تمہارا رنگ تو بڑا گورا ہے اور تم خود کتنی خوبصورت ہو ۔۔۔۔۔ اسرائیلی قید میں موجود عہدالتمیمی کو کن کن طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے ؟ افسوسناک خبر آ گئی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > انٹر نیشنل > تمہارا رنگ تو بڑا گورا ہے اور تم خود کتنی خوبصورت ہو ۔۔۔۔۔ اسرائیلی قید میں موجود عہدالتمیمی کو کن کن طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے ؟ افسوسناک خبر آ گئی

تمہارا رنگ تو بڑا گورا ہے اور تم خود کتنی خوبصورت ہو ۔۔۔۔۔ اسرائیلی قید میں موجود عہدالتمیمی کو کن کن طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے ؟ افسوسناک خبر آ گئی

رام اللہ(ویب ڈیسک ) کم سن مجاہدہ عہد التمیمی آزادی فلسطین کی پر امن جدوجہد کی مثال بن کر سامنے آئی ہےا ور اب اسرائیلی حراست میں موجود 16 سالہ فلسطینی لڑکی عہد التمیمی کے گھر والوں نے ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں دو اسرائیلی تحقیق کار پوچھ گچھ کے دوران عہد کو دھمکیاں دینے کے علاوہ اس

کے جسم اور گوری رنگت پر تبصرہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ان میں ایک شخص عہد کے انتہائی قریب ہو کر بات کر رہا ہے جب کہ عہد نے چپ سادھ رکھی ہے۔ عہد کے والد نے پوچھ گچھ کے دوران کے مختلف مناظر جاری کیے ہیں۔ عہد سے تحقیقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہیں۔قصور کا اعتراف کر لینے کی صورت میں عہد التمیمی کو آٹھ ماہ کی جیل کاٹنا ہو گی۔عہد کو 19 دسمبر کو مغربی کنارے میں اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب اس نے اپنے گھر کے باہر کھڑے دو اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ اور لاتیں رسید کی تھیں۔دوسری جانب تیونس میں منعقدہ عالمی کتاب میلے کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ شام کے سیکشن میں ایک کتاب میں بچوں کو لڑائی، تشدد اور خون خرابے پر اکسایا گیا ہے۔ اس کتاب کے سامنے آنے کے بعد حکام فوری حرکت میں آگئے اور انہوں نے نہ صرف وہ متنازع کتاب بلکہ میلے میں شامل شام کے سیکشن ہی کو بند کردیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بک فئر کے دوران زائرین نے ایک کتاب کی نشاندہی کی۔ یہ کتاب شام کے سیکشن میں بچوں کی رکھی گئی تھی۔ کتاب میں خاکوں کی شکل میں بچوں کو خون خرابے اور دہشت گردی پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ مختلف خاکوں اور عبارتوں کی مدد سے بچوں کو لڑائی،تشدد، خون بہانے اور دیگر خطرناک حربے استعمال کرنے پر اکسایا گیا۔کتاب میلے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ متنازع کتاب کی شمولیت میلے کی شرائط اور قواعد وضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس خلاف ورزی پر شام کی جانب سے رکھی گئی کتب اٹھا دی گئی ہیں اورپورا سیکشن بند کردیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ بچوں کو قتل، تشدد اور نفرت پراکسانا عرب ثقافت اور ادب کا ہرگز حصہ نہیں اور ہم ایسا لٹریچر کسی صورت میں پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔


Top