مولانا سمیع الحق کے قتل پر “موچی ” کے غلیظ انکشافات : لندن میں میجر جنرل آصف غفور نے کس سے ملاقات کی تھی اور اس خصوصی ملاقات کا مقصد کیا تھا ؟ باخبر اور معتبر صحافی کے انکشافات – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > مولانا سمیع الحق کے قتل پر “موچی ” کے غلیظ انکشافات : لندن میں میجر جنرل آصف غفور نے کس سے ملاقات کی تھی اور اس خصوصی ملاقات کا مقصد کیا تھا ؟ باخبر اور معتبر صحافی کے انکشافات

مولانا سمیع الحق کے قتل پر “موچی ” کے غلیظ انکشافات : لندن میں میجر جنرل آصف غفور نے کس سے ملاقات کی تھی اور اس خصوصی ملاقات کا مقصد کیا تھا ؟ باخبر اور معتبر صحافی کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) سانپ مرگیا لاٹھی بچ گئی پاکستان کے دشمن، خانہ جنگی کے خواب دیکھنے والے بے بسی سے ہاتھ مل رہے ہیں۔ ہائے یہ پیچیدہ مسئلہ پُرامن طریقے سے کیسے حل ہوگیا۔ گلی کوچوں اور سڑکوں پر خون کیوں نہ بہا حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ پر ہمارے کچھ اینکرز بہت ناراض نظر آتے ہیں۔
نامور کالم نگار محمد اسلم خان روزنامہ نوائے وقت میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔نجانے آگ و خون کے کھیل میں اْنہیں کیوں اتنی دلچسپی تھی۔ ہمیں ایک اور لال مسجد سانحہ نہیں دہرانا۔ حکومت نے مذاکرات اور معاہدہ کا راستہ اختیار کر کے بہت اچھا کیا۔ حالات خراب کرنے کیلئے یہ جانے پہچانے چہرے آخری لمحوں تک بروئے کار رہے۔ آسیہ بی بی کو جعلی خبروں کے سہارے کینیڈا پہنچا دیا گیا۔ دریدہ دہن ’’موچی‘‘نے مولانا سمیع الحق کی پراسرار شہادت بارے غلیظ انکشافات کرکے حالات بگاڑنے کی آخری کوشش بھی کر دیکھی۔ یہ وہی صاحب ہیں جن سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے لندن میں ملاقات کی تھی۔ چند درجن ’’لبروٹوں‘‘ کے منافقانہ معیارات اور استدلال کے بھی کیا کہنے کہ وفاق پاکستان کو توڑنے کیلئے علم بغاوت بلند کر کے پاک فوج سے لڑنے والے ملک و قوم کے باغیوں کو’’ناراض بلوچ بچے‘‘ قرار دیتے ہیں اور ’’ناراض بلوچ عناصر‘‘ کو منانے کی تکرار کرتے رہتے ہیں۔ مدتوں پہلے سابق وزیراعلیٰ اور چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری کا پیمانہ صبر یہ تکرار سُن جواب دے گیا تھا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ پشتون بندوق اٹھائے تو دہشت گرد اور اگر بلوچ باغی دہشت گرد معصوم پنجابیوں کا قتل عام کرے ، دہشت گردی کا بازار گرم کر دے تو وہ ’’ناراض‘‘ عناصر قرار پائے۔ آپ لوگوں کا دْہرا معیار کیوں ہے۔
ایک بلوچ سردار کے اس سوال کا جواب ہمارے پاس آج تک موجود نہیں ہے۔ اپنے آپ میں سب سے معتبر ہونے کے زعم باطل میں مبتلا انگریزی معاصر نے اداریہ لکھا ہے کہ عمران خان نے ایک اور یوٹرن لے لیا۔ سنت رسولؐ سے چڑنے والو کی شدّت جذبات کا یہ عالم ہے کہ بس چلے تو وہ فیض آباد پر جاکر دھرنا دے کر وہی کچھ کریں جس پر دوسروں کے ناقد بنے بیٹھے ہیں۔ اس انگریزی معاصر کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ وہ مسلح بلوچ باغیوں سے لڑتے ہوئے مادرِ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کرنے والوں پاک فوج کے جوانوں کو ‘‘شہید ‘‘ لکھنے پر آمادہ نہیں۔ عجب طرفہ تماشا ہے، داڑھی ،جبہ و دستار سے معاملہ کرو تو خود کو لبرل کہنے والے انتہاپسندی کی دوسری انتہا پر پہنچ جاتے ہیں۔ لبرلز کو تکلیف ہو رہی ہے کہ قتل وغارت کیوں نہ ہوئی؟ مطلب ریاست کو طبقات اپنی رائے کے تابع بنا کر اپنی مرضی تھونپنے پر آمادہ وبرسرپیکار ہیں اور جناب عمران خان کو یہ پیچیدہ معاملہ پُرامن طریقے سے سُلجھانے پر بزدلی کے طعنے دئیے جا رہے ہیں۔ اس دھما چوکڑی میں وزیراعظم عمران خان کا خطاب ایک نئی جہت، ایک نئی ریت اور حکومت کے ایک واضح بیانیے کی نئی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
حکومت کو جادو کا چراغ سمجھنے والوں ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے باز آجائو،اپنا ملک ہے، اس پر رحم کرو۔ یہ بچوں کا کھیل تماشا نہیں۔ اداروں کو مذاق نہ بنائو، نظراُٹھا کر دیکھو دُنیا میں اس کی کتنی کڑی سزا انسانوں کو ملی ہے۔ ان چند دنوں میں کئی سبق سب کے لئے نکلے ہیں۔ کاش کہ سب اپنا اپنا محاسبہ کرکے مستقبل کو ہی بہتر بنانے کے لئے کچھ غور و فکر اور انصاف سے کام لیں۔ آسیہ مسیح کا مقدمہ قومی سکون غارت کرنے کا سبب بنا ہوا ہے۔ کیا یہی وہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نہیں جنہوں نے فیض آباد دھرنے کے موقع پر جسٹس شوکت عزیز کی سخت گیری کو دانشمندی سے سُلجھایا تھا؟ اس وقت چیف جسٹس ثاقب نثار کا طرز عمل قابلِ تعریف ٹھہرا تھا تو اب ان کے کردار پر داغ لگانے کی کیا منطق؟ کیا دلیل اور کیا اخلاقی جواز ہے؟ کیا ہماری یاداشت کا اتنا بُرا حال ہو چکا ہے؟ کیا ہم نے جج صاحبان، جرنیلوں اور دیگر مختلف مراتب پر فائز افراد کو اتنا ہی کمزور تصورکرلیا ہے کہ وہ دوسروں کی مرضی کے غلام ہیں؟ اتنی سادہ سوچ کا مظاہرہ کسی بھی ذی شعور، صاحب معاملہ، صاحب عقل اور بالخصوص حلقہ اثر رکھنے والے کسی بھی فرد کے لئے ہرگز جچتا نہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ان کا فیصلہ پڑھ کر بات کی جائے۔

ریاست کے اپنے تقاضے، اپنے ضابطے، اصول، قاعدے ہوتے ہیں۔ قانون آئین کے تابع ہے۔ لیکن کئی ایسے سوالات حالیہ دنوں کی اذیت ناک اور اعصاب شکن کشیدگی سے برآمد ہوئے ہیں جن کا جواب ہمیں بحیثیت قوم، بحیثیت ریاست اور بحیثیت حکومت اب تلاش کرنا ہوگا۔ کچھ بنیادی سوالات اب طے ہونے چاہئیں تاکہ یہ آئے روز کی بلائوں کا نزول اور قوم کے ساتھ جاری نفسیاتی اذیت کا کھیل انجام کو پہنچ سکے۔ پہلا اور سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ ہم نے معاشرے کو کسی اجتماعی نظم میں چلانا ہے یا اسے انتشار کی نذرکرنا ہے؟ کیا فیصلوں کے کرنے کے پیمانے ہر کسی نے اپنے ہاتھ میں لینا ہیں یا پھر شریعت کے تقاضوں، قانون کی حدود وقیود کا بھی کوئی اصول ہے جس پر ہم نے چلنا ہے؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ طاقت کی بنیاد پر فیصلے ہوں یا کئے جائیں؟ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی اُٹھے اور مرنے مارنے کا اہتمام کر کے اپنی بات سب کو تسلیم کرنے پر مجبور کرے؟ کیا کسی بھی معاشرے میں یہ رویہ کسی خیر کے برآمد ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے؟ اگر حضرت علامہ خادم حسین رضوی صاحب اور ڈاکٹر جلالی صاحب دونوں ایک پیج پر نہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ سب کی رائے ایک ہی بنے؟ سب ایک ہی سانچے میں اپنی سوچ کو قید کر کے چلیں؟ سب کا نتیجہ وہی ہونا چاہئے جو ہمارے ان دو محترم علماء کرام کا ہے؟۔(ش س م)


Top