کاشی بھٹی کی زندگی کی کہانی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > کاشی بھٹی کی زندگی کی کہانی

کاشی بھٹی کی زندگی کی کہانی

لاہور(ویب ڈیسک) کاشی بھٹی کی زندگی کی کہانی : صوبہ پنجاب کے اس گینگسٹر کا تذکرہ جس نے اپنے ایریا کی حدود میں بورڈ لگوا رکھے تھے کہ ’’ اس علاقہ میں پولیس کا داخلہ منع ہے ، خلاف ورزی کرنے والے اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہونگے‘‘۔۔۔۔۔۔۔شیخوپورہ ( خصوصی رپورٹ ) شیخوپورہ

کی تاریخ میں ایک ایسا شخص بھی گزرا ہے جس نے قانون سے سر عام اعلان جنگ کیے رکھا۔ لیکن عروج کو زوال ہوتا ہے، اس شخص کے ساتھ بعد میں کیا ہوا؟ عبرت ناک داستان سامنے آگئی۔ تفصیلات کے مطابق شیخو پورہ کے ایک گاؤں ” سالار بھٹیاں” کا رہنے والا نقاش عرف کاشی بھٹی ، کا اپنے علاقے میں اتنا اثر و رسوخ تھا کہ یہاں پولیس بھی جانے سے گھبراتی تھی۔ سالار بھٹیاں کا شمار پنجاب کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پر اسلحہ اور منشیات فروشی عروج پر تھی ۔ اور یہاں پر باقعادہ طور یہ جگہ جگہ یہ بورڈ آویزاں کیے گئے تھے جن پر واضھ الفاظ میں لکھا ہوتا تھا کہ ” پولیس کا داخلہ ممنوع ہے”۔ جبکہ متعلقہ تھانے بھی اس گروپ کے خلاف کارروائی کرنے سے گھبراتے تھے۔ سالار بھٹیاں میں شروع ہونے والے قتل و غارت کی تاریخ پاکستان بننے سے بھی پہلے کی ہے جبکہ ان خاندانوں کی دشمنیوں میں کئی خاندانوں کے معصوم لوگ بھی مارے جا چکے ہیں۔ 1990 مین یہاں کے تمام جرائم پیشہ افراد تین بڑے گروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے۔ جن میں نمبردار گروپ، باہو بھٹی گروپ اور الطاف گرپ شامل ہیں۔ ایک دوسرے کی مخالفت کی وجہ

سے یہ تینوں گروپ ایک دوسرےکے بر سر پیکار رہتے تھے۔ دشمنی اور جھگڑوں کا یہ سلسلہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا۔2005ء میں اسی گاؤں میں مزمل نامی ایک شخص کا قتل ہوا، جس کے بعد دمشنی کا ایک نیا اور نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور ساتھ ہی 3 بڑے گروہ دو گروہوں میں تقسیم ہوئے، الطاف عرف طافو گروپ اور نقاش عرف کاشی بھٹی گروپ۔ یہاں پر جرائم کی شرح میں اس قدر اضافہ ہوا کہ علاقہ مکینوں نے علاقے کو چھوڑنا شروع کر دیا ۔ اس علاقے میں منشیات کا سب سے بڑا دھندا کاشی بھٹی گروپ کے افراد کر رہے تھے جبکہ حکومت کی جانب سے انکے سروں کی بھاری قیمت بھی رکھ دی گئی ۔ سالار بھٹیاں میں منشیات کا دھندا اس قدر عروج پر تھا کہ سر عام منشیات فروخت کی جاتی اور جگہ جگہ میزوں پر منشیات کے ڈھیر لگے ہوتے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ان علاقوں کا رخ نہیں کرتے تھے ۔ گاؤں کے معتبر لوگوں کی جاب سے کئی دفعہ ان دونوں گروہوں کو منانے کی کوشش کی گئی جو کہ ناکام رہی ۔ کاشی گروپ میں 30لڑکے شامل تھے ، ایک دفعہ الطاف اور اس کے ساتھیوںکو جان بچا کر گاؤں چھوڑ کر بھاگنا پڑا، جو کہ

13 برس تک علاقے میں داخل نہ ہو سکے ۔ اس طرح علاقے کی ساری بھاگ دوڑ کاشی گروپ کے پاس چلی گئی اور یوں اس گروپ کو علاقے کی معتبر سیاسی شخصیات کی سرپرستی بھی حاصل ہوگئی ۔ جو کہ اس گروپ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگے۔ سالار بھٹیاں میں جرائم کا خاتمی ایک بہت بڑا چیلنج بنتا گیا اور اس طرح محکمہ پولیس کی کارکردگی پر بھی سوال اُٹھنا شروع ہوگئے ۔ اس مسئلے کے حل کے لیے 2008ء میں ڈی آئی جی چوہدری تنویر احمد، ڈی پی او شیخو پورہ نعیم اقبال اور ڈی پی او ننکانہ صاحب اکبر ناصر خان کی سربراہی یں سالار بھٹیاں میں ایک آپریشن کیا گیا ۔ اس آپریشن میں پولیس اور کاشی بھٹی گروپ کے درمیان مقابلہ جاری ہوا جو کہ کم و بیش 36 گھنٹوں تک جاری رہا جس کے دوران کاشی بھٹی گروپ نے پولیس کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا بے دریغانہ استعمال کیا ۔ 36 گھنٹوں کے مقابلے کے باوجود پولیس کو ناکامی کا سامنا رہا اور کسی بھی ملزم کو گرفتار کیے بنا ہی واپس لوٹنا پڑا مگر اس دوران پولیس نے بڑی مقدا میں راکٹ لانچر سمیت کئی جدید ہتھیاراپنے قبضے میں لے لیے۔ اس وقعہ نے کاشی بھٹی گروپ کو علاقے

میں مزید طاقتور اور مستحکم بنا دیا تھا ۔ اس آپریشن میں ناکامی پولیس اہلکاروں کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوئی جبکہ اعلیٰ افسران اور محکمے کا مورال بھی بری طرح متاثر ہوا۔ جبکہ کاشی بھٹی گروپ نے منشیات اور اسلحہ کی فروخت کے ساتھ ساتھ لوگوں سے بھتہ وصول کرنا شروع کر دیا ۔ جبکہ بھتہ نہ دینے والوں کو قتل کرنے کے بعد انکی نعش نہر میں بھینک دی جاتی تھی۔ 2011 میں نئے ڈی پی او نے بکتر بند گاڑیاں لے کر پورے علاقے پر چڑھائی کر دی ، اس بار بھی کاشی بھٹی گروپ نے 14 گھنٹوں تک پولیس کا مقابلہ کیا مگر پولیس کی بہتر حکمت عملی کی وجہ سے کاشی بھٹی کی ٹانگ مین گولی لگی جو ایک ٹانگ سے محروم ہوگیا اور اسکا بھائی عمران عرف مانو بھی مارا گیا۔ جبکہ کچھ پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے۔ جس کے بعد پولیس نے بھرپور طریقے سے حملہ کیا اور اور کاشی بھٹی گروپ کے 7 افراد مارے گئے جبکہ کاشی بھٹی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ کاشی ٹانگ کٹنے کے باوجود جرائم پیشہ کارروائیاں جاری رکھیں ۔ایک کارروائی میں فیصل آباد کے تھانے ستیانےکے علاقے میں ایس ایچ او نے کاشی بھٹی کے

اہم ساتھی شہزاد کی گرفتاری کے لیے اس کے سسرال کے گھر چھاپہ مار کر اہلخانہ کو گرفتار کر لیا ۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے کاشی بھٹی نے پولیس کی وردیاں پہن کر ایس ایچ او کے گھر حملہ کیا اور اس کے بیوی بچوں کو اغوا کر لیا۔ بدلے میں ایس ایچ او کو مجبوراً شہاد کے گھر والوں کو چھوڑ دیا۔ اس وقعے کے بعد کاشی بھٹی کا ڈر پنجاب میں مزید بڑ ھتا چلا گیا۔ اس واقعہ کے بعد پنجاب حکومت نے کاشی بھٹی کے سر کی قیمت لاکھ روپے مقرر کر دی جبکہ اسکے قریبی ساتھی شہزاد کے سر کی قیمت لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ ہر جگہ پولیس کاشی بھٹی کے لوگوں کو ڈھونڈنے میں لگی تھی مگر کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی ۔ ایک دن کا شی بھٹی کے ایک ساتھی کو تھانہ خانقاہ ڈوگرا کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تو کاشی بھٹی ایک بار اپنے ساتھیوں کو لے کر تھنے پر حملہ آور ہو ا۔ کاشی بھٹی کی دہشت کی وجہ سے پولیس اہلکارو مزحمت نہ کر پائے اور وہ اپنے ساتھیوں کو فررار کرنے میں ایک بار پھر کامیاب ہوا۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئےشہباز شریف جو کہ اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب تھے انہوں نے ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ کو ریجنل پولیس آفسر شیخوپورا تعینات کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں خصوصی طور پر کاشی بھٹی گروپ کے خلاف کارروائی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ 9 جون کو پولیس کو اطلاع ملی کے کاشی بھٹی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک تاجر کو شیخو پورہ کے علاقے خانقاہ ڈوگراں سے اغوا کرنے جا رہا ہے ، پولیس نے مکمل تیاریوں کے ساتھ علاقے کا محاصرہ کی اور جیسے کاشی بھٹی اور اس کے ساتھی علاقے میں داخل ہوئے تو مقابلے کا آغاز ہوا۔ اس بار بھی کاشی بھٹی گروپ کی جانب سے بھاری اور جدید اسلحے کا استعمال کیا گیا تاہم اس دفعہ پولیس کو کامیابی ملی اور کاشی بھٹی اور اسکا ساتھی شہزاد موقع پر مارا گیا جبکہ دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور یوں شیخوپورہ سے کاشی بھٹی گروپ کا خاتمہ ہوگیا ۔


Top