محمد علی جناح کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے،وہ وقت جن قائداعظم محمد علی جناح سے لندن یونیورسٹی میں ایک پروفیسر انتہائی نفرت کرتے تھے۔۔۔۔ پڑھیے قائداعظم محمد علی جناح کی حاضر دماغی کی عظیم داستان – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > محمد علی جناح کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے،وہ وقت جن قائداعظم محمد علی جناح سے لندن یونیورسٹی میں ایک پروفیسر انتہائی نفرت کرتے تھے۔۔۔۔ پڑھیے قائداعظم محمد علی جناح کی حاضر دماغی کی عظیم داستان

محمد علی جناح کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے،وہ وقت جن قائداعظم محمد علی جناح سے لندن یونیورسٹی میں ایک پروفیسر انتہائی نفرت کرتے تھے۔۔۔۔ پڑھیے قائداعظم محمد علی جناح کی حاضر دماغی کی عظیم داستان

قائداعظم جب لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک انگریز پروفیسر ’’پیٹرز‘‘ ان سے شدید نفرت کرتے تھے‘ ایک دن پروفیسر ڈائننگ روم میں لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے‘ پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور اس نے

جنا ح کو کہا ’’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے؟‘‘۔ جناح نے پراطمینان لہجے میں جواب دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں I will fly to other table‘‘جناح کے اس جواب پرپروفیسر کوبہت غصہ آیا اور اسنے انتقام کا فیصلہ کر لیا‘اگلے ہی دن پروفیسر نے جناح سے سوال کیا کہ اگر تم کو راستے میں دو بیگ ملیں اور ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہو تو تم کس کو اٹھاؤ گے؟ جناح نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ ’’دولت‘‘۔ جناح کے اس جواب پر پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو ’’دانائی‘‘ والے بیگ کو اٹھاتا۔ جناح نے جواب دیا کہ ’’ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی‘‘۔قائداعظمؒ سے عام مسلمانوں کو جو بے پناہ محبت اور عقیدت تھی اور جس طرح وہ ان کے ایک اشارے پر سردھڑ کی بازی لگا دینے کےلئے کمربستہ ہوگئے تھے اسی سے پاکستان کا حصول ممکن ہوا۔ اس صورت حال سے انگریزوں اور کانگریسی لیڈروں کو اچھی طرح آگاہی تھی۔ اپنی کتاب ورڈکٹ آف انڈیا (Verdict of India) مےں بیورلے نکلز قائداعظمؒ کے بارے مےں لکھتا ہے ”وہ اپنے ایک اشارے سے اپنی مرضی کے مطابق جنگ کا رخ پلٹ سکتے ہےں۔ دس کروڑ مسلمان ان کے ایک اشارے پر دائیں بائیں اور آگے پیچھے بڑھ سکتے ہےں اور یہ واقعہ ہے کہ وہ ان کے حکم کے علاوہ کسی اور کا حکم ماننے کو تیار نہیں ہےں۔“سوال

یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قائداعظمؒ محمد علی جناح کی شخصیت اور ان کے کردار مےں ایسا کیا کرشمہ تھا کہ گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر ہندوستان کے باقی سارے مسلمان اپنے گروہی اور علاقائی اختلافات کو بھلا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح قائداعظمؒ کے پرچم تلے کھڑے ہوئے تھے۔ کیا قائداعظمؒ نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے انہیں اس قدر قائل کر لیا تھا؟ کیا انہوں نے کوئی ایسی زبان استعمال کی تھی جو عام لوگ آسانی سے سمجھ لیتے تھے؟ کیا انہوں نے روپے پیسے‘ پلاٹوں پرمٹوں‘ ملازمتوں اور عہدوں کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا؟ کیا انہوں نے روٹی کپڑوں اور مکان کا نعرہ بلند کیا تھا؟ آخر وہ کون سی قوت تھی جس کے بل بوتے پر قائداعظمؒ نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا؟ دنیا کے نقشے کو تبدیل کر دیا۔ تاریخ کا وہ معجزہ رونما ہوگیا جس کا نام پاکستان ہے۔ دنیا کی وہ سپرپاور جس کی عالمگیر حدود مےں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اپنے تمام وسائل کے باوجود قائداعظمؒ کے عزم کو پابہ زنجیر نہ کر سکی۔ تحریک پاکستان کے بے پناہ سیلاب کے آگے کوئی بند نہ باندھ سکی۔ نہرو خاندان کے چہیتے اور شیدائی اور ہندوستان کے آخری وائسرے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے قیام پاکستان کے کئی برس بعد بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ”مجھے صرف اس مقصد کےلئے ہندوستان بھیجا گیا تھا کہ مےں ہندوستان کو کسی نہ کسی طریقہ سے متحد رکھ سکوں اور ایک متحدہ ہندوستان ہی کو اقتدار منتقل کروں۔ مےں نے اس مقصد کےلئے بڑی کوششیں کیں، دن رات ایک کر دیئے۔ راتوں کی نیند حرام کی لیکن میرے مقصد کی راہ مےں ایک ایسا شخص حائل تھا جو پہاڑ کی طرح رکاوٹ بنا رہا اور وہ تھا محمد علی جناح۔“


Top