ماڑی سیں تے لڑی کیوں سیں۔۔۔۔۔پاکستانی عدالتوں میں پیش آنے والا ان دو تازہ ترین واقعات کا تذکرہ جب قانون بالکل بے بس نظر آیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > منتخب کالم > ماڑی سیں تے لڑی کیوں سیں۔۔۔۔۔پاکستانی عدالتوں میں پیش آنے والا ان دو تازہ ترین واقعات کا تذکرہ جب قانون بالکل بے بس نظر آیا

ماڑی سیں تے لڑی کیوں سیں۔۔۔۔۔پاکستانی عدالتوں میں پیش آنے والا ان دو تازہ ترین واقعات کا تذکرہ جب قانون بالکل بے بس نظر آیا

لاہور (ویب ڈیسک )زندگی کے پینتیس سال کہنے کو تو سرکار کی نوکری کی لیکن سچ لکھوں تو کہنے میں کوئی عار نہیں حقیقتاً شخصی غلامی کی۔ پاکستان کی سرکار کی نوکری میں شائد ہی کوئی اِکا دکا مثال ہو کہ کسی سرکاری ملازم نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا ہو ورنہ نناوے فیصد (الف) سے لیکر( ے) تک بس (ج ) کا ذکر نہیں کرنا

معروف کالم نگار طارق امین اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ کیونکہ ان کو آپکے ملک کا قانون بھی علیحدہ کیٹیگری میں تولتا ہے انہیں چھوڑ کر آپکو مجھ جیسے ہی ملیں گے جنہوں نے ضمیر کی بجائے ہمیشہ اپنے باس کی آواز پر ہی لبیک کہا۔ پچھلے تین سال سے جس میدان میں قدم رکھا اس میں ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی ایک طویل فہرست دیکھتا ہوں جس میں اپنے ادارے کے بانی محترم مجید نظامی کو اس جماعت کے امام کے طور پر پاتا ہوں تو ایک ایک لفظ لکھنے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں اپنی پرانی روش کی بدولت اس مقدس پیشے میں بھی اپنے م±رشد کے فرمودات اور طے کردہ اصولوں سے کسی قسم کی روگردانی نہ کر جاو¿ں۔ جیسا کئی بار عرض کر چکا کہ صحافت کے شعبے میں اپنی حیثیت ایک ادنیٰ طالبعلم سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئے میں اکثر و بیشتر اس میدان کے نامور افراد کے اسلوب ، خیالات کی گہرائی وغیرہ سے راہنمائی حاصل کر کے اپنی تحریروں میں بھی کوئی نکھار لا سکوں۔قارئین طالبعلم کے لغوی معنوں پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ طالبعلم کا کام ہر وقت علم کی طلب اور اسے حاصل کرنے کی جستجو ہوتی ہے۔ علم کا رزق صرف کتابوں میں میسر نہیں ہوتا۔

آپ کے اردگرد کا ماحول اور اس میں ہونے والے واقعات بھی نہ صرف آپ کو بہت کچھ بتاتے اور سکھاتے ہیں بلکہ آپ کی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی بہت سبق چھوڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا ایک اچھے طالبعلم ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ کتابوں کے ساتھ ساتھ آپ مشاہدے پر بھی اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ دوستو پچھلے ایک ہفتے کے دوران تین ایسے واقعات نظر سے گزرے ہیں جن کے بارے میں قانون کے بڑے بڑے اساتذہ جن میں جناب ایس ایم ظفر، اعتزاز احسن، رشید اے رضوی، حامد خان، احسن بھون، فروغ نسیم، بابر اعوان، اعظم نذیر تارڑ، سلمان اکرم راجہ، عبدالستار، طارق پرویز، خالد انور اور بہت سے دوسرے اکابرین شامل ہیں سے میری درخواست ہو گی کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ دیانتداری کا ثبوت دیتے ہوئے میرے اور میرے قارئین کی معلومات اور علم میں اضافے کے لئے یہ بتائیں کہ پولیٹیکل سائنس اور قانون میں ریاست کی جو تعریف کی گئی ہے اور اس پیرائے میں ریاستی اداروں کو جو اختیارات تجویز کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں ان واقعات کی کیا قانونی حیثیت ہے اور قانون کو ان سے کس طرح نمٹنا چاہئے تھا۔پہلا واقعہ میرے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے میرے ملک کے ایک بہت ہی محترم

، قابل اور نامور وکیل کو مبلغ دس ہزار روپیہ جرمانہ ہے جس کو وہ وکیل جمع نہیں کرواتا بلکہ اس جرمانے کو جرمانہ کرنے والی اعلیٰ شخصیت کا بیٹا جمع کرواتا ہے جس کی تصدیق اعلیٰ عدلیہ کی وہ اعلیٰ شخصیت خود کرتی ہے جس نے یہ جرمانہ سُنایا۔ قانون کہتا ہے کہ آپ کسی منصف کی ذات کو زیر بحث نہیں لا سکتے۔بالکل درست۔ قانون کہتا آپ عدالتی فیصلوں پر بحث کرتے وقت بہت احتیاط برتیں کہ اس میں عدالت کی تضحیک کا کوئی پہلو نہ نکلے۔ ہم عدالتی فیصلے پر زبان سے ایک لفظ نہیں نکالتے لیکن اتنا حق تو رکھتے ہیں کہ اپنے علم کی پیاس بُجھانے کے لئے اتنا تو پوچھ سکتے ہیں کہ قانون کی نظر میں جب وہ شخص جس کو یہ جرمانہ کیا گیا ہو اور وہ صاحب حیثیت اور استطاعت بھی ہو اور اگر پھر بھی وہ یہ جرمانہ ادا کرنے سے انکاری ہو تو اس کے اس فعل کو قانون کی نظر میں کیا کہتے ہیں اور کیا دنیا کا کوئی قانون بیان کردہ اس سارے Episode کی اجازت دیتا ہے اور اگر اس امر کی کوئی قانونی حیثیت ہے تو پھر معاشرے پر اس کی Moral Implications کیا ہونگی۔ مجھے ان اصحاب سے ان تمام سوالات کے جواب کا شدّت سے انتظار رہے گا۔

سردست یہاں مجھے پوٹھوہاری زبان کا ایک محاورہ بہت یاد آ رہا ہے کہ ” ماڑی سیں تے لڑی کیوں سیں”دوسرا واقعہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ملتان بار کے صدر کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی وہ کارروائی ہے جس میں عدالت کے بار بار بلانے پر بھی گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے باوجود عدالت کی طرف سے غیر حاضری کے باوجود غیر مشروط معافی نامے پر موصوف کو معافی کے پروانے کا اجرا ہے۔ میں یہاں یہ پوچھنے کی جسارت تو نہیں کر سکتا کہ کیا ریاستی اتھارٹی خاص کر عدالتی امور کی انجام دہی میں مصلحت نام کے کسی لفظ کی موجودگی پائی جاتی ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور جانتا ہوں شائد پنجابی میں کسی سیانے نے اس مناسبت سے کہا تھا کہ ” ڈاڈے دے ست وی سو وی تے لسے دے پنج وی سو”۔ اس سلسلے میں میرے قانونی موشگافیوں سے آگاہی رکھنے والے دوستوں کی کیا رائے ہے مجھے اس کا شدت سے انتظار رہے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ احباب جو اس فراخدلی کا کوئی اخلاقی جواز پیش کر سکتے ہوں مجھے ان کے جواب کا بھی اسی شدّت کے ساتھ انتظار رہے گا۔تیسرا واقعہ نقیب اللہ قتل کیس کا ہے جس میں ایک مفرور سرکاری افسر کی

اعلیٰ عدالت میں وہ انٹری ہے جو کسی طور ایک فلمی سین سے کم نہیں۔ اس پورے Episode میں جس طرح اکثر ریاستی اداروں کی بے بسی نظر آئی ہے اس پر مجھے تو جو شرمندگی ہوئی سو ہوئی لیکن اس بارے یہ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں مجھے اس کے جواب کا بھی شدّت سے انتظار رہے گا۔جب تک میرے یہ محترم صاحبان اور دوسرے دانشور ان کا جواب ڈھونڈتے ہیں میں ایک طالبعلم کی حیثیت سے ڈکشنری کھولتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کنگرو کورٹس اور ناکام ریاست یا Banana Republic کے الفاظ کیا معنی رکھتے ہیں۔ قارئین اگر میرا اگلا کالم آپ کی آنکھوں کی زینت نہ بنا تو پھر یہ بات آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ مجھ سمیت اس ملک کے نناوے فیصد اپنی پینتیس چالیس سالہ سرکاری نوکری میں شخصی غلامی کیوں کرتے ہیں اور اگر میں آئندہ کالم لکھنے کے قابل رہا تو پھر یقیناً مجھے اس شرمندگی کا احساس رہے گا کہ میں نے شخصی غلامی کا طوق پہلے کیوں نہیں اُتار پھینکا۔ پھر شائد میں کہہ سکوں کہ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔ پھر شائد میں کہہ سکوں کہ اب اس ملک میں اپ بنیادی حقوق کی بات کر سکتے ہیں۔ پھر شائد میں کہہ سکوں کہ واقعی ہی اس ملک میں جمہوریت نے جڑیں پکڑ لی ہیں۔


Top