نبی کریم ﷺ نے سونے سے پہلے 3 مرتبہ بستر جھاڑنے کا حکم کیوں دیا؟ سائنسداںوں نے تحقیق کی تو نتائج نے سب کو دنگ کر دیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > نبی کریم ﷺ نے سونے سے پہلے 3 مرتبہ بستر جھاڑنے کا حکم کیوں دیا؟ سائنسداںوں نے تحقیق کی تو نتائج نے سب کو دنگ کر دیا

نبی کریم ﷺ نے سونے سے پہلے 3 مرتبہ بستر جھاڑنے کا حکم کیوں دیا؟ سائنسداںوں نے تحقیق کی تو نتائج نے سب کو دنگ کر دیا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے سے پہلے 3 مرتبہ بستر جھاڑنے کا حکم کیوں دیا۔۔۔؟ سائنسدانوں نے تحقیق کی تو نتائج نے سب کو دنگ کر دیا، ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی

کے ہر پہلو سے متعلق رہنمائی موجود ہے اور ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 14 سو سال قبل جو سنت اختیار کی تھی اور ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھا آج سائنس بھی ان احکامات کو درست تسلیم کر رہی ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سونے سے قبل باوضو ہونے کا حکم دیا تو وہیں نماز سے قبل دانتوں کو صاف کرنے کا حکم بھی موجود ہے اور سائنس کہتی ہے کہ ایسا کرنے کہ ایسا کرنے سے انسان دانتوں کی بیماریوں کیساتھ ساتھ دل اور معدے کی مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ سونے سے قبل اپنے بستر کو تین بار جھاڑ لینا چاہئے۔ بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے کہ اس حکم کا مقصد بستر پر کیڑے مکوڑوں یا کسی اور نقصان دہ چیز سے صاف کرنا ہے لیکن سائنسی تحقیق میں ایسا ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے اور بے اختیار سبحان الله کہہ اٹھیں گے کہ کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریم نے 14 سو سال پہلے ہی اپنی امت کو بچاﺅ کی تدابیر بتا دیں۔ سائنس کے مطابق انسانی جسم میں میٹابولزم کا عمل 24 گھنٹے جاری رہتا ہے جس کے باعث ہر پل سینکڑوں نئے سیل بنتے اور پرانے ٹوٹتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سونے کے دوران جسم میں ٹوٹنے والے سیل بستر ہی پر گر جاتے ہیں جو انتہائی چھوٹے ہونے کے سبب نظر نہیں آتے۔ اگر بستر کو بغیر جھاڑے اس پرسونے کیلئے لیٹ جائیں تو یہ مردہ سیل جسم میں داخل ہو کر کئی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں اور سائنس نے بھی یہ ہی ثابت کیا ہے کہ ان مردہ سیلوں کو صاف کرنے کیلئے بستر کو کم از کم تین بار جھاڑنا لازمی ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے خطرہ ٹل جاتا ہے۔


Top