تاریخی وا قعات – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > تاریخی وا قعات

فزکس کے پرچے میں فیل ہوا لیکن پھر بھی نوبل انعام دیا گیا۔۔کیسے؟

ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی نے ایک بار فزکس کے پرچے میں طلباءسے یہ سوال پوچھا کہ بیرومیٹر کی مدد سے کسی فلک بوس عمارت کی اونچائی کی پیمائش کس طرح کی جا سکتی ہے؟اس آسان سے سوال کا اتنا سا جواب بنتا ہے کہ بیرومیٹر سے زمین کی سطح

میں زہر پیتا رہوں

ایک لڑکا سکول سے واپس آیا تو بہت شدید غصے میں تھا۔ اس کے دادا نے دیکھا تو بولا بر خوردار کیا بات ہے آج آپ بہت طیش میں ہو، خیر تو ہے؟ لڑکا بھڑکا، میرے کلاس فیلو نے میرے ساتھ چیٹنگ کی اور بچ گیا اور ساری ڈانٹ مجھے

قومیں ایسے بنتی ہیں

ایک دفعہ ابن انشاءٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں مقامی استاد سے محو گفتگو تھے‘ جب گفتگو اپنے اختتام پر پہنچی تو وہ استاد ابن انشاءکو الوداع کرتے ہوئے یونیورسٹی کے باہری صحن تک چل پڑا‘ ابھی یونیورسٹی کی حدود میں ہی تھے کہ دونوں باتیں کرتے کرتے ایک مقام پر

تم جانتے ہو

عباسی خلیفہ مہدی شکارکے لئے نکلا‘ دوران شکار اس کا گھوڑا بدک کر ایک بدو کے خیمے میں جا گھسا‘ مہدی نے کہا‘ بدو! میری مہمانی کے لئے کچھ ہے؟ بدو نے جو کی روٹی پیش کی‘وہ کھا گیا پھر بدو نے کچھ دودھ دیا تو وہ بھی پی گیا‘

اشفاق احمد سلطان راہی کے بارے میں ایک واقعہ سناتے ہیں جسے سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

میرے ایک دوست تھے ،سلطان راہی ان کا نام تھا، آپ نے ان کی فلمیں دیکھی ہوں گی، ایک روز مجھے ان کا پیغام ملا کہ آپ آئیں، ایک چھوٹی سی محفل ہے، اس میں آپ کی شمولیت ضروری ہے اور آپ اسے پسند کریں گے، میں نے کہا بسم

گھر اور گھاٹ

یہ پاکستان کے قیام سے چھ ماہ بعد کا واقعہ ہے‘ برطانیہ کے ہائی کمشنر قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا ”اگلے مہینے برطانیہ کے شاہ کے بھائی پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں‘ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ ہو

قدرت کا معاملہ

ایک بھٹے والا ٹھیلا چلاتا تھا ۔روز اس کے پاس ایک بچہ آتا تھا جو اس سے بھٹہ لیا کرتا تھا "چاچا ایک بھٹہ تو دےدو" ۔وہ دےدیا کرتا تھا ۔ایک دن ایک لمبی سی گاڑی اس بھٹے والے کے پاس آئی اور اسے 20 بھٹوں کا آڈر دیا۔ بھٹے

روتا ہوا کتا اور قہقہ لگاتے انسان!

لاہور (ویب ڈیسک) لوہاروں کے محلے میں پانی اب بھی گلی کے بیچوں بیچ سے گزر رہا تھا، اُس نے بچپن سے لے کر 23 سال تک اپنی عمر انہی گلیوں میں گزاری تھی اور یہاں سے گئے ابھی 2 سال ہی تو ہوئے تھے، 2 سال میں بھلا

چھولے بیچ کر نہیں پھینک کر کماوں گا

لاہور (ویب ڈیسک) چھولے بیچنے نہیں پھینکنے ہیں آپ یقین کریں یہ کوئی محاورہ یا کوئی مثال نہیں بلکہ جیتی جاگتی حقیقیت ہے ایک دن میں اپنے آفس سے واپس آرہا تھا کہ شاہراہ فیصل پر میں نے دیکھا ایک بچہ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر رورہاہے اور اس

وہ کون سی قوم ہے جو سچ بولے گی پھر بھی جہنم میں جائے گی

لاہور (ویب ڈیسک) وہ گلا پھاڑ پھاڑ کرتقریر کررہا تھا کہ اچانک اس کی زبان بند ہوگئی مجمع میں شور ہوا کہ بولیے چپ کیوں ہو گئے؟پھر بھی اس کے لبوں پر جیسے خاموشی کی مہر لگ چکی ہو مجمع سے برابر شور بلند ہو رہا تھا کہ بولیے

Top