وہ مسلمان حکمران جو نہ خود ہنستا تھا نہ کسی کو ہنسنے دیتا تھا ، وہ ایسا کیوں کرتا تھا ؟ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > وہ مسلمان حکمران جو نہ خود ہنستا تھا نہ کسی کو ہنسنے دیتا تھا ، وہ ایسا کیوں کرتا تھا ؟

وہ مسلمان حکمران جو نہ خود ہنستا تھا نہ کسی کو ہنسنے دیتا تھا ، وہ ایسا کیوں کرتا تھا ؟

ہندوستان میں خاندان غلاماں کا آٹھواں حکمران سلطان غیاث الدین بلبن بھی ایک غلام تھا جسے منگولوں نے اسکے بچپن میں اسکے دوسرے عزیزوں کے ساتھ غلام بنایااور پھر غزنی میں لابیچا تھا.وہاں سے بکتا ہوا ہندوستان پہنچااور سلطان التتمش کی غلامی پہنچا اور ایک سقہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے دیتے

وہ مقرب ہوا اور پھر ایک دلیر سپہ سالار بن کر وہ اقتدار تک جا پہنچا. تاریخ بتاتی ہے کہ وہ خود ہنستا تھا نہ دوسروں کو ہنسنے اور قہقہے لگانے کی اجازت دیتا تھا.اسنے سنجیدگی اور متانت سے اپنی راجدھانی کا نقشہ پلٹ دیا.اسکی خوشی عوام کے امن اور اسکی تعلیم و تربیت سے جڑی تھی.ہر صورت میں انصاف اور فلاح مقدم رکھنے والاسلطان غیاث الدین بلبن اس معاملے میں کسی قسم کی رورعایت نہیں برتتا تھا .وہ کہتاتھا کہ عوام کی فلاح اور انہیں انصاف نہ دینے والوں کو محفل نشاط کا کوئی حق نہیں. سخت ترین محتسب تھا اور خود اپنا محاسبہ بھی کراتااور اس میں کسی قسم کی رعایت اور نرمی کو گناہ سمجھتا تھا .اسکا عدالتوں کے احترام اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کیا اصول تھا،یہ آپ اس واقعہ سے جان سکتے ہیں .انصاف اور عدلیہ کے احترام کی اس تاریخی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ملک کے حکمرانوں اور منصفوں کے کردار کو بھی ایک بار ضرورتولئے گا . ایک بار سلطان بلبن اپنے وزراء کے ساتھ میدان میں تیر اندازی کی مشق کر رہاتھا کہ اچانک اس کا نشانہ خطا ہوگیااور وہ تیر ایک بیوہ عورت کے بچے کو جا لگااور بچہ ہلاک ہوگیا. سلطان کو پتہ نہ چل سکا. وہ عورت قاضی سراج الدین کی عدالت میں پہنچ گئی اور روتے ہوئے سلطان کے خلاف شکایت لکھوائی ’’ سلطان کے تیر سے میرابچہ ہلاک ہوگیا ہے ‘‘ قاضی سراج الدین نے عورت کی بات پوری توجہ سے سنی

اور پھر اسی وقت سلطان کے نام خط لکھا’’ آپ کے خلاف شکایت آئی ہے. فوراً عدالت میں حاضر ہو جائیں اور اپنے خلاف آنے والی شکایت کا فوری جواب دیں ‘‘ پھر یہ حکم عدالت کے ایک پیادے کو دے کر ہدایت کی’’ یہ حکم نامہ فوراً سلطان کے پاس لے جاؤ‘‘پیادے کو یہ حکم دے کر قاضی سراج الدین نے ایک کَوڑا نکالا اور اپنی گدی کے نیچے چھپا دیا. پیادہ جب سلطان کے محل میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ سلطان کو درباریوں نے گھیر رکھا ہے اور قاضی کا حکم نامہ سلطان تک پہنچانا مشکل ہے. یہ دیکھ کر پیادے نے اونچی آواز میں اذان دینا شروع کر دی. بے وقت اذان سن کر سلطان نے حکم دیا’’ اذان دینے والے کو میرے سامنے پیش کرو ‘‘ پیادے کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا. سلطان نے گرج کر پوچھا’’ بے وقت اذان کیوں دے رہے تھے ‘‘ ’’ قاضی سراج الدین نے آپ کو عدالت میں طلب کیا ہے آپ فوراً میرے ساتھ عدالت چلیں ‘‘ پیادے نے قاضی صاحب کا حکم نامہ سلطان کو دیتے ہوئے کہا. سلطان فوراً اْٹھا. ایک چھوٹی سی تلوار اپنی آستین میں چھپالی. پھر پیادے کے ساتھ عدالت پہنچا. قاضی صاحب نے بیٹھے بیٹھے مقتول کی ماں اور سلطان کے بیان باری باری سنے پھر فیصلہ سنایا’’ غلطی سے ہو جانے والے قتل کی وجہ سے سلطان پر کفارہ اور اس کی برادری پر خون کی دیت آئے گی. ہاں اگر مقتول کی ماں مال کی کچھ مقدار پر راضی ہو جائے تو اس مال کے بدلے سلطان کو چھوڑا جا سکتا ہے ‘‘. سلطان نے لڑکے کی ماں کو بہت سے مال پر راضی کر لیا پھر قاضی سے کہا ’’ میں نے لڑکے کی ماں کو مال پر راضی کر لیا ہے ‘‘ قاضی نے عورت سے پوچھا ’’ کیا آپ راضی ہو گئیں ‘‘ ’’ جی ہاں میں راضی ہو گئی ہوں ‘‘ عورت نے قاضی کو جواب دیا. اب قاضی اپنی جگہ سے سلطان کی تعظیم کے لئے اٹھے اور انھیں اپنی جگہ پر بٹھایا. سلطان نے بغل سے تلوار نکال کر قاضی سراج الدین کو دیکھاتے ہوئے کہا’’ اگر آپ میری ذرا سی بھی رعایت کرتے تو میں اس تلوار سے آپ کی گردن اڑا دیتا‘‘ قاضی نے بھی اپنی گدی کے نیچے سے کَوڑا نکال کر سلطان غیاث الدین کو دکھاتے ہوئے کہا’’ اور اگر آپ شریعت کا حکم ماننے سے ذرا بھی ہچکچاتے تو میں اس کَوڑے سے آپ کی خبر لیتا. بیشک یہ ہم دونوں کا امتحان تھا‘‘


Top