انتخابات کے بروقت انعقاد کی ضمانت ۔۔۔۔مگر بابا جی آپ یہ گارنٹی کیسے دے سکتے ہیں ؟ نامور کالم نگار نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بڑے کام کی بات پوچھ ڈالی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > منتخب کالم > انتخابات کے بروقت انعقاد کی ضمانت ۔۔۔۔مگر بابا جی آپ یہ گارنٹی کیسے دے سکتے ہیں ؟ نامور کالم نگار نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بڑے کام کی بات پوچھ ڈالی

انتخابات کے بروقت انعقاد کی ضمانت ۔۔۔۔مگر بابا جی آپ یہ گارنٹی کیسے دے سکتے ہیں ؟ نامور کالم نگار نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بڑے کام کی بات پوچھ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک ) بایزید بسطامیؒ کے مطابق تو ملک ایک کھیتی کی مانند ہوتا ہے۔ اور عدل وانصاف اگر اس کی پاسبانی اور حفاظت نہیں کرتا، تو کھیتی اجڑ جاتی ہے، اور تباہ ہو جاتی ہے۔ ایک بزرگ نے تو یہ بھی کہا تھا، کہ جب سے مجھے یہ پتا چلا ہے کہ

نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔مخمل و”سپریم فوم “ کے گدے پہ سونے والے کے خواب، ننگی اور سخت زمین پر سونے والوں کے خوابوں سے قطعی مختلف نہیں ہوتے، تب سے مجھے خدائی انصاف وعدل پہ اور پختہ یقین ہوگیا ہے۔ میں نے کل پرسوں خبر پڑھی کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، کیونکہ آئین میں التواءکی گنجائش ہی نہیں ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا قوم سے وعدہ ہے کہ اگر میں مارشل لاءنہ روک سکا ، تو گھر چلا جاﺅں گا۔ مگر میرے ناپختہ ذہن میں فوراً یہ خیال آیا کہ انتخابات وقت پہ ہونے کی چیف جسٹس صاحب کیسے ضمانت، اور گارنٹی دے سکتے ہیں جبکہ مختلف سیاستدانوں کے مختلف اداروں اور مختلف عدالتوں میں مقدمات زیربحث ہیں، صرف اس بات کا یقین ہے کہ شاید یہ سارے فیصلے انتخابات سے پہلے پہلے محفوظ کرنے کی بجائے ”مشتہر“ کردیئے جائیں گے۔ جہاں تک مارشل لاءلگنے کی بات ہے ، تو یہ عسکری طاقت تو نظریہ¿ ضرورت کی سہولت، اگر آپ سے نہیں لے سکے گی، تو کیا ہوا، کسی سے تو یہ رعایت لے ہی چکے ہیں، مارشل لاءکبھی بھی کسی بھی ملک میں کسی سے بھی پوچھ کر نہیں لگتے، دنیا بھر کی تاریخ کھنگال لیں

، جہاں جہاں بھی مارشل لاءنہیں لگا، اس ملک کے حالات ہمارے ملک سے قطعی مختلف تھے، ان ملکوں کی منصوبہ بندی ہر میدان میں ہوتی ہے، کھیلوں، تماشوں کی بھی ، اقتصادیات کی بھی ، عسکری اداروں کی بھی ، اور سیاسی ذہینوں اور فطینوں کی بھی ۔ مگر ہمارے ہاں تو فوج اقتدار پہ کئی بار قبضہ کرچکی ہے، اگر چیف صاحب کو یہ پتا ہے کہ مارشل لاءنہیں لگے گا، تو پھر شاید ان کو یہ اندازہ بھی ہو کہ آئندہ آنے والی حکومت کس کی ہوگی اور ڈرائیونگ سیٹ پر کون بیٹھے گا؟ مگر ہمارے عوام تو ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ ووٹ کس کو دیں، کیونکہ ہمارے ملک کے اکثر عوام ووٹ ضائع کردیتے ہیں۔ مگر دیتے کسی کو نہیں ، جوکہ نہایت غلط اور نامناسب بات ہے، کیونکہ دنیا کے ملکوں کے سکون کو تہ وبالا کرنے والا امریکی صدر بش محض ایک ووٹ سے جیتا تھا، اور میرے ”امریکن نیشنل بھائی“ اُن دنوں خاصے عرصے کے بعد پاکستان آئے ہوئے تھے، اور شدید پچھتا رہے تھے کہ کاش میں ان دنوں امریکہ میں ہوتا اور بش کے خلاف ووٹ دیتا، کیونکہ بش کے خیالات اور انتخابی نعرے مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ اور اس کی ذہنیت انتہائی متعصب اور جاہلانہ ہے جیسے موقع پرست سیاستدانوں کی دور موجود میں ہے، دودوتین مرتبہ وزیر اور وزیراعظم رہنے کے باوجود انہوں نے جنوبی پنجاب کے لیے کیا کیا ؟ اب کیوں گلہ کرتے ہیں ۔

میں نے بات شروع کی تھی، کہ ہمارے ہاں کسی بھی میدان عمل کی منصوبہ بندیوں کا شدت سے فقدان ہوتا ہے، حتیٰ کہ خاندانی منصوبہ بندی ، جوایوب خان کے دورسے شروع کی گئی تھی، اور اس وقت بھی عالم دین، جو اب خود اپنے آپ کو شیخ الاسلام کہتے اور کہلواتے ہیں، اس دور میں بھی کثرت سے دستیاب تھے۔ میں نے کل پرسوں ایک دینی چینل پر خوددیکھا کہ ایک دینی شخصیت کو ”شیخ العالم “ کہا جارہا تھا، بہرحال آج کل کے ”دورِ دُرنایاب“ میں بھی خاندانی منصوبہ بندی والوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے حق میں نامور اور ممتاز دینی رہنما ڈاکٹر احمد شہزاد مجددی، اور ناقابلِ محتاجِ تعارف جناب مفتی منیب الرحمن سے بیان دکھایا جاتا ہے۔ مختلف ناموں ، اور پیغاموں سے آنے والا یہ ادارہ کب تک کتنی کامیابی حاصل کرچکا تھا یہ ”تھر“ والوں سے پوچھیں ، یا اپنی گھروالی سے پوچھیں۔مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر مجددی صاحب کے کتنے بچے ہیں، مگر میں نے پڑھا تھا، کہ کچھ عرصہ قبل مفتی منیب صاحب کے جواں بیٹے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے جو غالباً ایک ہی بیٹے تھے، مجھے بہت دکھ ہوا کہ اگر ان کے اور بیٹے ہوتے، تو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنتے۔ لہٰذا یہ منصوبہ بندی ، خود جنرل ایوب خان کو بھی بھاری پڑی، اور حکومت کو بھی کہ حکومتوں کو خواہ مخواہ کے اخراجات پڑ جاتے ہیں، مگر نتیجہ صفر ہوتا ہے، مختلف محکموں کی بجائے، شاید صرف اشتہار بازی کی منصوبی بندی زیادہ موثر رہے گی ، غریبوں پہ اس کا اثر ویسے ہی نہیں ہوتا، امیر خود بخود منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات انتخاب سے قبل سہولت کار کی انتخابی منصوبہ بندی ہے، صاف نظر آتا ہے کہ کس کس پارٹی کو ”ہُما“ کا پیار حاصل ہے، میں ہُما نام والی بہنوں سے معافی مانگتا ہوں ….اور اپنے رب سے بھی معافی مانگتا ہوں، مگر معافی دوسروں کی خاطر نہیں مانگی جاسکتی، صرف دعا کی جاسکتی ہے۔


Top