شام کی حالیہ صورتحال میں شامی علاقے ’التنف ‘ کی کیا اہمیت ہے ؟ ایران کے لیے یہ علاقہ لائف لاین کی حیثیت کیوں رکھتا ہے ؟ پڑھیے ہوش اڑا دینے والی رپورٹ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > متفرق > شام کی حالیہ صورتحال میں شامی علاقے ’التنف ‘ کی کیا اہمیت ہے ؟ ایران کے لیے یہ علاقہ لائف لاین کی حیثیت کیوں رکھتا ہے ؟ پڑھیے ہوش اڑا دینے والی رپورٹ

شام کی حالیہ صورتحال میں شامی علاقے ’التنف ‘ کی کیا اہمیت ہے ؟ ایران کے لیے یہ علاقہ لائف لاین کی حیثیت کیوں رکھتا ہے ؟ پڑھیے ہوش اڑا دینے والی رپورٹ

شام کا تنازعہ بھی اب انتہائی پعیشان کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اس علاقے کے ساتھ اسلامی ممالک اور روش و امریکہ نے صرف اپنے مفادات کے عوض تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔اور اب عراق اور اردن کی سرحد کے قریب واقع شام کے علاقے ’التنف ‘ پر امریکا اور روس کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

ٹاپ سٹوری..:پورےکا پورا شریف خاندان ایک ایک کر کے سعودی عرب کیوں پہنچ گیا ؟ اندر کی کہانی سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی

روس نے متعدد بار الزام عاید کیا کہ امریکا التنف میں اپنے حامی جنگجوؤں کی مدد سے شدت پسند گروپ ’داعش‘ کی شام کے دوسرے علاقوں میں فرار کے لیے راستہ مہیا کر رہا ہے۔ حال ہی میں روسی آرمی چیف نے الزام عاید کیا کہ امریکا نے التنف میں دو فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں جن میں داعش کے جنگجوؤں کو شامی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے عسکری تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ’التنف‘ ایک خشک، دور افتادہ، ویران اور خشک علاقہ ہے مگر یہ جگہ امریکا اور روس کے درمیان اختلافات کا موجب رہی ہے۔ روسی اور امریکی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ’التنف‘ میں موجود اسدی فوج اور دیگر ایرانی ملیشیاؤں کو 50 کلو میٹر دور ہٹانے سے اتفاق کیا گیا تھا۔عراق اور شام میں داعش کے خلاف سرگرم امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحاد نے الزام عاید کیا تھا کہ صدر بشار الاسد کی فوج اپنے زیرکنٹرول علاقوں سے داعشی جنگجوؤں کو بغیر کسی رکاوٹ کے آمد ورفت کی سہولت مہیا کر رہی ہے۔داعش کے جنگجوؤں کو اسدی فوج کی طرف سے سہولت کی فراہمی پر عالمی اتحاد میں شامل ایک برطانوی فوجی عہدیدار فیلیکس گیڈنیفی نے کہا

ٹاپ سٹوری..:نواز شریف وہ غلطی نہ کریں جس پر مشرف پچھتا رہے ہیں ۔۔ اہم ترین فوجی جرنل نے نواز شریف کو خبر دار کر دیا ، تفصیلات اس خبر میں

کہ اس کے دو امکانات ہیں یا تو اسد رجیم داعش سے لڑنا نہیں چاہتی یا وہ اپنی حدود کے اندر داعش کا مقابلہ کرنے اور اسے شکست دینے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔روس کا جواب۔۔۔عالمی اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے 19 دسمبر کو ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اسدی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں اورچیک پوسٹوں سے گذر کر سیکڑوں داعشی جنگجو دمشق کے قریبی علاقوں میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں کو جنوب مغربی شام اور شمال مغربی شام کے علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو متحارب فریقین میں جنگ بندی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اس کے جواب میں روسی فوج نے عالمی اتحاد کا دعویٰ مسترد کردیا۔ روس نے الزام عاید کیا کہ امریکا التنف میں قائم اپنے فوجی اڈوں پر داعش کے جنگجوؤں کو عسکری تربیت مہیا کررہا ہے۔ روسی آرمی چیف جنرل فالیری جیراسیموف نے امریکا پر شام میں افراتفری پھیلانے کے لیے داعش کو استعمال کرنے کا الزام عاید کیا۔روسی جنرل نے التنف میں قائم امریکا کے ایک فوجی اڈے کا حوالہ دیا جسے روس غیرقانونی اڈہ قرار دے چکا ہے۔التنف ایران کے لیے لائف لائن۔۔۔التنف کا علاقہ بشارالاسد اور اس کے حلیف ایران کے لیے غیرمعمولی عسکری اہمیت کا مقام سمجھا جاتا ہے۔ عراق کی سرحد پر وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے اس شہر سے ایران عراق میں اپنی آمدروفت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

ٹاپ سٹوری..:بس بہت ہو گیا اب کسی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔پاک فوج کا وہ اعلان جس نے قوم کے دل خوش کر دیے

اس کی ایک طرف سرحدیں بحر روم پر لبنان اور اور دوسری طرف اردن سے بھی ملتی ہیں۔ اس طرح التنف کئی ملکوں تک رسائی کے لیے وسطی شام کا غیر معمولی تزویراتی اہمیت کا حامل شہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر نہ صرف امریکا اور روس کی آپس میں کشمکش جاری ہے بلکہ ایران پاسدارن انقلاب کی نظریں بھی لگی ہوئی ہیں۔ذرایع ابلاغ کے مطابق ایران التنف کو خطے میں اپنے اثرو نفوذ کے قیام کے لیے ’لائف لائن‘ سے تعبیر کرتا ہے۔لندن سے شائع ہونے والے اخبار ’الحیات‘ نے 26 مئی کو ایک رپورٹ میں التنف کی ایران کے لیے غیرمعمولی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’التنف‘ ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے بہ منزلہ آنکھ ہے۔ ایران اس جگہ کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر شام اور عراق میں امریکی فوجیوں اور اس کی حامی ملیشیاؤں کی راہ روکنا چاہتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ’التنف‘ کا علاقہ نہ صرف ایران بلکہ خطے میں موجود اس کے دیگر وفادار گروپوں بالخصوص عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے بھی شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ شام کی وہ واحد گذرگاہ ہے جہاں سے ایران اپنے عسکری گروپ اور جنگی سازو سامان عراق تک پہنچا رہا ہے اور اسے روسی فضائیہ کا تحفظ حاصل ہے۔التنف کی دوسری جانب عراق میں ’الولید‘ کا علاقہ ہے۔ الولید سے داعش کو نکال باہر کیا گیا تھا جب کہ شامی اپوزیشن نے سنہ 2016ء میں امریکا کی مدد سے التنف سے بھی داعش کو نکال باہر کیا۔التنف امریکا، روس اور اردن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا بھی موضوع رہا ہے۔ ان مذاکرات کے بعد ایران نواز ملیشیا، پاسداران انقلاب اور اسدی فوج کو التنف میں قائم امریکی فوجی اڈے سے دور رہنے اور دونوں کے درمیان محفوظ زون کے قیام سے بھی اتفاق کیا گیا تھا۔رواں سال 18 مئی کو حزب اللہ کے جنگجوؤں اور پاسداران انقلاب نے التنف کے علاقے سبع بیار کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو انہیں شدید بمباری کر کے وہاں سے پسپا کردیا گیا تھا۔
ٹاپ سٹوری..:پی ایس ایل 3فرنچائزرنے سکواڈ مکمل کر لیے ، تیسرے ایڈیشن میں کون سے نئے نام شامل ہوں گے ؟ کھلاڑیوں کی تفصیلات جان کر آپ کا دل باغ باغ ہو جائے گا


Top