اور پھر سفر اختتام پذیر ہو گیا ؟ جنید جمشید کی زندگی سے ایک دلخراش واقعہ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > اور پھر سفر اختتام پذیر ہو گیا ؟ جنید جمشید کی زندگی سے ایک دلخراش واقعہ

اور پھر سفر اختتام پذیر ہو گیا ؟ جنید جمشید کی زندگی سے ایک دلخراش واقعہ

جنید جمشید 1987ء میں موسیقی کی دنیا میں تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آئے، یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں سنیما انڈسٹری آخری دموں پر تھی،پرائیویٹ چینلز کا خواب بھی کسی نے شاید نہیں دیکھا تھا ،صرف پاکستان ٹی وی گھر گھر دیکھا جاتا تھا، وہ بھی شام سے

نصف شب تک۔ ایسے میں جنید جمشید نے ایک پاپ گروپ ترتیب دیا جس کا نام تھا’’وائٹل سائنز‘‘۔اس گروپ نے ٹی وی پر ایک ملی نغمہ ’’دل دل پاکستان‘‘ متعارف کرایا جس میں مغربی آلات موسیقی استعمال کئے گئے تھے۔ ’’دل دل پاکستان‘‘ ایک دوبار ہی ٹی وی اسکرین پر آیا اور اس کے بعد تو گویا دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں دلوں کی آواز بن گیا۔اس وقت کا شاید ہی کوئی ٹی وی پروگرام، ٹاک شو، یا میوزک پروگرام ایسا ہوگا جس میں اس نغمے کا ذکر نہ ہوتاہو ورنہ شادی بیاہ سے لیکر دیگر تمام نجی تقریبات تک میں جیند جمشید اور ان کا ملی نغمہ چھایا رہتا۔ یوم آزادی ، یوم پاکستان اور دیگر قومی دنوں پر تو اس کی دھنیں بجنا لازمی جزو سا بن گیا تھا۔ اس نغمے کی بدولت جنید جمشید موسیقی کی دنیا پر ایسے چھائے کہ اگلی پوری دھائی میں ان کو کوئی جوڑ پیدا نہ ہوسکا۔لیکن پھر اچانک ہی جنید کے ذوق نے ایسا ’’یوٹرن ‘‘ لیا کہ سارا پاکستان ہی دم بخود رہ گیا ،کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موسیقی کی مدھر دھنوں اور خوبرو لڑکیوں کے جھرمٹ میں نظر آنے والا یہ’’کلین شیو ‘‘سرخ و سفید رنگت کا خوبرو اور مغربی طرز زندگی کا دلدادہ نوجوان اور کہاں ’’تبلیغی جماعت ‘‘ اور گھنی داڑھی رکھ کر ملک کے دور دراز علاقوں میں مسجدوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کا پرچار ۔مولانا طارق جمیل ،سابق کرکٹر سعید انور ،انضمام الحق ، شاہد آفریدی

اور دیگر کی ہمراہی میں اٹھنے بیٹھنے سے جنید جمشید کی زندگی کا ’’سفر اور منزل ‘‘ہی تبدیل ہو کر رہ گئی تھی ۔رواں سال اسلام آباد ائیر پورٹ پر جنید جمشید کے ساتھ ہمارے بعض کم علم اور نام نہاد ’’مذہبی جتھے ‘‘ نے بدسلوکی کی تو پورے پاکستان میں اس کی گونج سنائی دی ،ہر سو اس افسوسناک واقعہ کی مذمت کی گئی اور بد سلوکی کرنے والوں کو کڑی سزا کا مطالبہ زور پکڑ گیا ،پولیس نے جنید جمشید کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا ،لیکن جنید جمشید نے اس واقعہ اور انہیں سرعام زدوکوب کرنے والوں کو غیر مشروط طور پر معافی کا اعلان کر کے اپنی عظمت کا ثبوت دیا ۔2014ء میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ان کی زبان سے لاعلمی کی بنیاد پر کچھ توہین آمیز جملے ادا ہوئے تو ایک بار پھر ’’جاہل اور لٹھ بردار ‘‘ طبقہ میدان میں کود پڑا ،ایک مخصوص گروہ نے تو حسب روائیت جنید جمشید کو ’’دائرہ اسلام ‘‘ سے خارج کرنے کا فتویٰ بھی جاری کیا گیا،موسیقی چھوڑ کر دن رات نبی کریم ﷺ کی شان میں نعتیں پڑھنے والے جنید جمشید کے خلاف اس وقت حد ہی کر دی گئی جب کراچی میں ان پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا ، لیکن جنید جمشید پھر بھی دل برداشتہ نہیں ہوئے اور سرعام دینی علوم پر اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا برملا اظہار کیا اور پوری قوم سے اپنے ادا کئے

ہوئے جملوں پر معذرت کی ۔ رواں سال ایک تقریب میں میں بھی اس جگہ موجود تھا جہاں معروف کرکٹر سعید انور اور جنید جمشید نے گفتگو کی ،مجھے یاد ہے کہ جنید جمشید کی گفتگو کا ایک ہی بنیادی نکتہ تھا ،انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چا ہیے کہ نمازاورروزہ کی پابندی کریں ، فضولیات سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں ، سنت نبوی کی عملداری سے ہی ہم دنیا اور آ خرت میں کا میا ب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نفسا نفسی کے موجودہ دور میں ہم لوگ نماز سے دور ہو تے جا رہے ہیں جبکہ نمازکسی بھی صورت معاف نہیں کی گئی۔ہماری کا میابی اسی صورت میں ممکن ہے ، جب ہم اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھا ل لیں ۔میں جنید جمشید کی گفتگو سن کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ بندہ تو ہم سے بہت زیادہ بازی لے گیا ہے ،ہم جنہوں نے اپنی زندگی کے اہم ماہ و سال مذہبی ماحول میں گذارے لیکن ہم ’’گفتار کے غازی ‘‘ رہے اور موسیقی کی چکا چوند روشنیوں کو چھوڑ کر آنے والا جنید جمشید حقیقی معنوں میں ’’کردار کا غازی ‘‘ بن گیا ۔’’گلوکاری سے پرہیز گاری ‘‘ کا سفر شروع کرنے والے جنید جمشید نے تقویٰ کی جن منازل کو حاصل کیا یہ اللہ کو اس پر خاص رحمت اور فضل تھا کیونکہ ’’ایں سعادت بزور بازو نیست ‘‘ ۔جنید جمشید ٹی وی اسکرین پر ’’مذہبی دانشور‘‘کی حیثیت سے دیکھے جاتے تھے۔ جنیدنے اپنے آپ کو ایک نئی دنیا سے خود کو روشناس کرالیا تھا اور اب وہ اسی دنیا کے راہی تھے اوروہ تبلیغ کو اپنا نصب العین بناچکے تھے۔میری معلومات کے مطابق جنید جمشید کی نعتوں اور حمدیہ کلام پر مشتمل پہلا البم ’’جلوہ جاناں‘ ‘2005ء میں ریلیز ہوا تھا۔اس کے بعد ’’محبوب یزداں‘‘ 2006 ء میں اور’ ’بدر الدجا‘‘2008ء میں اور’بدیع الزماں‘2009 ء میں ریلیز کیا گیا جنہوں نے ملک بھر میں انتہائی مقبولیت حاصل کی ۔’’گلوکاری سے پرہیز گاری ‘‘ کے اس سفر میں بھی اللہ نے اپنے اس بندے کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ’’ مصنوعی روشنیوں کی دنیا ‘‘ سے نکل کر جب ’’پرہیز گاری ‘‘ کی طرف قدم رکھا تو اللہ نے اس میدان میں اپنے اس بندے کی توبہ قبول کرتے ہوئے ملک و قوم میں پہلے سے زیادہ مقبول کیا ،اس دوران جنید جمشید نے اپنا بزنس بھی شروع کیا جس کی شاخیں آج ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں ایک اعلیٰ پہچان رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود میں نے جنید جمشید میں ایک انکساری اور دین کے لئے تڑپ دیکھی ،اللہ ہمارے اس بھائی کی اور اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے ،ان کی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور اللہ ہمیں بھی ’’بدکاری اور ریا کاری ‘‘ پر مبنی زندگی ترک کرتے ہوئے ’’پرہیز گاری ‘‘ کی جانب لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے . آمین


Top