مسجد نبوی میں پہلا بلب کتنے سو سال پہلے روشن ہوا ؟ اسلامی تاریخ کا وہ واقعہ جو بہت کم لوگ جانتے ہیں – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسپیشل ستوریز > مسجد نبوی میں پہلا بلب کتنے سو سال پہلے روشن ہوا ؟ اسلامی تاریخ کا وہ واقعہ جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

مسجد نبوی میں پہلا بلب کتنے سو سال پہلے روشن ہوا ؟ اسلامی تاریخ کا وہ واقعہ جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

مکہ مکرمہ (نیوز ڈیسک) مسجد نبوی میں پہلا بلب ایک سو بارہ سال قبل روشن ہوا ، عرب ٹی وی کے مطابق جزیرہ العرب میں بھی بجلی آنے کا یہی سال تھا۔مذکورہ بلب 1325 ہجری یعنی آج سے 112 سال قبل مسجد نبوی میں لگایا گیا۔ یہ پہلا بلب تھا جس نے

دہکتا اصل عربی زبان کا لفظ روشن ہونے والے 600 دیے استعمال کیے جاتے تھے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکا کی ریاست ایریزونا میں آج سے لاکھوں روایتی شمعوں کو بجھا کر بجلی کی روشنی سے منور کیا گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق مسجد نبوی کے مبینہ پہلے بلب پر جوسال تحریر کیا گیا ہے۔ جزیرہ العرب میں بھی بجلی آنے کا یہ ہی سال تھا۔ یعنی آج سے 112 سال قبل پہلی بار بجلی متعارف ہوئی تھی۔مدینہ منورہ گورنر کی ویب سائٹ کے مطابق عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید کے دور میں مسجد نبوی کی توسیع 1265ھ سے 1277 ھ تک جاری رہی۔ اس وقت مسجد نبوی میں تیل کے ذریعے سال قبل ایک بہت بڑا شہاب ثاقب زمین سے ٹکرایا تھا اس مقام پر وہ گڑھا آج بھی موجود ہے۔ مقامی حکومت نے اس صحرائی علاقے میں گڑھے کے ساتھ سیاحوں کی دلچسپی کیلئے ایک عجائب گھر بھی تعمیر کیا ہے، جس میں ایک دکان بھی موجود ہے جہاں سے سیاح مختلف تحائف اور شہاب ثاقب کے ٹکڑے خرید سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ میوزیم میں شہاب ثاقب کے گرنے سے متعلق ڈاکیومینٹری فلم بھی دکھائی جاتی ہے، فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ شہابیہ زمین سے کیسے ٹکرایا اور اس کے بعد یہاں کتنی تباہی ہوئی۔ اس شہاب ثاقب کے بہت سے ٹکڑے آج بھی عجائب گھر میں موجود ہیں۔ اس شہاب ثاقب کا بچا ہوا سب سے بڑا ٹکڑا یا شہاب ثاقب کسے کہتے ہیں؟ (meteor) شہاب ثاقب در ہے، شہاب کا معنیٰ ہے

ہوا شعلہ اور ثاقب کا معنیٰ سوراخ کرنے والا ہے، دہکتا ہوا انگارہ شہاب ثاقب جب زمین کی فضا سے ٹکراتا ہے تو انگارہ بن کر روشن ہوتا ہے اور جل کر راکھ ہوجاتا ہے، شہاب ثاقب زمین سے زور ٹکرا کر روشن ہوتے ہیں گویا تاریکی میں سوراخ کردیا گیا ہو۔ اس شہاب ثاقب کا بچا ہوا ایک اور ٹکڑا ایک رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک شہاب ثاقب زمین کے قریب سے گزرنے کی تیاری کر رہا ہے جس کی وجہ سے سیارہ زمین پر بڑے پیمانے پر تباہی ہو گی اور زندگی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ گڑھے کے پاس قائم کیا جانے والا عجائب گھر سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے سیارے کے قریب سے گزرتے ہوئے اگر اس نے اپنا مدار تبدیل کر لیا تو کئی صدیوں بعد سیارہ زمین ایک بار پھر عظیم تباہی کا سامنا کرے گا۔ خلا میں تیرتا شہاب ثاقب (ایک بڑی خلائی چٹان) جسے بینو کا نام دیا گیا ہے زمین کے مدار کے قریب سے ہر چھ سال بعد گزرتا ہے۔ سائنسدانوں ک ادعویٰ ہے کہ یہ خلائی چٹان اب2135ءمیں زمین اور چاند کے درمیان سے گزرے گی۔ 1908ء میں سائبیریا میں شہاب ثاقب کے گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس سے تقریباً دوہزار مربعہ کلومیٹر کا علاقہ تباہ ہو گیا تھا۔ بیسیویں صدی کے دوران زمین پر دو بڑے شہاب گرے تھے۔ ان میں سے ایک کا وزن 60 ٹن تھا۔ 27 ستمبر 1969 ء کو مرچی سن، آسٹریلیا میں ایک شہاب گرا تھا۔ اس کے وزن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چھوٹے سیارچوں کی پٹی سے وجود میں آیا تھا۔


Top