ایک بار پھر ۔۔۔۔۔قطری خط آگیا میدان وچ ۔۔۔۔۔خبر کی تفصیلات آپ کو حیران کرڈالیں گی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > خبریں > ایک بار پھر ۔۔۔۔۔قطری خط آگیا میدان وچ ۔۔۔۔۔خبر کی تفصیلات آپ کو حیران کرڈالیں گی

ایک بار پھر ۔۔۔۔۔قطری خط آگیا میدان وچ ۔۔۔۔۔خبر کی تفصیلات آپ کو حیران کرڈالیں گی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 3 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے مزید 2 گواہوں کو طلب کرلیا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف فیملی کے خلاف نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت کی جس کے دوران نیب کے تین گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
ٹاپ سٹوری : جنرل باجوہ کی سینٹ آمد: نواز شریف اور مریم نواز نے ان کے خلاف کیا خفیہ پلاننگ کررکھی تھی؟ تہلکہ مچادینے والی حقیقت سامنے آگئی
العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ یاسر شبیر جب کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب شکیل انجم ناگرہ نے اپنے اپنے بیانات قلمبند کرائے جن پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح بھی مکمل کرلی۔ دوسری جانب دوران سماعت سابق وزیراعظم نواز شریف اسی کٹہرے اور پہرے میں وزرا اور وکلائکی فوج در فوج کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے اور عدالت نے حاضری لگوانے کے بعد ملزمان کو جاننے کی اجازت دے دی۔نیب کے گواہ اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر آفاق احمد نے قطری شہزادے شیخ حمد بن جاسم کے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو لکھے گئے خط کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراضات اٹھائے۔گواہ نے بتایا کہ قطری شہزادے کا سربمہر خط واجد ضیا کو لکھا گیا جسے کسی نے نہیں کھولا۔نیب کے دوسرے گواہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب شکیل انجم ناگرہ نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ 10 اگست کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی تصدیق شدہ رپورٹ کے لئے درخواست کی، 15 اگست کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو دوسری درخواست دی، نیب کی درخواست پر17 اگست کو رجسٹرار آفس نے جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی۔خواجہ حارث نے سوال اٹھایا
ٹاپ سٹوری : سپریم کورٹ کا عمران خان کے حق میں فیصلہ : پریشانی کی کوئی بات نہیں پاکستان اب درست سمت میں چل پڑا ہے ۔۔۔۔پاکستان کے حالات پر گہری نظر رکھنے والی بیرون ملک بیٹھی دبنگ شخصیت نے بھی کہہ دیا
کہ مروجہ قوانین کے تحت جے آئی ٹی کی کاپیاں تصدیق شدہ نہیں جس پر گواہ شکیل انجم نے کہا کہ تصدیق شدہ دستاویزات پرمہریں دیکھی تھیں، کسی بھی دستاویزات پر تصدیق کنندہ کانام اورتاریخ موجود نہیں۔نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کافی ساری دستاویزات اصل کی بجائے نقول پر تصدیق کی گئیں جس پر گواہ شکیل انجم نے کہا کہ انہیں نقول پر تصدیق کا علم نہیں۔سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کے گواہ شکیل انجم اور ا?فاق احمد پر جرح مکمل کی جس کے بعد نواز شریف اور دیگر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے بعد 3 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔تاہم بعدازاں احتساب عدالت نے حسن اور حسین نواز کا مقدمہ باقی ملزمان سے الگ کردیا تھا۔ دریں اثناسابق وزیراعظم نواز شریف 10ویں مرتبہ احتساب عدالت میں پیش ہوگئے، وہ منگل کی صبح لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے ،مریم نوازاور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی ساتھ موجود تھے ۔ نواز شریف 10ویں مرتبہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے ۔تینوں ریفرنسز میں اب تک استغاثہ کے 8 گواہوں نے بیان قلمبند کرایا، جن میں سدرہ منصور، جہانگیر احمد، محمد رشید، مظہر بنگش، شہباز حیدر، ملک طیب، مختار احمد اور عمر دراز شامل ہیں۔عدالت نے مزید 2 گواہوں کو بیان قلمبند کرانے کے لیے سمن جاری کر رکھے ہیں، جن میں یاسر بشیر العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس جبکہ شکیل انجم ناگرہ ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں بیان قلمبند کرائیں گے۔سابق وزیراعظم نے پیشی کے بعد پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی رہنماوں سے مشاورت بھی کی۔(ش س م)


Top