اللہ سب کی ماؤں کو سلامت رکھے : مدرز ڈے کے حوالے سے نامور صحافی مجیب الرحمان شامی کی صاحبزادی سویرا شامی کی خصوصی تحریر ملاحظہ کیجئے – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > اللہ سب کی ماؤں کو سلامت رکھے : مدرز ڈے کے حوالے سے نامور صحافی مجیب الرحمان شامی کی صاحبزادی سویرا شامی کی خصوصی تحریر ملاحظہ کیجئے

اللہ سب کی ماؤں کو سلامت رکھے : مدرز ڈے کے حوالے سے نامور صحافی مجیب الرحمان شامی کی صاحبزادی سویرا شامی کی خصوصی تحریر ملاحظہ کیجئے

لاہور(ویب ڈیسک)دوروز قبل میرے بیٹے اصمدنے سکول سے واپسی پر مجھ سے موبائل مانگا ، میں نے وجہ جاننی چاہی تو اس نے کہا ’ مدرز ڈے آنے والا ہے اورمیں نے دیکھنا ہے کہ کب ہے؟‘ پھراسی نے بتایا کہ’ اس اتوار یعنی تیرہ مئی کو مدرز ڈے ہے، اورہم آپ کے لئے کچھ خاص کریں گے‘۔

نامور کالم نگار مجیب الرحمان کی صاحبزادی سویراشامی اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتی ہیں۔۔۔ سکی بات سن کردل خوشی سے جھوم اٹھا کہ میرے بچے ابھی سے میرے لئے اتنا سوچتے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک سوال دل میں ابھراکہ کیا میں نے آج تک اپنی امی کے لئے کچھ’ خاص‘ کیا یا کرنے کا سوچاہے ؟ جواب نفی میں ہی ملا، کیونکہ میرے لئے ’خاص‘ کرنے کا اختیار تو انہوں نے اپنے پاس ہی رکھا ہوا ہے اور اس کے لئے کہ وہ کسی موقع کا انتظار نہیں کرتیں۔درمیانہ قد، گورا رنگ ، خوش شکل،مزاج دھیما اور طبعاًخاموش میری امی، جنہیں میں نے چاک و چوبند، کام میں ہر وقت مشغول ہی دیکھا۔ امور خانہ داری میں ماہر، با سلیقہ اور اس عمر میں بھی شائد مجھ سے زیادہ چست، گھٹنوں کے دن بدن بڑھتے درد کو کبھی خودپر حاوی نہیں ہونے دیا ۔کبھی کسی بات پر گلہ شکوہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی ان کے منہ سے کسی کی برائی سنی۔لگائی بجھائی اور خاندانی سیاست سے تو ان کا دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔نانا کی سب سے بڑی بیٹی ہونے کی دجہ سے ان کے بہت قریب تھیں، ان کی بہنوں کو آج تک یہی شکایت ہے کہ ابا جان کا جتنا پیار باجی کو ملا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔

نانا کا مانناتھا کہ امی ان کے لئے خوش بختی کی علامت تھیں اور ابو کا کہنا ہے کہ امی کے آتے ہی ان کی قسمت کھل گئی۔میکے سے سسرال تک کا سفر طے کرتے ہی بہت سے نئے رشتوں میں بندھ گئیں،نا نا کی لاڈلی بیٹی، کسی کی بہو، بھابی، چچی اور مامی بن گئی، ہر کردار میں اس طرح ڈھل گئیں جیسے اسی مقصد کے لئے بنی ہوں۔انہوں نے ہر کرداربخوبی نبھایا اور آج تک نبھاتی چلی آ رہی ہیں بلکہ اب تو ابو کے بہت سے رشتے دار ابو کے کم ،امی کے عزیز زیادہ لگتے ہیں۔میرے والد صاحب کی مہمانداری کا گواہ ہروہ شخص ہے جس کی ان سے ذرا سی بھی جان پہچان ہے، کھلانے پلانے کے وہ شروع سے ہی بہت شوقین ہیں،ابو کے اس شوق میں امی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، آج تک ہمارے گھر میں کسی بھی مہمان کے بے وقت آنے کا واویلا نہیں مچا، جھگڑا نہیں ہوا، کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں ہوا ۔امی تین چار سالن ہمیشہ تیار کر کے فریج میں رکھتیں ، جانتی تھیں کہ ابو گھر واپس آئیں گے تو کوئی نہ کوئی ساتھ ضرور ہوگا۔ابو دس بندوں کا کھانا کرتے تو امی تیس لوگوں کے کھانے کا اہتمام کرتیں کیونکہ ابو کا حساب کتاب اس معاملے میں شروع سے ہی کافی خراب ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے گھر کا دستر خوان وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

اللہ بخشے ہمارے دادا اوردادی اکثر ہمارے ساتھ ہی رہا کرتے تھے، وہ ہمارے ابا جان اور اماں جان تھے، ابا جان تو بہت پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اماں جان کے ساتھ میرا کافی وقت گزارا۔ابو کی جان اماں جی میں بستی تھی، جب وہ گھر پر ہوتے ہر وقت اماں جان کے اردگرد رہنے کی کوشش کرتے، دونوں کے درمیان دلچسپ نوک جھونک جاری رہتی اور پھر آخر کار اماں جان پیار سے کہتیں’مجیب تیرے کولوں کوئی نہیں جت سکدا ‘۔اماں جان کی خدمت امی نے بہو نہیں بیٹی بن کر کی بلکہ شائد اس سے بھی بڑھ کر، ان کے آخری وقت میں ان کے ساتھ ساتھ رہیں اور وہ بھی امی کے علاوہ کسی دوسرے پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہوتی تھیں۔ہم پر بھی اماں جان کی آواز پر’ لبیک ‘ کہنا فرض تھا۔اور جب اماں جان دنیا سے رخصت ہو گئیں تو کسی کے کہے اورکسی کو احساس دلائے بغیر امی نے اماں جان کی جگہ لے لی اور ان کی ساری ذمہ داریاں اپنے سر لے لیں۔اماں جان کے جانے کے بعد امی نے پورے خاندان کوجوڑے رکھا، دور اور نزدیکی تمام رشتے داروں کے لئے گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔

نانا، نانی کے دنیا سے چلے جانے کے بعدبھی سب سے بڑی بہن ہونے کے ناطے چھوٹی بہنوں کو اپنے سائے تلے سمیٹ لیا، ہمارا گھر ان کے لئے میکہ بن گیا، کب انہوں نے اپنی بہنوں کے لئے ماں کی جگہ لے لی شاید اس کا احساس میری خالاؤں کو بھی نہیں ہوا ہو گااور آج ان کا کوئی بھی کام ’باجی‘ کے مشورے اور موجودگی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ان ساری ذمہ داریوں اور فرائض کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی طرف سے غافل تھیں۔ہم پانچوں بہن بھائیوں کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں یہاں تک کہ ہمیں پڑھانے کا بیڑہ بھی انہوں نے ہی اٹھا رکھا تھا۔ہمارے امتحانوں میں خود ہلکان ہو جاتیں ، ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ سب کچھ گھول کر ہمیں پلا دیں۔اور ایسے میں اگر ایک آدھ تھپڑ بھی جڑنا پڑتا تودریغ نہ کرتیں۔بچپن میں اپنی امی سے میرے تعلقات ویسے ہی تھے جیسے کسی بھی سخت اور نظم و ضبط کی پابند ماں کے اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے چاہئیں۔انہوں نے کبھی بھی اکلوتی بیٹی اور چار بھائیوں کی ایک ہی بہن ہونے کا بخار دماغ کو چڑھنے نہیں دیا۔

کسی چیز کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا لیکن بے جا خرچ اور اسراف جیسی عادتوں سے بھی کوسوں دور رکھا۔خدا گواہ ہے کہ پورا بچپن ، جوانی انہوں نے کبھی کسی کے سامنے میری تعریف میں قلابے نہیں ملائے بلکہ الٹا تنقید کا نشانہ ہی بنایا اور یہی جتایا کہ میری بیٹی کوتو کچھ نہیں آتا ،پتہ نہیں اپنے گھر جا کر کیا کرے گی۔میں اپنے گھر میں تولگے بندھے کام کر لیا کرتی تھی لیکن کبھی کسی کے ہاں مہمان بن کر جاتی توبھی امی کا حکم ہوتا کہ چلو جاکر برتن کچن میں رکھو،میز صاف کر دو، چاہے ہم پہلی دفعہ ہی کسی کے گھر کیوں نہ گئے ہوتے۔جب میں آج کل کی ماؤں اور بیٹیوں کو دیکھتی ہوں جہاں بیٹیاں ہل کر پانی پینے کو تیار نہیں اور ماں صدقے واری ہوتے نہیں تھکتیں تو امی کی یہ حرکت بے اختیار یاد آ جاتی ہے۔ مجھے ہمیشہ سے لگتا تھا کہ میرے ابو سے تعلقات زیادہ خوشگوار رہے ہیں ، وہ میری ہر بات آسانی سے مان لیتے تھے، کہیں جانے سے منع نہیں کرتے تھے جب کہ امی کی روک ٹوک ہمہ وقت جاری رہتی تھی اور طعنوں کا تو کوئی شمار ہی نہ تھا۔

ہر وقت امی سے لڑائی جھگڑا رہتا، یہاں نہیں جانا، وہاں نہیں جانا، ایسے کپڑے نہیں پہننے، دوپٹہ صحیح طرح لو، یہ میک اپ کس خوشی میں کیا ہے ، غرض لگتا تھا کہ امی ساری دنیا سے کوئی انوکھی ماں ہیں، انکی ساری دشمنی میرے سے ہی ہے۔امی کی خواہش تھی کہ بی اے کے بعد میری شادی ہو جائے لیکن ابونے ٹھانی ہوئی تھی کہ مجھے اعلیٰ تعلیم ضرور دلوائیں گے، ابو کا ماننا تھاکہ شادی تو سب کی ہو جاتی ہے، اس کو زندگی کا مقصد نہیں بنانا چاہئے، وقت آنے پر وہ بھی ہو جائے گی لیکن پڑھائی بہت ضروری ہے۔اسی لئے پہلے ماسٹرز اور پھر ایم فل کیا ۔پہلی نوکری ماسٹرز کے بعد کی ،حالانکہ میری ایسی کوئی خواہش نہیں تھی، لیکن امتحان ختم ہونے کے بعد ابو نے اعلان کیا کہ میں نے تمہاری نوکری کی بات کر لی ہے کل صبح نو بجے تیار رہنا۔ جب نوکری شروع کر دی تو گھرسے تعلق کافی کم ہو گیا اور گھر داری سے تو سمجھیں ختم ہی ہو گیا۔جب کسی نے امی کوکہنا کہ آپ کی توایک ہی بیٹی ہے، اچھی کمپنی ہوتی ہو گی تو انہوں نے کہنا اسے بھی بیٹا ہی سمجھیں ، صبح کی گئی رات کو گھر آتی ہے مجھے تو لگتا ہے میرے پانچ بیٹے ہی ہیں۔

یہ گلہ اپنی جگہ لیکن وہ کبھی میرے کام کے آڑے نہیں آئیں بلکہ میری کامیابی کے لئے دعا گو ہی رہیں۔میری خوش نصیبی کہ گھر میں بیٹا بیٹی میں کبھی فرق نہیں کیا گیا اورآگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کئے گئے۔ پھر میری شادی کا وقت آ گیا،شادی ہوئی گھر بدلا ، ارد گردکے لوگ اور ماحول بھی بدل گیا۔میری شادی سے پہلے ہر کسی کو لگتا تھا کہ مجھے کچھ آتا جاتا نہیں ہے، میرا گھربسنا بہت مشکل ہو گا۔ میں اکلوتی بیٹی ، چار بھائیوں کی ’بگڑی‘ بہن ،نوکری میں مصروف میں کیا جانوں گھر اور گھر داری۔ لیکن کہیں نہ کہیں میری امی کو اپنی تربیت پر بھروسہ تھا، وہ کہتی رہیں کہ’ سویرا نے کام کئے نہیں تو کیا ہوا اپنے گھر میں ہوتے تو دیکھے تھے‘، شادی کے بعد وہ سارے کام کئے جو امی کو کرتے دیکھا تھا۔کھانے بنائے،بوقت ضرورت صفائیاں بھی کیں اورشادی شدہ ہونے کا ہر فرض نبھانے کی پوری کوشش بھی کی۔بھی یہ نہیں سوچا کہ میں اتنی پڑھی لکھی ہوں، اپنا کماتی ہوں پھر یہ سب کام کیوں کروں،یہ بھی امی کی ہی مہربانی تھی کہ گردن میں ایسا سریا نہیں آیا۔

ایک دن اپنے سسرال کے بارے میں امی سے بات کرنے کی کوشش کی تو بڑے آرام سے کہنے لگیں’ وہاں کی کوئی بات یہاں نہ کرنا اور یہاں کی کوئی بات وہاں نہ کرنا‘۔دل کوبڑی ٹھیس پہنچی، رونا بھی آیا کہ یہ کیسی ماں ہیں جو میرے دل کی بات نہیں سننا چاہتیں،ان کو میرا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔میرے میاں اپنی ملازمت کی مصروفیت کی وجہ سے رات بہت دیر سے گھر آتے تھے، جب اس بات پر میاں سے جھگڑا کرنے کی کوشش کی اور امی کو پتہ چلا تو انہوں نے میری وہ عزت افزائی کی کہ رہے رب کا نام، کہ ’کیا آج تک مجھے اس بات پر اپنے باپ سے لڑتے دیکھا ہے؟‘ لیکن آج پتہ چلتا ہے کہ میری ماں نے اس وقت کتنی عقلمندی کا ثبوت دیا، بیٹی کا گھر بسانے کا اس سے بہترین گر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔آج کل توبیٹیوں کو سسرال میں چھینک بھی آ جائے تو ماں فوراً بازو چڑھا لیتی ہے ، جس کی بدولت جھگڑے بڑھتے اور گھر بگڑتے ہیں۔شادی سے پہلے لگتا تھا کہ ابوکی یاد بہت ستائے گی، لیکن ساتھ ہی ساتھ حوصلہ ہوتا تھا کہ امی کی سخت گیری سے توجان چھوٹ جائے گی۔

لیکن معاملہ برعکس ہی نکلا، شادی کے بعدامی کی اپنی زندگی میں اہمیت کا احساس ہونا شروع ہوا۔جب بھی ان کے گھر جاتی تو ایسے لگتا جیسے میں کوئی مہمان خصوصی ہوں، یہ کھا لو، وہ پی لو ، کچھ اورچاہئے تو بتاؤ۔روز اول سے امی ابو کے گھر میں کوئی خاص چیزپکے تو اس میں میرا حصہ لازمی ہوتاہے،کوئی پھل آتاہے تو میرے گھر ضرور بھیجا جاتا ہے، کوئی سوغات آتی ہے تومیرے لئے بھی نکالی جاتی ہے۔ بارہ سال گزر جانے کے بعد آج بھی یہ سلسلہ نہ صرف ایسے ہی جاری ہے بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا ہے،بلکہ اگر امی کبھی شہر سے باہر ہوں تو میری بڑی بھابی رابعہ یہ کام بخوبی کرتی ہے۔میں آج جہاں بھی ہوں، جو بھی ہوں اس میں بہت بڑا ہاتھ امی کا ہے۔جب میرا بڑا بیٹا احمد پیدا ہوا اور میں نے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ابوکو یہ بات کچھ پسند نہیں آئی۔ ان سے سوال کیا کہ’ میں احمد کا کیا کروں گی‘ تو انہوں نے بڑے اطمینان سے کہا ’یہ بھی کوئی مسئلہ ہے تمہاری امی کے پاس رہے گا جیسے تم لوگوں کو پالا ہے، ویسے اسے بھی پالیں گی‘۔امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے بلا جھجک سر ہاں میں ہلا دیا۔

اس کے بعد سے میں اپنا بچہ روز امی کے پاس چھوڑتی اور شام کو لے لیتی، اس دوران اگر کبھی بیٹے کی محبت جوش مارتی اور میں امی کو فون کر کے اس کا حال پوچھتی تو امی آرام سے کہتیں’ فکر نہ کرو تم سے بہتر ہی رکھا ہوا ہے‘۔پھر جب احمد سکول جانے لگا اور اصمد ہماری زندگی میں آ گیا تو انہوں نے اس کی ذمہ داری بھی اسی طرح اٹھا لی اور اب احمد برملا کہتا ہے کہ’ نانو آپ سے زیادہ ہماری امی ہیں‘۔اگر وہ اس وقت میرے ساتھ نہ کھڑی ہوتیں تو شائد میراپروفیشنل کیر یئر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا۔اس کے بعد بھی جب جب کوئی مشکل آئی ان کو اپنے ساتھ پایا۔دوران ملازمت یونیورسٹی کی طرف سے اسلام آباد پندرہ دن کے کورس کے لئے جاناپڑا، میں اپنے بیٹے کی وجہ سے منع کرنا چاہتی تھی لیکن امی نے فوراً کہا ،’میں تمارے ساتھ چلتی ہوں ، احمد کو میں دیکھ لوں گی تم اپنا کام کرنا‘۔ایسے ہزار ہا مواقع ہیں جہاں انہوں نے میرا ہاتھ تھاما جن کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔گزشتہ برس جب ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی (امریکہ)میں ایک سمیسٹر گزارنے کے لئے میرا سلیکشن ہوا تو میں کشمکش میں تھی کہ بچے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔

فیصلہ یہی کیا کہ پھر کبھی سہی شائدیہ وقت جانے کے لئے مناسب نہیں ہے۔لیکن جب امی سے ذکر کیا تو انہوں نے ایک لمحہ سوچے بغیر کہا’’،تمہارے بچے میں رکھ لوں گی، تم بے فکر ہو کر جاؤ‘۔اور میں واقعی بے فکر ہو کر چلی گئی۔یہ سب صرف ایک ماں ہی کر سکتی ہے۔میری کائنات میں تمام رنگ میری ماں کی ہی بدولت ہیں،میں نے آج تک ان سے لیا ہی ہے اور بے حساب لیا ہے، دینے کا تو سوال شائد بعید از قیاس ہی ہے۔میری تربیت میرا ہتھیار اور میری طاقت ہے،میرے میاں ہمیشہ کہتے ہیں کہ’ اپنی تربیت پر اﷲ کا شکر ادا کرو، لوگوں کو ایسی تربیت نصیب نہیں ہوتی‘ ،پہلے یہ منطق زیادہ سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب دنیا میں لوگوں کے مزاج اوررنگ ڈھنگ دیکھ کریہ بات سمجھ آنے لگی ہے۔آج ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے،میں نے بہت سے لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ اے لوماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے، یہ ہماری تہذیب نہیں ہے،ہمارے ہاں تو ہر دن ماں کا ہوتا ہے، کسی ایک خاص دن کی کیا ضرورت ہے۔لیکن میرا فلسفہ ذرا مختلف ہے، ہم ہر روز اپنی ماں سے پیار اور جذبات کا اظہار نہیں کرتے،ہم سال میں بمشکل ہی انہیں کوئی تحفہ دیتے ہیں، اور اگر والدین میرے ماں باپ جیسے ہوں، جن کی بیٹی سے تحفہ لیتے ہوئے’ طبیعت خراب‘ ہونا شروع ہو جائے توپھر تو اس دن کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مائیں ساری زندگی ہمارے نام کر دیتی ہیں تو اگر ہم سال کا ایک دن ان کے نام کر دیں تو کیا مضائقہ ہے۔آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہر ماں کا دل ایسے کسی بھی موقع کا بے چینی سے منتظر ہوتا ہے، بہت سی باتیں بن کہے بھی سمجھ لینی چاہئیں۔میری ماں کے ساتھ ساتھ تمام ماؤں کو’مدرز ڈے‘ مبارک، ا ﷲ سب کی ماؤں کو سلامت رکھے۔(ش،ز،خ)


Top