بڑے کام کی خبر : نیب کے حوالے سے حکومت نے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ، کیا پالیسی بنا لی گئی ؟ انصار عباسی کی خصوصی رپورٹ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > بڑے کام کی خبر : نیب کے حوالے سے حکومت نے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ، کیا پالیسی بنا لی گئی ؟ انصار عباسی کی خصوصی رپورٹ

بڑے کام کی خبر : نیب کے حوالے سے حکومت نے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ، کیا پالیسی بنا لی گئی ؟ انصار عباسی کی خصوصی رپورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے حکومت دعٰوی کرتی ہے کہ بیوروکریسی کے لئے نیب کی پالیسی میں اہم تبدیلی آئی ہے تاکہ سول سروس کسی بھی خطرے کے بغیر امور انجام دے سکے تاہم نیب نے اپنی پالیسی میں تبدیلی سے انکار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق

قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں انصار عباسی لکھتے ہیں کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم کے اقدامات کے بعد نیب پالیسی تبدیل ہوئی، جس پر نیب نے وضاحت کی کہ چیئرمین نے اپنے طور پر اعلیٰ بیوروکریٹس اور سیکریٹریز سے ملاقات کی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایک اہم ادارہ جاتی سربراہ نے وزیراعظم سے نیب کو لگام دینے کا کہا تھا۔ نیب نے اس بات پر زور دیا کہ بیورو قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھے گا۔ ایک وفاقی وزیر اور سیکریٹری نے علیحدہ رابطہ کرنے پر کہا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے وفاقی اور ایڈیشنل سیکریٹریز سے حالیہ ملاقات میں انہیں یقین دلایا کہ معمول کی تحقیقات اور تفتیش میں نیب انہیں آئندہ طلب نہیں کرے گا۔ نیب سربراہ سے ملاقات میں شریک ایک سیکریٹری کے مطابق اعلیٰ افسران کو طلب کرنے کے بجائے نیب کا ایک افسر خود ان سے مل کر نیب تحقیقات سے متعلق کسی معاملے میں سوالات کے جوابات مانگے گا۔ مذکورہ سیکریٹری نے بتایا کہ چیئرمین نیب نے یہ بھی کہا کہ استفسار کے لئے سوال نامہ خود چیئرمین نیب تیار کریں گے۔بیوروکریسی کو شکایت ہے کہ سوالات ٹھوس شہادتوں کے بجائے مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایک اہم وفاقی وزیر نے رابطہ کرنے پر

انکشاف کیا کہ وفاقی بیووکریسی نے وزیراعظم سے رابطہ کر کے بیوروکریٹس کے خلاف نیب کارروائیوں کی شکایت کی جس کے نتیجے میں سرکاری ملازمین کے اندر خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ وہ غیر فعال ہوگئے اور فیصلے کرنے سے احتراز کر رہے ہیں۔ مذکورہ وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم نے بیوروکریسی کے خدشات سے چیئرمین نیب کو آگاہ کیا اور ان سے سرکاری افسران کے تحفظات دور کرنے کے لئے کہا۔ اسی طرح کی شکایات وزیراعظم کو پنجاب کی بیوروکریسی کی جانب سے بھی ملیں۔ انہیں بھی چیئرمین نیب کے گوش گزار کیا گیا اور درخواست کی گئی کہ وہ پنجاب کی بیوروکریسی سے بھی بات کریں تاہم نیب کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر تردید کی کہ وزیراعظم کی کسی درخواست یا ہدایت پر چیئرمین وفاقی سیکریٹریز سے ملے بلکہ یہ ان کا خود اپنا اقدام تھا۔ ترجمان نے اس بات کی بھی تردید کی کہ چیئرمین نے وفاقی اور ایڈیشنل سیکریٹریز کو تحقیقات کے لئے طلب نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ بیوروکریسی کو آئینی دائرے کے ساتھ قواعد و ضوابط میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ اس بات کا یقین دلایا کہ قاعدے میں رہتے ہوئے شفافیت سے کام کرنے والے افسران کو طلب نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی سیکریٹریز سے چیئرمین کی ملاقات کے بعد جاری پریس ریلیز کے بارے میں ترجمان نے نیب سربراہ جاوید اقبال کی اس بات کا حوالہ دیا یہ پروپیگنڈا ہے کہ نیب کے خوف سے بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے جبکہ دیگر کے مقابلے میں بیوروکریسی کے خلاف مقدمات کی تعداد کم ہے۔ نیب سمجھتا ہے کہ کسی کی عزت نفس کو مجروح کئے بغیر آئین اور قانون کے مطابق معاملات حل ہونے چاہئیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ نیب عوام دوست ادارہ ہے۔ بیوروکریسی کے تعاون سے اس کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔ جاوید اقبال نے کہا کہ وفاقی، ایڈیشنل سیکریٹریز اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے خلاف شکایات وہ خود دیکھیں گے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں سوال نامہ بھیجا جائے گا۔ دریں اثناء سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم خود نیب کی بیوروکریٹس کو ہراساں اور پیچھا کرنے کی پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔


Top