یہودی لوگ روح الامین حضرت جبریلؑ کو اپنا سخت دشمن کیوں سمجھتے ہیں ؟ اسلامی تاریخ کے صفحات میں سے وہ واقعہ جس نے زمین کو مسلمانوں کے لہو سے لال کر دیا تھا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل سٹوریز > یہودی لوگ روح الامین حضرت جبریلؑ کو اپنا سخت دشمن کیوں سمجھتے ہیں ؟ اسلامی تاریخ کے صفحات میں سے وہ واقعہ جس نے زمین کو مسلمانوں کے لہو سے لال کر دیا تھا

یہودی لوگ روح الامین حضرت جبریلؑ کو اپنا سخت دشمن کیوں سمجھتے ہیں ؟ اسلامی تاریخ کے صفحات میں سے وہ واقعہ جس نے زمین کو مسلمانوں کے لہو سے لال کر دیا تھا

یہودی وہ لوگ ہیں جنہیں عرف عام میں بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے ان کا مذہب دنیا کے اہم ترین مذاہب میں شامل ہے ۔یہودی مذہب میں حضرت عزیز کو خدا کا بیٹا ماننا بنی اسرائیل کو سب سے برتر ماننا ضروری ہے آپ کہہ سکتے ہیں یہ ان کے بنیادی

ارکان ہیں۔ ان کو بنی اسرائیل اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت یعقوب کے ماننے والے تھے اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کا لقب ہے۔ شاید مسلمانوں سے ان کی نظریاتی دشمنی اس لیے بھی ہے کہ یہ بنی اسرائیل کو بہت قوموں سے برتر و اعلیٰ جانتے ہیں مگر یہ بھی مانتے ہیں کہ اب ان سے یہ اعزاز چھین لیاگیا ہے مگر کہا کہیں کہ دل جس بات پر اڑ جائے تو کیا کیجئے یعنی ثابت نہیں ہوتا کہ فلسطین کا معاملہ بہت بعد میں آتا ہے یہ خون خرابہ محض ایک جگہ کیلئے نہیں ہے مگہ یہودیوں کی فطرت میں مسلمانوں سے کینہ بغض حسدو عداوت پائی جاتی ہے اس لیے فلسطین میں بے دریغ مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے۔ ان کے مذہب کی اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی شخص با آسانی ان کے مذہب میں شامل نہیں ہوسکتا بلکہ یہودی ہونے کیلئے آپ کو سخت شرائط کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا بہت ہی کم ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی یہودی نے اپنا مذہب چھوڑا یہ لوگ اپنے مذہب کے با رے میں بہت سخت ہیں مگر یاد رہے کہ یہ وہی قوم جس پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ لعنت کی ہے۔ یحییٰ اس قوم نے حضرت یحییٰ کا سر قلم کروایا تھا اور ایک دوسرے کو کنویں میں لٹکاکر چھوڑ رہا تھا اور حضرت موسیٰ کو کہا تھا کہ وہ جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔ یہ حضرت جبرائیل کو بھی اپنا

سخت دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ وہ وحی کے ذریعے نبیؑ کو ان کو سازشوں سے آگاہ کردیتے ہیں یہ قوم ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قرآن پاک میں بلکہ ان کے اپنے صحفیوں میں ان پر لعنت کی ہے ۔ ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قوم شروع سے ہی نام فرمان قوم رہی ہے اور مسلمانوں سے ان کی دشمنی خاص کر اس لیے بھی ہے کہ ان سے امامت کا حق چھین کر اللہ نے وہ مسلمانوں کو عطا کیا اور یہودیوں پر لعنتیہودی وہ لوگ ہیں جنہیں عرف عام میں بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے ان کا مذہب دنیا کے اہم ترین مذاہب میں شامل ہے ۔ یہودی مذہب میں حضرت عزیز کو خدا کا بیٹا ماننا بنی اسرائیل کو سب سے برتر ماننا ضروری ہے آپ کہہ سکتے ہیں یہ ان کے بنیادی ارکان ہیں۔ ان کو بنی اسرائیل اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت یعقوب کے ماننے والے تھے اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کا لقب ہے۔ شاید مسلمانوں سے ان کی نظریاتی دشمنی اس لیے بھی ہے کہ یہ بنی اسرائیل کو بہت قوموں سے برتر و اعلیٰ جانتے ہیں مگر یہ بھی مانتے ہیں کہ اب ان سے یہ اعزاز چھین لیا گیا ہے مگر کہا کہیں کہ دل جس بات پر اڑ جائے تو کیا کیجئے یعنی ثابت نہیں ہوتا کہ فلسطین کا معاملہ بہت بعد میں آتا ہے یہ خون خرابہ محض ایک جگہ کیلئے نہیں ہے مگہ یہودیوں کی فطرت میں مسلمانوں سے

کینہ بغض حسدو عداوت پائی جاتی ہے اس لیے فلسطین میں بے دریغ مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے۔ ان کے مذہب کی اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی شخص با آسانی ان کے مذہب میں شامل نہیں ہوسکتا بلکہ یہودی ہونے کیلئے آپ کو سخت شرائط کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا بہت ہی کم ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی یہودی نے اپنا مذہب چھوڑا یہ لوگاپنے مذہب کے با رے میں بہت سخت ہیں مگر یاد رہے کہ یہ وہی قوم جس پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ لعنت کی ہے۔ یحییٰ اس قوم نے حضرت یحییٰ کا سر قلم کروایا تھا اور ایک دوسرے کو کنویں میں لٹکاکر چھوڑ رہا تھا اور حضرت موسیٰ کو کہا تھا کہ وہ جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔ یہ حضرت جبرائیل کو بھی اپنا سخت دشمن سمجھتے ہیں کیونکہ وہ وحی کے ذریعے نبیؑ کو ان کو سازشوں سے آگاہ کردیتے ہیں یہ قوم ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قرآن پاک میں بلکہ ان کے اپنے صحفیوں میں ان پر لعنت کی ہے ۔ ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قوم شروع سے ہی نام فرمان قوم رہی ہے اور مسلمانوں سے ان کی دشمنی خاص کر اس لیے بھی ہے کہ ان سے امامت کا حق چھین کر اللہ نے وہ مسلمانوں کو عطا کیا اور یہودیوں پر لعنت کی۔ اب آتے ہیں کہ آخر میں فلسطین میں آکر کیوں آباد ہوئے حالانکہ کہ

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ پیسہ یہودیوں کے پاس ہے یہ اپنی اربوں کی جائیداد چھوڑ کر فلسطین میں آکر آباد ہوئے کیونکہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں سے انہیں نکالا گیا تھا فلسطین انبیاء کی سرزمین بھی کہلانی ہے۔ بیت المقدس میں دوبار آزاد کروایا گیا ایک حضرت عمرؓ کے دور میں دوسرا صلاح دین ایوبی کے دور میں تاریخ بتاتی ہے۔ یہدیوں کا بادشاہ ایلگزنڈر جس نے مسلمانوں کا بے تہاشا خون بہایا کہتے ہیں ان لوگوں نے اتنا مسلمانوں کو ذبح کیا کہ ان کا خون گھوڑوں کے سموں تک پہنچ چکا تھا جس پر ایگزنڈر نے مرغونی لہجے میں کہا تھا کہہ بلائو اپنے نبی کو کہو کہ وہ تمہاری مدد کرے جس پر صلاح دین ایوبی نے قسم کھائی تھی کہ میں یہودیوں کو بھی اتنا ہی ماروں گا جتنا انہوںنے مسلمانوں کا خون بہایا ہے دوسرا میں ایلگزنڈر کی گردن اپنی توار سے کاٹوں گا اس کے بعد صلاح دین ایوبی نے بیت المقدس آزاد کروایا مگر قتل عام کی قسم کو پورا نہ کیا بلکہ اپنی قسم کا کفارہ دیا یہاں تک کہ صلاح دین اور ان کے بھائی نے اپنی جیب سے پیسے دے کر ان کو آزاد کروایا اور عیسائیوں کے قلعے تک چھوڑ کر آئے اور ساتھ میں سامان مہیا کیا ادھر عیاسیوں نے ان کا مال اور ان کی عورتوں پر اپنا قبضہ کرلیا جس پر یہ کہتے پھر رہے تھے اچھا ہوتا جو ہم مسلمانوں کے ساتھ رہتے۔ مگر صلاح الدین ایوبی نے اپنی دوسری قسم پوری کی اورایلگزنڈر کا سر اپنے ہاتھوں سے قلم کیا۔ یہودیوں کا اہم مقصد پوری دنیا پر قبضہ کرنا اور اپنا دین سب سے بلند کرنا ہے تبھی یہ فلسطین آکر آباد ہوئے کر ان کا کھویا ہوا مقام مل جائے انہوں نے امریکہ کو سود پر قرضہ دیا ہے اور عیاسیوں سے ہاتھ ملا لینا اور اپنی توپوں کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑ دیا ہے بکہ عالمی میڈیا پر بھی ان کا قبضہ ہے جس کی بدولت یہ مسلمانوں کے خلاف آئے دن پروپیگنڈے کرتے رہتے ہیں۔ ان کا اگلا مقصد ہولو ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ ظاہر کرنا ہے تاکہ جب حضرت عیسیٰ کا ظہور ہو تو مسلمان جن کو یہ پہلے ہی ہولو ٹیکنالوجی کے ذریعے آسمانسے اترتا ہوا۔ دیکھ چکے ہوں گے تو تب ان پر کوئی یقین نہ کرے کیونکہ پچھلے سال چین میں اپنی ٹیکنالوجی سے آسمان پر ایک پوراشہر دیکھا جا چکا ہے۔ان سب باتوں سے ظاہر یہ ہوتاکہ یہودیوں کی پلاننگ صرف اور صرف مسلمانوں کا تباہ کرنا ہے تاکہ یہ اپنا مقصد مذہب بچا سکیں اورادھر مسلمانوں کا نا کوئی مقصد ہے نا جذبہ یہ اگر ہے تو صرف فرقہ واوایت میں پڑنا ایک دوسرے کو کافر کہنا اور اگر ان باتوں سے باز نہ آیا گیا تو یاد رکھیے مسلمانوں کو ہر طرف سے یہودیوں عیسائیوں نے گھیرا ہوا ہے ہم آپس میں لڑتے رہ جائیں گے اور یہ ہمارا نام تک مٹا دیں گے


Top