برطانیہ کی ملکہ کا شجرہ نسب کس مسلم بادشاہ حکمران سے ملتا ہے؟ تاریخ میں پہلی دفعہ مغربی مؤرخین کا ایک ایسا دعویٰ سامنے آ گیا جس نے پوری دنیا کو ہلا کہ رکھ دیا – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > متفرق > برطانیہ کی ملکہ کا شجرہ نسب کس مسلم بادشاہ حکمران سے ملتا ہے؟ تاریخ میں پہلی دفعہ مغربی مؤرخین کا ایک ایسا دعویٰ سامنے آ گیا جس نے پوری دنیا کو ہلا کہ رکھ دیا

برطانیہ کی ملکہ کا شجرہ نسب کس مسلم بادشاہ حکمران سے ملتا ہے؟ تاریخ میں پہلی دفعہ مغربی مؤرخین کا ایک ایسا دعویٰ سامنے آ گیا جس نے پوری دنیا کو ہلا کہ رکھ دیا

لندن(ویب ڈیسک) مورخین بسااوقات ماضی کے بارے میں ایسے دعوے کر دیتے ہیں کہ ہر کوئی دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی عجیب و غریب دعوٰی برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کے سلسلہ نسب کے حوالے سے کر دیا گیا ہے۔میل آن لائن کے مطابق مغربی مؤرخین نے دعوٰی کیا ہے

کہ ملکہ الزبتھ قرون وسطٰی کے ہسپانیہ کے ان مسلم حکمرانوں کی نسل سے ہیں جن کا شجرہ نسب حضوراکرمﷺ سے جا کر مل جاتا ہے۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ قرون وسطٰی کے ہسپانیہ کے یہ حکمران امام حسنؓ کی نسل سے تھے جو حجاز مقدس سے سپین منتقل ہوئے اور وہاں حکومت کی۔ان میں ایک بادشاہ کا نام المعتمد ابن عباد بتایا جاتا ہے۔ اس کی ایک بیٹی شہزادی زیدا تھی جو والدین کے ساتھ سپین کے شہر سیوائیل (Seville)میں رہتی تھی۔یہ 11ویں صدی عیسوی کا واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ شہزادی سیوائیل سے چلی گئی اور بعد ازاں اس نے عیسائیت قبول کر لی۔ مﺅرخین کا دعوٰی ہے کہ ملکہ برطانیہ اسی شہزادی کی نسل سے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سپین کے قدیم ریکارڈ سے بھی مو¿رخین کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے اور مصر کے سابق مفتی اعظم علی گوماءبھی اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ابتدائی طور پر یہ دعوٰی 1986ءمیں برطانوی ادارے ’برکز پیریج‘ (Burke’s Peerage)نے کیا تھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو برطانوی شاہی خاندان کے شجرہ نسبت کا ریکارڈ رکھنے کا ذمہ دار ہے۔1986ءمیں اس انکشاف کے بعد ادارے نے اس وقت کی برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچرکو لکھا تھا کہ وہ شاہی خاندان، بالخصوص ملکہ کی سکیورٹی بڑھا دیں۔برکز پیریج کے سربراہ نے وزیراعظم کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھا تھا کہ ”برطانوی لوگ بہت کم جانتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کی رگوں میں مسلم خون دوڑ رہا ہے لیکن مذہبی رہنماءاس سے آگاہ ہیں۔ انتہاءپسندوں سے ملکہ کو خطرہ ہو سکتا ہے جس کے لیے ان کی سکیورٹی میں اضافہ کرنا لازمی ہے۔“(ذ،ک)


Top