تمہارا ووٹ ووٹ اور ہمارا ووٹ پرچی۔۔۔نامور سیاستدان نے نواز شریف کو اس کی اصل اوقات یاد کرا دی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > تمہارا ووٹ ووٹ اور ہمارا ووٹ پرچی۔۔۔نامور سیاستدان نے نواز شریف کو اس کی اصل اوقات یاد کرا دی

تمہارا ووٹ ووٹ اور ہمارا ووٹ پرچی۔۔۔نامور سیاستدان نے نواز شریف کو اس کی اصل اوقات یاد کرا دی

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ کیا ووٹ صرف وہ ہے جو نوازاور اچکزئی کو ملےاور کیا ہمارے ووٹ کی کوئی عزت نہیں ،میرے والد نے مجھے وصیت کی تھی کہ نواز شریف امریکہ کا صدر بھی بن جائے تو ان کا ساتھ نہ دینا،

ووٹ کو خودعزت نہ دینے والے آج کس منہ سے ووٹ کی تقدس کی بحالی کی بات کر رہے ہیں؟ انہوں نے ان خیالات کا اظہارپاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کی تقریب رونمائی میں بطور صدر تقریب خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ووٹ کی عزت کی بات کرنے والوں کے اپنے ہاں کسی منتخب نمائندے کی عزت نہیں ۔انہوں نے سوال کیا کہ نواز شریف یا محمود خان اچکزئی کو دئیے گئے ووٹ کی تو عزت ہے لیکن اگر یہ ووٹ کسی اور کو دیا جائے تو یہ ووٹ کی تذلیل ہوگی،اگر صادق سنجرانی کی جگہ نواز شریف کے امیدوار جیت جاتے تو ووٹ کی عزت کی جاتی۔جوووٹ کی عزت کی بات کرتے ہیں انہوں نے سینیٹ میں ووٹ کی کیوں عزت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے 500 ووٹ لینے کا طعنہ دینے والوں کو علم نہیں کہ ان 500ووٹرز نے سر پر کفن پہن کر مجھے ووٹ دیئے۔ قدوس بزنجونے کہا کہ بلوچستان میں آج بھی 18،18گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے وزراء اور اراکین اسمبلی کو گلہ یہ ہے کہ وزیراعظم ہائوس کے دروازے ان پر بند ہیں

اور وزراء ہماری بات نہیں سنتے یہ کیسی جمہوریت ہے؟انہوں نے کہا کہ ہم چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے نواز شریف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں ،نواز شریف خود کو بالاتر سمجھتے ہیں ۔ عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ’’سچ تویہ ہے‘‘ نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہے،چوہدری شجاعت نے اس کتاب میں وہ سچ لکھا ہے جو کوئی نہیں لکھ سکتا۔لاہور کے مقامی ہوٹل میں’’سچ تو یہ ہے‘‘ کی تقریب رونمائی سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور سینئر کالم نویسوں حسن نثار، حامد میر اور ایازا میر نے بھی خطاب کیاجبکہ اوریا جان مقبول نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔کتاب کے مصنف چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میرے لئے ملکی وقار اور قومی سلامتی ہر چیز سے مقدم ہے،میں نے نصف صدی کی سیاسی زندگی کو اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، جو کچھ سنا اور دیکھا کسی مبالغہ آرائی کے بغیر جوں کا توں کتاب میں پیش کر دیا ہے اور بطور سیاستدان اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔ یہ ایک امانت تھی جو قوم کے سپرد کر کے سرخرو ہوا ہوں۔ کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ جس دن نواز شریف خاندان نے سچ بولا ان کی

سیاست کا آخری دن ہوگا، پاکستان میں سب اقتدار کی سیاست کرتے ہیں، میرے خلاف کلاشنکوف کا کیس بنا اور مجھے صحافیوں نے پہلے بتا دیا کہ آپ کو 7سال کی سزا ہونے والی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ میں نے تمام اراکین کو خط لکھا کہ میرا ساتھ دو مگر کسی ایم این اے نے میرا ساتھ نہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی سیاست نرالی ہے، آج چور چوکیدار بنا ہوا ہے، یہاں سب معین قریشی ہیں جو بیروت کے ہوٹل میں کافی پی رہے تھے کہ ان کو پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی نواز شریف این آر او کی تلاش میں بیٹھے ہیں۔ 23مارچ کو کوشش کی مگر این آر او نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس میں 29منٹ مریم نواز کی ریکارڈنگ موجود ہے ،کس سے باتیں ہوئیں۔ چودھری نثار کو اس معاملہ پر سچ بولنا چاہئے اور قوم کو بتانا چاہئے کہ ملک کے اصل دشمن کون ہیں۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ چودھری شجاعت کی کتاب کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ احتساب کے نام پر سیاستدان کو ختم نہیں کیا جاسکتا، ووٹ کی عزت ہونی چاہئے، سیاستدان کو پارلیمینٹ سے نکال سکتے ہیں لیکن سیاست سے نہیں نکالا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ چودھری ظہور الہی ٰنے بھی ووٹ کو عزت دینے کی بات کی تھی۔ 1970ء میں ووٹ کو عزت نہ دینے کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹر شپ نے بھی جمہوریت کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے پہلے بھی سپریم کورٹ پر حملہ کرکے کچھ لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا اور آج بھی توہین عدالت کرکے کچھ ارکان کو قربانی کے لئے تیار کیا گیا ہے، اب یہ کھیل بند ہونا چاہئے۔ حسن نثار نے شریف خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس خاندان کےڈی این اے میں وعدہ خلافی ہے۔ ایازا میر نے کہا کہ چودھری برادران کا بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے چودھری ظہور الہٰی کی شہادت کے بعد نہ صرف ان کا سیاسی خلا پر کیا بلکہ اس سے بھی آگے نکل گئے۔


Top