ہندستانی مسلمانوں کا “حلال سیکولرزم” – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل سٹوریز > ہندستانی مسلمانوں کا “حلال سیکولرزم”

ہندستانی مسلمانوں کا “حلال سیکولرزم”

اگلے روز ” ہم سب ” پر شائع شدہ ایک تجزیہ نما خبر پر ایک ہلکی پھلکی تحریر پر کچھ بدمزگی سی ہو گئی – پوسٹ کے اصل موضوع سے ہٹ کر ایک صاحب نے ہندستانی دوستوں کو مخاطب کیا اور قرار دیا کہ میں نے سیکولرزم کی جو نفی یا تردید کی

ہے وہ دوسرے لفظوں میں ہندستانی مسلمانوں کی تکفیر پر مبنی کوئی حرکت ہے – کج فہمی کی بلا شبہ کوئی حد نہیں ہوتی ، یہی سبب ہے کہ انسان کبھی قبر کے سامنے جا سجدہ ریز ہوتا ہے اور گاہے اپنے جیسے انسان کو خدا مان لیتا ہے ….سو جب انسان اپنے معبود کے معاملے میں اتنی خطاء کا شکار ہو سکتا ہے تو اس جیسے چھوٹے معاملے کی کیا بات کی جائے – اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سیکولرزم ہندستانی دوستوں کی ضرورت اور مجبوری ہے – کم از کم موجودہ ہندستان میں یہ محض ضروررت نہیں ، بلکہ ان کی بقاء کی ضمانت ہے –لیکن کوتاہ فہم یہ بات سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ ماحول ، مجبوریوں اور ضروریات کی تبدیلی سے مسائل کا حکم بھی بدل جاتا ہے – اور یہ ہر مذھب ، قانون کی بنیاد ہے – گاہے حرام بھی حلال ہو جاتا ہے اور کبھی حلال بھی حرام ٹہرتا ہے اب آتے ہیں سیکولرزم کی طرف …بلا شبہ اس کا صحیح تر ترجمہ یہی تھا جو “ہم سب ” ویب سائٹ نے کیا کہ “بے مذھب ” آپ اسے “لا دینی ” بھی کہہ سکتے ہیں …لیکن ہمارے برصغیر میں بعض لوگ اسے “غیر فرقہ وارانہ ” کہنا بھی پسند کرتے ہیں …لیکن یہ مفھوم ہمارے برصغیر کی ہی ایجاد ہے جہاں ہمارے دوست بلکہ اکثریت کی خواہش ہوتی ہے کہ عمر تو تمام کی تمام “کفل ” مانند گذارے اور ہر عیاشی کر گزرے ..لیکن موت کی رات کفل کی طرح ہی گناہوں کی پوٹ دامن

سے جھڑ جائے اور سیدھے جنت میں چلے جائیں – یا یوں کہہ لیجئے کہ فرعون جیسی زندگی گزار کے موسی سی عاقبت کی خواہش رکھتے ہیں , سو ایسے دوست “سیکولرزم ” کی تفہیم ” غیر فرقہ وارانہ نظام ” کہہ کے کرتے ہیں اور یوں ضمیر کی تسکین کا کام بھی ہو جاتا ہے کہ :رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں موجود سیکولرزم کے والی وارث اس کو لادینیت کے معانی میں ہی لیتے ہیں – اور یہ محض ایسی لادینی نہیں کہ جو کسی کیچوے کی طرح بے ضرر ہو ..بلکہ سیکولرزم کے حاملین اہل مذھب کے مقابل عموما جارحانہ مزاج ہی رکھتے ہیں ..اور مذھب یعنی دین کو مٹانے کے خواہش مند ..بظاہر مذھب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دینے والے یہ روشن خیال شدت سے خواہش مند رہتے ہیں کہ مذھب انسان کی ذاتی زندگی سے بھی نکل جائے- کم از کم پاکستان کے سیکولر حضرات کا رویہ تو ہم نے یہی دیکھا ہے کہ ان کی تمام تر جدوجہد اس معاشرے سے مذہب کو دیس نکالا دینا ہے -اس پس منظر میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ سیکولرزم حقیقت میں مذھب کے خلاف حالت جنگ میں ہے – اس تمام تر حقیقت کی نقاب کشائی کے بعد کسی بھی مسلمان کے لیے اس باطل نظریے کی طرف خود کو منسوب کرنا ممکن ہی نہیں رہتا لیکن شروع میں لکھ چکا کہ: “کبھی کبھی حرام حلال ہو جاتا ہے

“… آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ مکے میں اہل اسلام کے دل اس دن مرجھا سے گئے تھے کہ جب ایرانی سپاہ نے ٦١٤ عیسوی میں رومی عیسائیوں کو بدترین شکست سے دوچار کیا ، ان سے مقدس سرزمین چھین لی ، ایلیا کا تاریخی شہر بھی چھن گیا کہ جو فلسطین تھا نبیوں کی سرزمین ایرانیوں نے بیت المقدس کو تباہ و برباد کر دیا اور وہاں پر نصب مقدس صلیب بھی ان کے قبضے میں چلی گئی – عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق یہ وہی صلیب تھی جس پر حضرت مسیح کو مصلوب کیا گیا تھا – اہل ایران آتش پرست تھے , بدترین مشرک …سو مکے کے مشرکین رومیوں کی اس شکست پر خوش دل تھے – سوال مگر یہ ہے مسلمان کیونکر مغموم ہو گئے تھے ؟ کیا ان کو عقیدہ تثلیث کے پیرو کاروں سے کوئی محبت تھی کہ جنہوں نے ظلم کی انتہا کرتے ہوے خود کے نبی کو اس کا بیٹا ٹہرا دیا ؟ اس سے بڑھ کے ظلم کیا ہو سکتا تھا ؟لیکن حقیقت یہی ہے کہ مسلمان رومیوں کی اس شکست پر مغموم تھے اور کفار مکہ خوش …مسلمانوں کے غم کا سبب آتش پرستوں کے مقابل ایک آسمانی مذھب کے پیروکاروں کی شکست تھی ..لیکن کچھ ہی دن گزرے کہ جب رومیوں کی اس شکست کے بعد مژدہ آیا کہ : ” غُلِبَتِ الرُّومُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغلوب ہو گئے ہیں رومی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رومی لوگ قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا اِختیار اﷲ ہی کا ہے،

پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اُس دن ایمان والے اﷲ کی دی ہوئی فتح سے خوش ہوں گے۔ اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد چند سالوں میں غالب آجائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس کو چاہتا ہے، فتح دیتا ہے، اور وہی صاحبِ اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی جی ہاں رومی کے جن کا بادشاہ شکست کھا کے جان بچانے کو پھر رہا تھا اس کے غلبے کی جب خبر سنائی گئی تو اہل مکہ کا ٹھٹہ ہو گیا ، ہنستے تھے کہ جس کا تخت چھن چکا ، سلطنت بکھر گئی ، جان کی لالے پڑ گئے ، زوال مقدر ہو گیا …اس کے غلبے کی نوید سنائی جا رہی ہے ..اہل مکہ خوب خوب مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے تھے ..لیکن مسلمان ایک بار تو خوش ہی ہو گئے ….. سوال مگر یہ ہے کہ اہل روم کی فتح کی اہل اسلام کو کیا خوشی ؟ تو جواب یہ تھا کہ مشرکین ایران سے مقابل رومی بہتر سمجھے گئے سو مسلمان خوش تھے ….یہ طویل مثال پیش کرنے کا مقصد یہی تھا کہ بسا اوقات کفر سے کوئی ہمدردی ہوتی ہے نہ قبولیت کی کوئی خواہش لیکن اسی کفر کے مقابل کوئی دوسرا کفر اس کی نسبت بدترین ہوتا ہے –سو یہی صورت حال ہندستان میں ہے ..سیکولرزم اگر مذھب کی نفی کرتا ہے ، اللہ کے دین کا انکار کرتا ہے تو یہ انکار محض اسلام انکار کا نہیں بلکہ تمام مذاہب انکار ہوتا ہے ..سو ہندستان کے مسلمان اس کے سوا کوئی راستہ نہیں پاتے کہ ہندو انتہا پسندی کے مقابل وہ سیکولرزم کی حمایت کریں یا اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں …. بسا اوقات سیکولرزم کے لیے ہندستانی مسلمان جذباتی تک ہو جاتے ہیں ، اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کا اس حد تک جذباتی ہونا بھی حق بجانب ہے کیونکہ اگر مشرکین ایران کے مقابل رومی عیسائیوں کی فتح کی پشین گوئی کو نبی کریم اور اصحاب رسول خوش خبری سمجھ سکتے ہیں اور خوشی سے مشرکین مکہ کو خوب خوب آگاہ کر سکتے ہیں بلکہ اس خوشی کو “سلیبریٹ ” کر سکتے ہیں تو ہندستانی مسلمان کیونکر ایسا نہیں کر سکتے … اگر ہندستانی مسلمان سیکولرزم کی نفی کرتے ہیں یا اس کے مقابل ان کے پاس کون سا راستہ باقی رہتا ہے ؟ کیونکہ ان کو شدید قسم کی ہندو بنیاد پرستی کا سامنا ہے جو ان کو زندہ رہنے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں – اس لیے ان کے پاس سیکولرزم کی حمایت اور اس کی خواہش ہی واحد راستہ ہے اور یہ وہ حرام ہے جو کم از کم ان کے لیے حلال ہے


Top