پاکستان میں ملنے والے پٹرول کا میعار کیاہے؟ مشہور کمپنیاں اپنی ریفائنریز میں پٹرول میں کس چیزکی ملاوٹ کرتی ہیں؟ بڑے کام کی رپورٹ سامنے آگئی – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > پاکستان میں ملنے والے پٹرول کا میعار کیاہے؟ مشہور کمپنیاں اپنی ریفائنریز میں پٹرول میں کس چیزکی ملاوٹ کرتی ہیں؟ بڑے کام کی رپورٹ سامنے آگئی

پاکستان میں ملنے والے پٹرول کا میعار کیاہے؟ مشہور کمپنیاں اپنی ریفائنریز میں پٹرول میں کس چیزکی ملاوٹ کرتی ہیں؟ بڑے کام کی رپورٹ سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ملک میں معیار جانچنے کیلئے ریگولرپٹرول87رون کاحامل ‘ بھارت 91برطانیہ، ترکی میں 95رون والا فروخت ،ناقص پٹرول سے انجن کی زندگی کم ریفائنریز پٹرول میں آکٹین کالیول بڑھانے کے لیے کیمیکلز کااستعمال کرتی ہیں ،غیر رجسٹرڈ پمپس بھی قائم ، کم پٹرول ڈالنے کی شکایات عام ہیں ریفائنریز پٹرول میں

آکٹین کالیول بڑھانے کے لیے کیمیکلز کااستعمال کرتی ہیں ،غیر رجسٹرڈ پمپس بھی قائم ، کم پٹرول ڈالنے کی شکایات عام ہیں پاکستان کاشمار پٹرول کی سب سے زیادہ کھپت والے ممالک میں ہوتا ہے ، صارفین سالانہ کروڑوں لٹر پٹرول استعمال کرتے ہیں،لیکن ہم اپنی ضرورت کاصرف30فیصد تیل خود پیدا کرتے ہیں،جبکہ باقی 70فیصددیگر ممالک سے درآمد کیاجارہا ہے ۔ پٹرول کی اتنی بڑی مقدارمیں کھپت کے پیش نظر ملاوٹ مافیا بھی ملک بھر میں سرگرم نظر آتا ہے اور غیر معیاری ایندھن کی فروخت عام ہے ۔کوالٹی کے لحاظ سے دنیا بھر کے سب سے کم ترین معیار کاپٹرول ہمارے ملک میں فروخت کیا جارہا ہے جوکہ نا صرف گاڑیوں کے انجن کی زندگی کم کر رہا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا بھی سبب بن رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بوجھ عوام کی جیب پر بھی پڑتا ہے ، ملاوٹ شدہ پٹرول انجن زیادہ استعمال کرتا ہے ،اسی طرح پٹرول میں پائے جانے والے ناقص ذرات گاڑیوں کے پارٹس کو نقصان پہنچاتے ہیں اور آئے روز گاڑیاں خراب ہوکر ورکشاپوں میں کھڑی نظر آتی ہیں ۔عوام یہ غیر معیاری پٹرول ڈلوانے پرمجبور ہیں کیونکہ ایک عام شہری کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار نہیں جس سے وہ معلوم کر سکے کہ یہ پٹرول کس قدر ملاوٹ شدہ ہے ۔

حکومتی اداروں کا اختیار ہے کہ وہ معیار کوجانچ کر ملاوٹ مافیا کو نکیل ڈالیں ، اس کے ساتھ ساتھ ایک شکایت مقدار سے کم پٹرول ڈالے جانے کے بارے میں بھی ہے ، اکثر پٹرول پمپس نے اطلاعاًڈیجیٹل میٹر کے ساتھ چھیڑ خانی کرکے انہیں مطلوبہ مقدار سے کم پر فکس کر رکھا ہوتا ہے ۔ پٹرول کے حوالے سے ایک اور غیر قانونی سرگرمی جو نظر آتی ہے ،وہ غیر رجسٹرڈپٹرول پمپس کا قیام ہے جوکہ زیادہ ترنواحی علاقوں میں لوگوں نے چھپ چھپا کر قائم کررکھے ہیں۔بڑی پٹرول کمپنیز کی جانب سے میعاد پوری ہوجانے والی پٹرول مشینیں جو کباڑیوں کو فروخت کردی جاتی ہیں،لوکل مافیا انہیں دوبارہ قابل استعمال بنا کر نواحی علاقوں میں لگا لیتا ہے اور غیر قانونی طور پر بلااجازت پٹرول کی فروخت شروع کردی جاتی ہے ۔پٹرول کے معیار کوجانچنے کے لیے رون(ریسرچ آکٹین نمبر)کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔رون کا درجہ بڑھانے سے پٹرول کی کوالٹی کامعیار بڑھتا جاتا ہے ۔پاکستان میں فروخت کیا جانے والا ریگولرپٹرول87رون کاحامل ہے ، جبکہ بھارت میں فروخت ہونے والا91، برطانیہ اور ترکی میں 95رون والا فروخت کیا جارہا ہے ۔آئل لبریکنٹس کی صنعت سے وابستہ ایک صنعت کارکاکہنا ہے کہ اگر پٹرول کے معیار کو ایک رون بڑھایا جائے

تو اس کی فی لٹر قیمت تقریباً1روپیہ بڑھ جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پٹرول کے معیار کو تقسیم کردیا جائے ،جوکہ87سے 95رون کے درمیان ہو۔موٹرسائیکل اور چھوٹی گاڑیوں والے 87رون جبکہ1000سی سی گاڑیوں کے مالکان 95رون کا پٹرول ڈلواسکیں۔حال ہی میں اوگرا(آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی)اور ہائیڈرو کاربن انسٹیٹیوٹ کی جانب سے پٹرول کے نمونہ جات کے لیبارٹری ٹیسٹ کروائے گئے ، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریفائنریز پٹرول میں آکٹین کالیول بڑھانے کے لیے خطرناک کیمیکلز کااستعمال کررہی ہیں جوکہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے ۔ان کی جانب سے مئوقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ کیمیکلز دنیا بھر کی ریفائنریز پٹرول میں ملاتی ہیں،اس لیے ہمارے ہاں بھی ایسا کیا جاتا ہے ۔درحقیقت یہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چیک کریں کہ کیا ہمارے ہاں ملائے جانے والے کیمیکلز کی مقدار ماحول دوست ہے بھی کہ نہیں۔کیونکہ پاکستان میں 70فیصد فضائی آلودگی کاسبب ٹرانسپورٹ کادھواں ہے ، جس کے باعث دمہ،گلے کے کینسراور پھیپھڑوں وآنتوں کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور سالانہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں کی اموات ہورہی ہیں۔ان سب بیماریوں کے پیچھے کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈجیسی زہریلی گیسیں اور لیڈ اینڈ والٹائلیل آرگینیک جیسے مرکبات شامل ہیں،جن کااخراج ایندھن کے فضلہ سے ہوتا ہے ۔
مقامی طور پر تیارہونے والے گاڑیوں کے انجن بھی عالمی معیار کے نہیں ہیں ، جس کے باعث یہ غیرمعیاری پٹرول انہیں زیادہ متاثر کرتا ہے ۔یورپ بھر میں یورو3،جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں یورو4معیار کے انجن استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ پاکستان میں ہم بمشکل یورو2 کے معیار تک پہنچتے ہیں۔یورو2انجن میں استعمال کی جانے والی دھاتیں غیر معیاری اور کوالٹی کے لحاظ سے ہلکی ہوتی ہیں جوکہ ناقص پٹرول کے ساتھ مل کر ماحول کو مزید آلودہ کردیتی ہیں۔حکومت کو یہ چاہیے کہ وہ اپنے کوالٹی کنٹرول سسٹم کو منظم کرے اورغیر قانونی اقدامات کرنے والے ملاوٹ مافیاکے خلاف کارروائی کرے کیونکہ یہ نا صرف پاکستانی شہریوں کو مالی نقصان پہنچارہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے اسباب پیدا کرکے آنے والی نسلوں کا سانس لینا بھی اجیرن کررہے ہیں۔


Top