جان لیوا بیماری میں مبتلا بچوں کی زندگی میں سب سے اہم بات کیا ہے؟جوابات جان کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > متفرق > جان لیوا بیماری میں مبتلا بچوں کی زندگی میں سب سے اہم بات کیا ہے؟جوابات جان کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے

جان لیوا بیماری میں مبتلا بچوں کی زندگی میں سب سے اہم بات کیا ہے؟جوابات جان کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے

کیپ ٹاﺅن(نیوز ڈیسک)بچوں کی معصومانہ باتیں کسے اچھی نہیں لگتیں ۔ننھے بچوں کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ دن بھر کھیل کود کے سوا انہیں زندگی کی کسی اور بات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ شاید آپ بھی کہیں گے کہ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے، لیکن جنوبی افریقہ کے ایک معروف ڈاکٹر اور تحقیق کار

نے جب بستر مرگ پر پڑے بچوں سے پوچھا کہ ان کے لئے زندگی میں سب سے اہم بات کیا تھی، تو ان بچوں نے کچھ ایسے جوابات دئیے کہ سن کر ہر کسی کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے ہیں۔ دی مرر کے مطابق ماہر اطفال السٹیر میک الپائن کا کہنا ہے کہ انہیں یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بچوں سے پوچھیں کہ ان کے لئے زندگی کی سب سے اہم چیز کیا ہے۔ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس ڈاکٹر نے جب متعدد بچوں سے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے بہت سی باتوں کا ذکر کیا لیکن حیران کن طور پر سب نے اپنی ماں کی محبت کو اپنے لئے دنیا کی سب سے اہم چیز قرار دیا۔ڈاکٹر السٹیر کا کہنا ہے کہ ان سب بچوں کی عمریں چار اور نو سال کے درمیان تھیں لیکن ان کے جوابات ان کی عمر کے لحاظ سے کہیں زیادہ دانشمندانہ اور سنجیدہ تھے۔ ان سب کے جواب میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ ان لوگوں سے بہت محبت کرتے ہیں جو ان کا خیال رکھتے ہیں او رانہیں خوش رکھتے ہیں اور خصوصاً انہوں نے اس ضمن میں سب سے زیادہ اپنی ماں کا تذکرہ کیا۔

ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ کاش وہ زیادہ کھیلتے کودتے، یا فیس بک مزید استعمال کرلیتے یا ٹی وی دیکھ لیتے۔ سب نے اپنی ماں کی محبت کا تذکرہ کیا، جس کے بعد دیگر ایسے لوگوں کا تذکرہ تھا جو ان کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی خوشی کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ڈاکٹر السٹیر کا کہنا ہے کہ انہیں جس بات نے سب سے زیادہ جذباتی کیا وہ یہ تھی کہ ان بچوں کو اپنی ماں کی بہت فکر تھی۔ ان میں سے اکثر کا کہنا تھا”میری خواہش ہے کہ میرے بعد میری ماں خوش رہیں۔ وہ بہت پریشان نظر آتی ہیں۔ میں انہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔“ماں اور فیملی کی محبت کے بعد ان بچوں نے اپنے پالتو جانوروں کا بھی بڑی محبت سے ذکر کیا۔انہوں نے کتابوں اور کہانیوں میں اپنی دلچسپی کا ذکر بھی کیا اور وہ خصوصاً وہ اس بات پر شکرگزار تھے کہ ان کے ماں باپ انہیں دلچسپ کہانیاں سناتے رہے۔ ان میں سے اکثر ہیری پوٹر کے پرستار تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کہانیوں نے انہیں خوش بھی کیا اور بہادر بھی بنایا۔بچوں کی باتوں

سے یہ اندازہ بھی ہوا کہ انہیں ہنسی مزاح بہت پسند ہے۔ ایک بچے نے بتایا ”مجھے ایک جادوگر کا کھیل بہت پسند آیا۔ جب وہ کھیل دکھارہا تھا تو اس کی پتلون گر گئی اور میرا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔“ ایک او ربچے کا کہنا تھا ”میرے ڈیڈی مزے مزے کی شکلیں بناتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتاہے۔ وہ مجھے بہت خوش رکھتے ہیں۔“ ان بچوں کے پسندیدہ کھلونوں اور افسانوی کرداروں میں سپر ہیرو، بیٹ مین اور ٹیڈی بیئر وغیرہ شامل تھے۔ڈاکٹر السٹیر کا کہنا تھا کہ ”میں نے جتنے بچوں سے بات کی ان سب نے اپنی فیملی اور خصوصاً ماں سے شدید محبت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ماں باپ کے ساتھ گزرے وقت اور خصوصاً جب وہ انہیں کہانیاں سناتے تھے اور ان کے ساتھ ملکر کھیلتے تھے، اسے اپنے لئے سب سے زیادہ پرلطف وقت قرار دیا۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے لئے سب سے قیمتی چیز ہماری محبت اور ان کے ساتھ گزرا اچھا وقت ہی ہے۔“ مزید قومی و انٹرنیشنل خبروں،تجزیوں ، واقعات ،فیچرز اور کالمز پڑہنے کے لئے ہمارے سوشل میڈیا پیج اور ویب سائٹ کو وزٹ کر سکتے ہیں جہاں آپ کو لمحہ بہ لمحہ با خبر رکھا جائے گا(ذ،ک)


Top