عمران خان کو اقتدار میں آئے 8 ماہ ہو گئے ، کیا کپتان کامیاب ہو گیا یا نہیں ؟ اگلی باری کس کی ہو گی ؟ اہم سروے کے ہلچل مچا دینے والے نتائج سامنے آ گئے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > متفرق > عمران خان کو اقتدار میں آئے 8 ماہ ہو گئے ، کیا کپتان کامیاب ہو گیا یا نہیں ؟ اگلی باری کس کی ہو گی ؟ اہم سروے کے ہلچل مچا دینے والے نتائج سامنے آ گئے

عمران خان کو اقتدار میں آئے 8 ماہ ہو گئے ، کیا کپتان کامیاب ہو گیا یا نہیں ؟ اگلی باری کس کی ہو گی ؟ اہم سروے کے ہلچل مچا دینے والے نتائج سامنے آ گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چند روز قبل کیے جانے والے ایک سروے میں 57 فیصد پاکستانی شہریوں نے وزیراعظم عمران خان کی کارگردگی پراطمینان کا اظہارکیاہے، اس جائزہ میں 83 فیصد پاکستانی شہریوں نے گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے انتخابات کے آزادانہ اورغیرجانبدارانہ انعقاد پراپنے اطمینان کااظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ نتائج

انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ (آئی آرآئی ) سینٹر برائے انسائیٹ نے جمعرات کو سروے کے نتائج جاری کرتے ہوئے بتائے ہیں ۔ اس سروے میں 57 فیصد پاکستانی شہریوں نے کہاہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان بہت اچھا کام کررہے ہیں،سروے میں مجموعی طورپر56 فیصد شہریوں نے حکومت کی کارگردگی پراطمینان کااظہارکیاہے۔ اس سروے میں مجموعی طورپر 66 فیصد شہریوں نے حکومت کو انتخابی مہم میں کئے گئے وعدوں کو عملی شکل دینے کیلئے ایک سال سے لیکر دوسال تک کا وقت دینے کی حمایت کی ہے۔اس سروے میں 39 فیصد شہریوں نے مہنگائی، 18 فیصد نے غربت اور15 فیصد نے بے روزگاری کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیاہے‘18 سال سے لیکر 35 سال تک کے عمر کے 77 فیصد رائے دہندگان نے رائے دی ہے کہ روزگارکے مواقع نہ ہونا پاکستانی نوجوانوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔آئی آر آئی کی علاقائی ڈائریکٹربرائے ایشیاء جوہانا کا? نے بتایا کہ سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی کارکردگی حکومت کی جانب سے اقتصادی مسائل کے حل کیلئے اقدامات سے جانچی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ کمزوراقتصادی حالات بیشتر پاکستانیوں کیلئے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کودرپیش اقتصادی مشکلات کے باوجود پاکستان کی نئی حکومت اوروزیراعظم پرلوگوں کے اعتماد کی سطح بلند ہے۔انہوں نے کہاکہ سروے سے معلوم ہوتاہے کہ پاکستانی انتخابات میں کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کیلئے حکومت کو وقت دینے کیلئے تیارہیں۔سروے میں 84 فیصد پاکستانیوں نے گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے عام انتخابات پر مکمل اعتماد کااظہارکیاہے جبکہ 83 فیصد شہریوں نے رائے دی کہ

انتخابات آزادانہ ومنصفانہ ہوئے ہیں۔ سروے کے دوران یکم نومبر سے لیکر22 نومبر 2018ء کے درمیان 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 3ہزار991 پاکستانی شہریوں کی رائے لی گئی جبکہ اس میں غلطی کی گنجائش 1.6 فیصد رکھی گئی۔ اس سروے میں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر مجموعی طور پر 51 فیصد شہریوں نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب کی حکومت پر 58 فیصد، سندھ کی حکومت پر 30 فیصد، خیبرپختونخوا کی حکومت پر 58 اور بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کو 54 فیصد رائے دہندگان نے اچھا قرار دیا ہے۔ سروے میں 46 فیصد رائے دہندگان نے روزگار کی فراہمی، 39 فیصد نے مہنگائی پر قابو پانے اور 33 فیصد نے بدعنوانی کے خلاف جنگ کو تحریک انصاف کا اہم انتخابی نعرے قرار دیا جبکہ 21 فیصد نے 5 ملین گھروں کی تعمیر اور 11 فیصد نے غربت کے خاتمے کو پاکستان تحریک انصاف کے اہم انتخابی نعرہ قرار دیا ہے۔ آئی آر آئی کے سروے میں قومی اسمبلی کے ارکان پر 53 فیصد جبکہ صوبائی اسمبلی کے ارکان کی کارکردگی پر 54 فیصد رائے دہندگان نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ سروے میں 38 فیصد رائے دہندگان نے پاکستان تحریک انصاف کو پسند کرنے، 29 فیصد نے کسی حد تک پسند کرنے کی رائے دی ہے۔ مجموعی طور پر 67 فیصد رائے دہندگان نے پاکستان تحریک انصاف کے لئے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ 19 فیصد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو زیادہ پسند کرنے، 22 فیصد نے کسی حد تک پسند کرنے جبکہ 28 فیصد رائے دہندگان نے اس کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ 16 فیصد نے پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے زیادہ پسندیدگی

جبکہ 21 فیصد نے ایک حد تک پسندیدگی کا اظہار کیا۔ 23 فیصد رائے دہندگان نے پیپلزپارٹی کے لئے ناپسندیدگی اور 38 فیصد نے زیادہ ناپسندیدگی کی رائے دی ہے۔ سروے میں سوال کیا گیا تھا کہ آئندہ ہفتے قومی اسمبلی کے لئے انتخابات منعقد ہو رہے ہوں تو آپ کس کو ووٹ دیں گے۔ اس سوال کے جواب میں 34 فیصد نے پی ٹی آئی، 21 فیصد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور 12 فیصد نے پاکستان پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے کی رائے دی۔ تحریک لبیک، عوامی نیشنل پارٹی، جے یو آئی (ف)، بی این پی، بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم کے لئے یہ شرح ایک فیصد رہی ہے۔ سروے میں 56 فیصد رائے دہندگان نے مستقبل کے انتخابات کے لئے موجودہ سیاسی جماعتوں پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ 24 فیصد نے رائے دی ہے کہ وہ نئی جماعتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی رپورٹنگ کے حوالے سے شفافیت پر 83 فیصد شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا، 48 فیصد نے اس کو بہت شفاف جبکہ 35 فیصد نے کسی حد تک شفاف قرار دیا۔ 50 فیصد نے انتخابات کو مکمل طور پر آزادانہ و منصفانہ جبکہ 33 فیصد نے زیادہ تر آزادانہ و منصفانہ قرار دیا۔ اس سروے میں 33 فیصد رائے دہندگان نے مکمل طور پر نئے صوبوں کے قیام اور 13 فیصد نے کسی حد تک نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی ہے تاہم 21 فیصد رائے دہندگان نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ 29 فیصد رائے دہندگان نے مضبوطی جبکہ 10 فیصد نے ایک حد تک جنوبی پنجاب صوبہ کی حمایت کی ہے تاہم 28 فیصد نے اس کی مکمل مخالفت کی ہے۔ سروے میں 59 فیصد رائے دہندگان نے سابق قبائلی علاقہ جات کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی حمایت کی ہے، 38 فیصد نے مضبوط حمایت جبکہ 21 فیصد نے ایک حد تک اس کی حمایت کی، 7 فیصد رائے دہندگان نے اس کی مکمل طور پر مخالفت کی ہے


Top