وہ کونسے چار ایسے مواقع ہیں جب آدمی اپنے رب سے تعلق کا اندازہ کر سکتا ہے ؟ جانیئے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > وہ کونسے چار ایسے مواقع ہیں جب آدمی اپنے رب سے تعلق کا اندازہ کر سکتا ہے ؟ جانیئے

وہ کونسے چار ایسے مواقع ہیں جب آدمی اپنے رب سے تعلق کا اندازہ کر سکتا ہے ؟ جانیئے

جب آدمی اپنے رب سے تعلق کا اندازہ کر سکتا ہے حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آدمی اپنے بستر پر آتا ہے، جب اس کے تمام حواس اور اعضاء فارغ ہوتے ہیں، تب دل اپنے محبوب کی طرف دھیان کرتا ہے، کیوں کہ آدمی کو نیند اسی وقت آتی ہے

جب وہ اپنے محبوب ترین ذات کو یاد کرے، اور دل اسی کی یاد میں مصروف ہو۔ دوسرا مقام: جب نیند سے بیدار ہو جاتا ہے، چونکہ جاگتے وقت سب سے پہلی چیز جو اس کے دل کو چھوتی ہے وہ محبوب ترین چیز ہوتی ہے، اس لیے جب آدمی بیدار ہوتا ہے، اور اس کی روح واپس لوٹائی جاتی ہے ، تو اس کے محبوب کی وہ یادیں بھی واپس کر دی جاتی ہیں، جو یادیں لے کر رات کو سویا تھا۔ تیسرا مقام جب آٓدمی سویا تھا۔ تیسرا مقام جب آٓدمی نماز میں داخل ہوتا ہے، کیوں کہ نماز تمام احوال کی جامع ہے،ایمان کا پیمانہ ہے، اسی سے آدمی کا ایمان پرکھا جاتا ہے، اس کے دل کی حالت، دل کا اصل مقام، اس کی اللہ سے قرابت اور اس کی محبت میں اس کا حصہ کتنا ہے، سب اسی نماز میں معلوم ہوتا ہے ۔چوتھا مقام: صیبت و پریشانی کے وقت، کیوں کہ اس حالت میں دل سب سے پہلے اپنے محبوب کو یاد کرتا ہے، اوراسی کی طرف دوڑ کر جاتا ہے، جس کی محبت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے۔دوسری جانب عبادت اور عادت زندگی کا حصہ بھی ہیں اور نچوڑ بھی۔ انسان اپنی روز مرہ زندگی میں کچھ عمل عبادت کے طور پہ کرتا ہے اور کچھ کام عادت بن جاتے ہیں۔ کبھی وہ ضروری ہوتے ہیں اور کبھی غیر ضروری لیکن لوگ اس لیے کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ ان کی عادی ہو جاتے ہیں۔ عبادت ہمیشہ شعوری طور پہ کی جاتی ہے، ان میں انسان کے دل اور دماغ کی شمولیت ضروری ہوتی ہے لیکن عادات پہ انسان لا شعوری طور پہ بھی عمل کرتا چلا جاتا ہے۔


Top