چائے کی 150 سالہ پرانی کہانی ۔۔۔۔ شاندار معلومات پر مبنی یہ تحریر ملاحظہ کیجیے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > دلچسپ و عجیب وا قعات > چائے کی 150 سالہ پرانی کہانی ۔۔۔۔ شاندار معلومات پر مبنی یہ تحریر ملاحظہ کیجیے

چائے کی 150 سالہ پرانی کہانی ۔۔۔۔ شاندار معلومات پر مبنی یہ تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)سری لنکا کی تقریباً پانچ فیصد آبادی اربوں ڈالر مالیت کی چائے کی صنعت سے وابستہ ہے، جس میں پہاڑیوں سے پتے توڑنا اور کارخانوں میں اس کی تیاری کا کام شامل ہے۔سنہ 1867 سے سیاہ چائے کی کاشت کاری اور فروخت نے سری لنکن نسلوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا ہے۔ڈاکومنٹری فوٹوگرافر

شمو تھیون نے چائے کی پیداوار کی اس دنیا کو کھوجنے کے لیے اس ملک کا سفر کیا۔چائے کے پودے پہاڑی ڈھلوانوں پر بیرکوں کے انداز میں تعمیر کیے گئے گھروں کے اوپر واقع ہیں جو یہاں کام کرنے والے مزدوروں کو رہائش فراہم کرتے ہیں۔چائے کی پتیاں ہر سات سے 14 دن بعد میں ہاتھوں سے توڑی جاتی ہیں اس سے پہلے کہ وہ بہت زیادہ بڑی ہو جائیں۔اس کا مطلب ہے کہ کام کرنے کی جگہ روزانہ تبدیل ہوتی ہے یعنی اس کا انحصار اس امر پر ہے کہ پتیاں کہاں سے چننی ہیں۔چائے کی پتیاں ترپال کے تھیلوں میں جمع کی جاتی ہیں جو روایتی ٹوکریوں کے مقابلے میں کافی ہلکے ہوتے ہیں۔سارا دن ان پتوں کا وزن ہوتا رہتا ہے اور چائے کے پتے چننے والے اگر دن میں 18 کلوگرام کا کوٹہ پورا کر لیں تو انھیں اس کی اجرت 600 سری لنکن روپے یعنی 2.70 برطانوی پاؤنڈ ملتی ہے۔اگر وہ یہ ہدف پورا نہ کر سکیں تو انھیں 300 سری لنکن روپے ملتے ہیں۔اس کاشت کاری میں اجرت کے کچھ دیگر ماڈلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جیسا کہ عملے کو ماہانہ تنخواہ اور ملازموں کو عارضی قرضہ جات کی فراہمی وغیرہ۔سری لنکا میں چائے کا کام کرنے والے

بیشتر افراد نسلی طور پر انڈین تمل ہیں جنھیں برطانیہ نے کاشت کاری کے اس کام کے لیے یہاں منتقل کیا تھا۔وہ شمالی سری لنکا کے مقامی جفنا تمل سے مختلف ہوتے ہیں۔ .کچے راستے مزدوروں کے گھروں سے چائے باغات تک راستہ فراہم کرتے ہیں۔چائے کے پودے عمودی ڈھلوانوں پر ایک میٹر کے فاصلے پر اگائے جاتے ہیں۔سطح سمندر سے بلندی چائے کے ذائقے پر اثرانداز ہوتی ہے، زیادہ بلندی پر پیدا ہونے والی فصل کو عموماً پسند کیا جاتا ہے۔اس کی قدر و قیمت کم بلندی پر پیدا ہونے والی فصل سے زیادہ ہوتی ہے۔چائے کی پتیاں چننے والے تجربہ کار افراد کے ہاتھ عموماً سخت ہوتے ہیں۔ اس کام کی مشکل نوعیت کی وجہ سے اس میں نوجوانوں کی کمی کا سامنا بھی ہے۔بہت ساری بیٹیاں کھیتوں میں کاشت کاری کے بجائے گارمینٹس فیکٹریوں میں کام یا بیرون ملک گھریلو ملازماؤں کے کام کا انتخاب کر رہی ہیں۔ایک چھوٹے درجے کی کاشت کاری میں چار مختلف سطحیں ہو سکتی ہیں، جس میں مالک سے لے کر پتیاں چننے والے شامل ہیں۔ ہر سطح اپنی نیچے والی سطح کی نگرانی و معاونت کرتی ہے۔جن گھروں میں مزدور رہتے ہیں ان میں سے کچھ برطانویوں کے تعمیر کردہ ہیں جب انھوں نے 1920 کی دہائی میں

20،000 کمرے پتیاں چننے

والوں کے لیے تعمیر کیے تھے۔اس وقت سے یہ عمارتیں کم ہی تبدیل ہوئی ہیں۔ خاندان اپنے بچوں کی پرورش گاؤں کے ان رنگ برنگے بیرکوں جیسے گھروں میں کرتے ہیں بہت ساری عمارتوں میں صرف بجلی یا پانی دن میں چند گھنٹے کے لیے میسر ہوتا ہے، یا پھر بالکل نہیں ہوتا۔روزمرہ کے کئی کام جیسا کہ کپڑے دھونا یا نہانا، ندیوں اور دریاؤں ‌کے کنارے کیے جاتے ہیں۔کچھ علاقوں کے گھروں میں صرف تین کے بعد پانی مہیا کیا جاتا ہے جسے کنٹینروں میں جمع کرنا ہوتا ہے۔چائے کی پتیاں چننے والے اور دیگر مزدور کام کا آغاز صبح ساڑھے سات بجے کرتے ہیں۔ایسے علاقوں میں بجے کئی کئی میل پیدل چل کر سکول جاتے ہیں۔چائے کی پتیاں چنناں نسبتاً ایک کم آمدن والا پیشہ ہے، چنانچہ ایسے خاندانوں کے رکن مشرق وسطیٰ یا سری لنکا کے دیگر شہروں میں کام کرتے ہیں جو انھیں گھر پیسے بھیجتے ہیں۔کاشت کاری سے منسلک مزدور خواتین گھریلو کام کاج بھی کرتی ہیں جیسا کہ کھانا پکانا، صفائی کرنا اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا۔چائے کے تازہ پتے قریب ہی واقع ایک فیکٹری میں پہنچائے جاتے ہیں، جیسا کہ نیچے سری لنکن شہر کینڈی میں واقع ایک فیکٹری کی تصویر ہے۔پہلا عمل ’ودرنگ‘ کہلاتا ہے جس میں پتوں کی نمی دور کرنے کے لیے ہوا کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے، جس سے ان کی سطح نرم ہو جاتی ہے۔پلانٹیشن فیکٹری میں پراسس ہونے کے بعد 18 کلوگرام چائے کی پتیوں سے پانچ کلوگرام سیلون چائے بن سکتی ہے۔پھر ایک رولنگ مشین میں ان پتیوں کو تروڑا مروڑا جاتا ہے اور فرمنٹیشن پراسس شروع کیا جاتا ہے، جس سے ان کے مختلف ذائقے پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔چائے کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینیری اکثر 100 سال پرانی ہے۔تیار چائے کو پتیوں کے سائز کے حساب سے تقسیم کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے تھیلوں کو فروخت کے لیے دارالحکومت کولمبو بھیجا جاتا ہے۔سیلون چائے محض درآمد نہیں کی جاتی، یہ سری لنکن زندگی کا اہم حصہ بھی ہے، اور دفتروں میں کام کرنے والے افراد، مزدوروں، طالب علموں اور ہر کوئی اسے استعمال کرتا ہے۔


Top