لاہور: ڈیفینس کے امیر زادوں نے پولیس کانسٹیبلز کو اپنی گاڑی کے نیچے کیوں کچلا ؟ اصل حقیقت تو اب سامنے آئی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > لاہور: ڈیفینس کے امیر زادوں نے پولیس کانسٹیبلز کو اپنی گاڑی کے نیچے کیوں کچلا ؟ اصل حقیقت تو اب سامنے آئی

لاہور: ڈیفینس کے امیر زادوں نے پولیس کانسٹیبلز کو اپنی گاڑی کے نیچے کیوں کچلا ؟ اصل حقیقت تو اب سامنے آئی

لاہور (ویب ڈیسک ) ذرا تصور کیجیے دو نوجوان ہیپی نیو ائیر نائٹ منانے کے لیے اپنے گھر سے نکلتے ہیں دونوں نوجوان شراب کے نشے میں پہلے سے ہی دھت ہیں اوپر سے نشہ جوانی کا اور پھر باپ کی بے انتہا دولت کا خمار بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔

دونوں نوجوان دراصل ملک کی مقتدر سیاسی جماعت کے اہم رہنما کے بیٹے بھانجے یا بھتیجے ہیں ، ملک میں انکے کئی کاروبار پھیلے ہوئے ہیں ، حرام کا مال یعنی قومی خزانے کو لوٹ کر جمع کی گئی دولت بھی سنبھالے نہیں سنبھل رہی ۔اس دولت کو عیاشیوں پر خرچ کرنے کا ایک شاندار موقع ہیپی نیو ائیر نائٹ تھا ۔ شراب کے ساتھ شباب نہ ہو یہ کہاں لکھا ہے ۔ اسی شباب کے بندوبست کے لیے یہ دونوں امیر زادے نکلے تھے سڑک پر ٹریفک معمول سے زیادہ تھی ۔ کچھ دور ہی چلے تھے کہ پولیس کا ناکہ آگیا اس ناکے پر پولیس نے رکاوٹیں کچھ اس طرح سے کھڑی کی تھیں کہ وہاں سے گاڑیاں انتہائی سست رفتاری سے گزر رہی تھیں اور گاڑیاں باری باری ان رکاٹوں اور پولیس کے ڈیوٹی پر مامور جوانوں کی نظر سے ہو کر گزر رہی تھیں ۔ جب ان امیر زادوں کی گاڑی اس ناکے پر پہنچی توان سے پہلے ایک گاڑی موڑ کاٹتے ہوئے پولیس کی چیکنگ کے مراحل سے گزر رہی تھی مگر حرام مال ، جوانی ، شراب کے نشے میں دھت اور شباب کے مزے لوٹنے کے لیے بے قرار ان دولت مند لونڈوں سے چند سیکنڈز کا انتظار بھی برداشت نہ ہوا اور ڈرائیونگ کرنے والے نے ایکسلیٹر پر اپنا پاؤں پوری طاقت سے رکھ دیا جس سے گاڑی آگے کھڑے دو پولیس کانسٹیبلز کو فضا میں اڑاتی ہوئی گزر گئی،

پولیس کی رکاوٹوں کو ہٹ کرنیوالی گاڑی کے ناکے کے قریب پہنچنے اور رکاوٹوں کو ہٹ کرنے کی ویڈیو دیکھ کر یہ نتائج مرتب کرنا مشکل نہیں کہ ۔۔۔1۔ گاڑی میں دو نوجوان سوار تھے جو شراب کے نشے میں دھت تھے ۔ 2۔ گاڑی پولیس ناکے پر پہنچی تو اس سے پہلے گاڑیاں آہستہ ہو کر وہاں سے باری باری گزر رہی تھیں ۔3۔ مذکورہ نوجوانوں نے پہلے تو گاڑی کی رفتار کم کی اور اپنی باری پر گزرنے کا سوچا مگر یک دم گاڑی چلانے والے نوجوان کے دماغ پر باپ کے لوٹ مار کے مال ، شراب کا نشہ اور شباب کا خمار چھا گیا اور اس نے یہ کہتے ہوئے گاڑی کے ایکسیلیٹر پر پوری قوت سے پاؤں رکھ دیا ۔۔۔۔ ان دو ٹکے کے سپاہیوں کی یہ جرات کہ ہمیں روکیں یہ جانتے نہیں کہ ہم کون ہیں ؟حکومت بھی ہماری ملک بھی ہمارا،شہر بھی ہمارا ، آئین اور قانون ہمارے گھر کے نوکر اور ہم معمولی لوگوں کی طرح ان ناکوں سے گزریں۔۔۔۔ بس چشم زدن میں گاڑی نے گولی کی رفتار پکڑی اور سامنے کھڑے دو پولیس کانسٹیبلز کو روئی کے گالوں کی طرح فضا میں اچھال دیا ، ان میں سے ایک پولیس ملازم موقع پر جانبحق ہو گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں ہسپتال کے آئی سی یو میں موت و حیات کی کشمکش میں پڑا ہے ۔(نوٹ : یہ قیاس و اندازے پر مبنی ایک تحریر ہے اور مندرجہ ذیل ویڈیو دیکھ کر آپ بھی اس تحریر کی تائید کریں گے ) (ش س م)


Top