اے علیؓ! تیرا مرتبہ ایسا ہے جیسے ہارونؑ کا موسیٰؑ کے نزدیک تھا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > اے علیؓ! تیرا مرتبہ ایسا ہے جیسے ہارونؑ کا موسیٰؑ کے نزدیک تھا

اے علیؓ! تیرا مرتبہ ایسا ہے جیسے ہارونؑ کا موسیٰؑ کے نزدیک تھا

جب حضورِ اکرمؐ نے حضرت علیؓ کو اپنے گھر میں رہنے کاحکم دیا اور خود ہجرت پر تشریف لے گئے تو منافقین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ آنحضورؐ حضرت علیؓ کو معمولی حیثیت کا خیال کرکے اور اپنے پر بوجھ سمجھتے ہوئے چھوڑ گئے ہیں۔

منافقین کی یہ باتیں حضرت علیؓ تک پہنچیں تو آپؓ نے اپنا اسلحہ اٹھایا اور نکلے، یہاں تک کہ نبی کریمؐ کے پاس پہنچے، حضورؐ اس وقت مدینہ کے قریب مقام ’’جرف‘‘ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علیؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور عرض کیا: اے اللہ کےنبیؐ! منافقین یہ کہہ رہے ہیں کہ آپؐ مجھے اس لیے چھوڑ آئے ہیں کہ آپؐ مجھے اپنے لیے بوجھ سمجھتے تھے اور مجھے کم حیثیت خیال کرتے تھے۔ نبی کریمؐ نے سختی سے فرمایا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں میں نے تو محض ان امانتوں کی وجہ سے تجھے پیچھے چھوڑا تھا اب تم واپس جاؤ اور میرے اہل و عیال اور اپنے اہل و عیال کی خبر گیری کرو، اس کے بعد آنحضرتؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے بنو جیسے ہارونؑ ، موسیٰ ؑ کے لیے تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (یہ سن کر) حضرت علیؓ کا رنج و غم دور ہوا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کی لہر دوڑ گئی پھر آپؓ مکہ واپس آ گئے۔دوسری جانب رات کی تاریکی چھا چکی تھی اور مکہ اپنی گھاٹیوں کے ساتھ تاریک اندھیرے میں چھپ چکا تھا، اس دوران قرشی نوجوان علیؓ نے اپنی لاٹھی کندھے پر ڈالی اور رات کے اندھیرے میں لوگوں سے چھپ چھپا کر رختِ سفر باندھا۔بعد اس کے کہ آپؓ تین روز تک ان امانتوں کی ادائیگی کے لیے جو نبی اکرمؐ نے آپؓ کے حوالہ کی تھیں، مکہ میں مقیم رہے۔ وہ نوجوان بلاتردد اور بلا خوف جرأت مندی کے ساتھ سفر طے کرتا رہا، رات کو سفر کرتے اور دن کو کہیں روپوش ہو جاتے حتیٰ کہ آپؓ مدینہکے قریب پہنچ گئے حال یہ تھا کہ پاؤں مبارک سوج گئےاور پھٹ گئے تھے۔ جب نبی کریمؐ کو آپؓ کی آمد کا علم ہوا تو فرمایا: علیؓ کو میرے پاس بلاؤ۔ عرض کیا گیا کہ وہ تو پیدل نہیں چل سکتے، زیادہ چلنے کی وجہ سے ان کے پاؤں متورم ہیں، چنانچہ خود نبی اکرمؐ ان کے پاس تشریف لے گئے، آپؐ نے دیکھا کہ حضرت علیؓ زمین پر پڑے ہیں۔ آپؐ جذبۂ شفقت و رحمت سے رونے لگے اور شوق سے گلے لگایا۔ پھر آنخضورؐ نے اپنے دست مبارک میں لعاب دہن ڈال کر حضرت علیؓ کے قدموں کو لگا دیا تو وہ اس سے بالکل ٹھیک ہو گئے، پھر حضرت علیؓ کو تادمِ حیات اپنے قدموں میں تکلیف نہیں ہوئی تھی


Top