کہ یہ کیس دراصل ملتان میں پنجاب حکومت کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے متعلق ہے ۔عام شہری نے درخواست دی کہ ” اسلام علیکم سر ! میڈیکل کمپنیوں والے ڈاکٹر کو اپنی ادویات لکھ کر دینے کیلئے بہت زیادہ پیسے بطور تحفہ دیتے ہیں جس کی وصولی کمپنی مریضوں کے جیبوں سے نکالتی ہیں جو کہ ادویات مہنگی ہونے کا باعث بنتی ہیں ، اسے بھی کنٹرول کریں اور باقی آپ خود سمجھدار ہیں اور میں زیادہ نہیں لکھ رہا ، اللہ آپ کی حفاظت کرے ، آمین۔پورٹل پر شکایت ملنے کے بعد اسے متعلقہ شخص سی ای او ڈی ایچ اے (ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ) کے پاس بھیج دیا گیاہے ۔جس کے بعد سی ای او اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” ہیلتھ کی سہولیات کے مراکز کے تمام انچارجز کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ادویات ساز کمپنیوں کے نمائندوں کو اپنے اداروں میں داخلے سے روک دیں اور یہ لکھ کر بھی لگا دیں کہ میڈیکل کمپنیوں کے نمائندوں کو صحت کے اداروں میں داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔“


Top