بچوں سے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ،تشویشناک اعداد و شمار نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > خبریں > بچوں سے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ،تشویشناک اعداد و شمار نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

بچوں سے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ،تشویشناک اعداد و شمار نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

بچوں سے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ،تشویشناک اعداد و شمار نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا
کراچی(ویب ڈیسک ) ملک میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ،نجی ٹی وی کی جانب سے کئیے جانے والے سروے کے نتائج میں پریشان کن اعداد و شمار سامنے آگئے۔تفصیلات کے مطابق قصور میں معصوم زینب کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی واردات کے بعد جنسی زیادتی اور اسکے بڑھتے ہوئے،
واقعات عوام و خواص کی گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں ۔ ایک طرف ماہرین کی جانب سے میڈیا پر اس موضوع پر گفتگو کی جا رہی ہے تو دوسری جانب عوام بھی اس موضوع پر خاصی بات چیت کر رہے ہیں ۔اس حوالے سے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے اعداد و شمارپریشان کن ہیں ۔ایسے ہی پریشان کن نتائج نجی ٹی وی کی جانب سے کئیے گئے سروے کے بعد سامنے آئے ۔نجی ٹی وی کی جانب سے سروے کیا گیا کہ جس میں شرکا ء کو بتانا تھا کہ کیا انکے گردوپیش میں جنسی زیادتی کے واقعات ہو رہے ہیں یا نہیں۔سروے کے نتائج کے مطابق 46فیصد شرکاء نے انکشاف کیا ہے کہ انکے گردو پیش میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں ۔یہ اعداد و شمار خاصے پریشان کن اور ہمارے معاشرے میں گرتی ہوئی اخلاقی اقدار کا ثبوت ہیں جبکہ 54فیصد افراد کا کہنا تھا کہ ان کے گرد و پیش میں ایسے واقعات نہیں ہو رہے۔ سینٹرل پولیس آفس ( سی پی او) ذرائع کے مطابق 2017 میں 3 سے 15 سال کی عمر کے بچے اور بچیوں کے خلاف جرائم کے 750 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے زیادہ تر جرائم لاہور، فیصل آباد، گجرانوالہ، قصور اور راولپنڈی میں رپورٹ ہوئے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تازہ اعداد و شمار جب سامنے آئے جب پنجاب کی تحقیقاتی برانچ نے قصور واقعے کے بعد بچوں کے خلاف جرائم کے کیسس کا ڈیٹا حاصل کیا۔

اس بارے میں پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ قصور واقعے سے قبل پنجاب پولیس کے پاس بچوں کے خلاف جرائم کے مقدمات کا کوئی جامع ڈیٹا موجود نہیں تھا۔تاہم ابتدائی تجزیہ کے دوران پولیس کو اس بات کی نشاندہی ہوئی کہ بچوں کے خلاف جرائم کے مقدمات کی تعداد 2016 کے مقابلے میں 2017 میں 30 فیصد زیادہ تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں رپورٹ ہونے والے ان مقدمات میں زیادہ تر بچوں کو جنسی زیادتی یا جبری مشقت کے لیے اغوا کرنے سے متعلق تھے۔جبکہ دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے کہا ہے کہ 6واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم ایک ہی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہناتھا کہ ہم واقعہ قصور پر شرمندہ ہیں ، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس پر وضاحت کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ زینب کے واقعے سے پہلے 6سے 7مقدمات ایسے تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ سب کا ملزم ایک ہے جبکہ جس طریقے سے ملزمان لاشوں کو پھینکا اس سے معلوم ہو اکہ طریقہ بدلا گیا ہے لیکن لاشوں کے ساتھ جوبرتاو کیا گیا وہ ایک ہی ملزم کی جانب سے اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ڈی این اے میچ بھی ہوئے ہیں،ملزم کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ،بیٹیاں سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں۔ترجمان پنجاب حکومت کا مزید کہناتھا کہ ڈی پی او قصو ر کو5روز سے واقعے کا علم تھا لیکن پھر بھی انہوں نے توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس وجہ سے انہیں ہٹا یا گیا ۔


Top