حضرت شاہ حسین ؒکے بچپن کا ایک سبق آموز اور ایمان افروز واقعہ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > اسلامی واقعات > حضرت شاہ حسین ؒکے بچپن کا ایک سبق آموز اور ایمان افروز واقعہ

حضرت شاہ حسین ؒکے بچپن کا ایک سبق آموز اور ایمان افروز واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک)برصغیر کی تصوف کی تاریخ بہت بھر پور اور طویل ہے۔ برصغیر کے بعض دوسرے علاقوں کی طرح پنجاب میں اس کی جڑیںبہت گہری ہیں۔یہاں تصوف کے عظیم علم بردار پیدا ہوئے۔ انہوں نے عوام کے ذہنوں میں تصوف کا گہرا تاثر قائم کیا۔ ان صوفیا کرامؒ نے امن اور رواداری کا درس دیا

اور خطے کے عوام کو انتہاپسندی سے دور رکھنے میں اہم کر دار ادا کیا۔ انہوں نے اپنا پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے بالخصوص شاعری کو ذریعہ بنایا۔ انہوں نے پیچیدہ اور مشکل امور کو اپنی شاعری میں سادہ اور عوامی رنگ میں پیش کیا۔ اسی وجہ سے صوفیاکرامؒ کی شاعری عوام میں بہت مقبول ہو گئی اور اب بھی ہے۔ انہیں میں معروف صوفی اور پنجابی شاعر شاہ حسینؒ المعروف مادھو لال حسینؒ کا شمار ہوتا ہے۔آپؒ 1538ء میں ٹکسالی دروازے لاہور میں ایک نو مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی کا نام شیخ عثمان تھا جو کپڑا بننے کا کام کرتے تھے۔ چونکہ آپ کے والدبافندگی یعنی کپڑے بننے (جولاہا)کے پیشے سے منسلک تھے اس لیے آپ محلے میں حسین جولاہا کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ آپ کی پیدائش کے وقت آپ کے والد شیخ عثمان ٹکسالی دروازے کے باہر راوی کے کنارے آباد ایک محلے میں رہائش پذیر تھے جو تل بگھ کہلاتا تھا۔آپ کے نام میں لال کا اضافہ سرخ پوشاک پہننے کی وجہ سے ہوا۔ ایک حکایت کے مطابق آپ جب سات سال کے ہوئے تو مکتب میں بھیجے گئے۔ حافظ ابوبکر سے چھ پارے حفظ کیے۔ ایک دن جب آپ مکتب میں درس لے رہے تھے تو حضرت بہلول قطب زماںؒ بیرون ملک سے وہاں آئے۔ آپ نے حافظ ابوبکر سے آپ کانام معلوم کرکے آپ سے دریا سے وضو کے لیے پانی لانے کا کہا۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔

حضرت بہلولؒ نے وضو کیا اور دو رکعت نماز ادا کر کے آپ کے واسطے دعا کی ’’یا الہٰی اس بچے پر کرم کر۔ اس کو عرفان کی دولت سے مالا مال کر اور اپنا سچا عاشق بنا۔‘‘ آپ رات تلاوت کلام پاک اورعبادت میں گزارتے۔ دریاکے کنارے اور حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر سکون اور یک سوئی پاتے۔شاہ حسینؒ تصوف کے فرقہ ملامتیہ سے تعلق رکھنے والے صوفی بزرگ اور شاعر تھے، وہ اس عہد کے نمائندہ ہیں جب شہنشاہ اکبر مسند اقتدار پر متمکن تھا۔ شاہ حسینؒ پنجابی زبان و ادب میں کافی کی صنف کے موجدسمجھے جاتے ہیں۔ وہ پنجابی کے اولین شاعروں میں سے تھے جنہوں نے ہجر و فراق کی کیفیات کے اظہار کے لیے عورت کی پرتاثیر زبان استعمال کی۔ شاہ حسینؒ نے بے مثل پنجابی شاعری کی۔ ان کی شاعری میں عشق حقیقی کا اظہار ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کے ایک حصے میں شاہ حسینؒ کی مادھو سے ملاقات ہوئی۔ مادھو ایک برہمن زادے تھے۔ ان دو افراد کا تعلق اتنا گہرا ہو گیا کہ عوام شاہ حسینؒ کو مادھو لال حسینؒ کے نام سے جاننے لگے۔ ادب کے میدان میں اکبر اعظم کا دور بڑے بڑے نابغوں کے لیے مشہور ہے ،چنانچہ شاہ حسینؒ کے ہم عصر ایک طرف ابوالفضل فیضی، نظیری نیشا پوری، عرفی شیرازی اورعبدالرحیم خان خاناں تھے تو دوسری طرف اغلباً داستان ہیر رانجھا کے پہلے پنجابی شاعر دمودر بھی تھے۔ مذکورہ بالا ناموں میں سے بیشتر دربار سے منسلک رہے۔شاہ حسینؒ نے مرکزِ حکومت سے دور رہ کر بھی ادب کے میدان میں اپنا ممتاز مقام پیدا کر لیا۔

انہوں نے سب سے پہلے داستان ہیر رانجھا کو بطور عشق حقیقی کی تمثیل اپنے شعری کلام میں سمویا۔اپنے پیشے کے روزمرہ کے استعمال کی اشیا و آلات کو مثلاً چرخہ، سوت، تانا، بانا وغیرہ کو صوفیانہ اور روحانی معنی پہنائے۔ ان کے بعد یہ پنجابی شاعری کا ایک مستقل حصہ بن گئے۔آپؒ نے پنجابی میں ایسے مصرعے، تشبیہات اور موضوعات دیے کہ ان کے بعد آنے والوں نے یا تو ان کو اپنی طرف منسوب کر لیا یا ان پر طبع آزمائی کی۔ مثلاً رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی۔ آپؒ کے اقوال زریں زندگی کی گہرائیوں سے روشناس ہیں اور پڑھنے والے کو دعوت فکر و عمل دیتے ہیں۔ مثلاً آپؒ فرماتے ہیں ’’جب علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو اس علم سے ناچنا کودنا بہتر ہے۔‘‘ قاضی جاوید لکھتے ہیں ’’پنجاب کے اکثر کلاسیکی شعرا، مثلاً بلھے شاہؒ اور وارث شاہؒ کی طرح شاہ حسین ؒکے بارے میں مستند معلومات کم و بیش ناپید ہیں۔ لیکن لوگ اپنی محبوب شخصیات کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اور جب ان کو حقائق دستیاب نہ ہوں تو وہ افسانے گھڑ لیتے ہیں۔‘‘ قاضی جاوید کے مطابق شاہ حسینـؒ اور ان کی شاعری کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ فرخ یار کہتے ہیں کہ شاہ حسینـؒ کا اول ماخذ دو بیاضیں ہیں۔ ’’پہلی بیاض سید شرافت نو شاہی بحروف اردو جو ایک محتاط اندازے کے مطابق 770ء کی حدود میں لکھی گئی۔ دوسری بیاض مملوکہ پروفیسر دیوندر سنگھ ودیار تھی ہے۔ یہ بیاض اندازاً 1800ء کے زمانے میں تحریر ہوئی۔

‘‘ فرخ یار کی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ شاہ حسینؒ کا کلام 1901ء میں پہلی بار ایک کتاب کے حصے کے طور پر طبع ہوا۔ یہ کتاب مطبع مفید عام، لاہور نے ’’شبد شلوک بھگتاں دے‘‘ کے عنوان سے گورمکھی رسم الخط میں شائع کی تھی۔ کتاب میں شاہ حسینؒ کی 130 سے زیادہ کافیاں شامل تھیں۔ ایک روایت کے مطابق ایک روزشاہ حسین ؒ حالت جذب و مستی میں چھت سے گرے اور داعیٔ عدم ہو گئے۔ شاہ حسینؒ کو پہلے مادھو لال نے اپنے علاقے شاہدرہ میں دفنایا مگر چند سال بعد جب دریائے راوی نے اپنا رخ بدلا تو آپ کو شاہدرہ سے نکال کر باغبانپورہ میں دفن کیا گیا ۔ جب مادھو 1636ء میں فوت ہوا تو اس کی قبر بھی شاہ حسینؒ کے برابر میں بنائی گئی۔ شاہ حسینؒ 1599ء میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ لاہور کے شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں واقع ان کے مزار پر ہر سال میلہ چراغاں کے موقع پر ان کا عرس منایا جاتا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل شہر لاہور ہمیشہ سے ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور یہاں پر منعقد ہونے والے کچھ میلے اور تہوار ایسے ہیں جوسینکڑوں سالوں سے اس سر زمین پر ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک میلہ چراغاں ہے۔ یہ میلہ کب اور کیوں شروع ہوا اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس بات کے شواہد ضرور ملتے ہیں کہ سکھوں کے دور میں بھی یہ میلہ منایا جاتا تھا۔اس میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میلے کا پھیلاؤ دہلی دروازے سے لے کر شالامار باغ تک ہوا کرتا تھااور زائرین کی کثیر تعداد شاہ حسینؒ کے مزار پر چراغ جلایا کرتی تھی اور منتیں مانا کرتی تھی۔ اسی مناسبت سے اس کا نام میلہ چراغاں پڑ گیا۔ میلے کے آغاز کے ساتھ ہی مداری،سرکس والے، ڈھولچی، ناچے، مٹھائی والے اور دیگر دکانوں والے وہاں اپنے کاروبار کے اڈے جما لیتے ہیں۔ہزاروں لوگوں کا روزگار اس میلے سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہ میلہ عوام کو محض تفریح فراہم نہیں کرتا اورنہ ہی خالصتاً عرس کی طرح منایا جاتا ہے بلکہ تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔مادھو لال حسینؒ کی پیروی میں اب بھی سرخ لباس پہن کر دھمال ڈالی جاتی ہے


Top