پیشگوئی سچ ثابت : نواز شریف کو این آر او مل چکا ہے جبکہ۔۔۔سپریم کورٹ کا اگلا فیصلہ کیا ہو گا؟ – Tareekhi Waqiat Official Urdu Website
You are here
Home > پا کستا ن > پیشگوئی سچ ثابت : نواز شریف کو این آر او مل چکا ہے جبکہ۔۔۔سپریم کورٹ کا اگلا فیصلہ کیا ہو گا؟

پیشگوئی سچ ثابت : نواز شریف کو این آر او مل چکا ہے جبکہ۔۔۔سپریم کورٹ کا اگلا فیصلہ کیا ہو گا؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز تب ہوا جب ایک صحافی کا 8 جنوری کو کیا ہوا ٹریٹ دوبارہ سے منظر عام پر آیا۔

حسن ایوب نامی صحافی نے مائیکروبلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں 8 جنوری کو کہا تھا کہ نواز شریف کو این آر او دے دیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت مل جائے گی۔حسن ایوب کے اس ٹویٹ پر صحافی ارشد شریف نے کہا کہ اچھے رپورٹر کے پاس ہمیشہ اچھی خبر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حسن ایوب نے این آر او کی پیشن گوئی پہلے ہی کر دی تھی ۔نیب نے عدالت میں بے وقوفانہ رویہ اپنایا، اور وہی کیا جو اسے نواز شریف سے ہوئی ڈیل کو آسان بنانے کے لیے کرنے کو کہا گیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلم لیگ ن کو مبارکباد بھی پیش کی۔ایک اور خاتون صحافی نے حسن ایوب کے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا اور کہا کہ آج سپریم کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج ہو گئی جو این آر او کی طرف پہلا قدم ہے۔پاکستان زندہ باد!ٹویٹر پر اس معاملے میں بحث کا آغاز ہوا تو ایک ٹویٹر صارف نے کہا کہ حسن ایوب میری ساری ہمدردی آپ کے ساتھ ہیں لیکن اس مرتبہ کوئی این آر او نہیں ہونے جا رہا۔میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انشاء اللہ نواز شریف اور اس لائن میں کھڑے ہر شخص کو اپنی سزا کاٹنی پڑے گی۔جبکہ ایک ٹویٹر صارف نے تو حسن ایوب سے حقائق بیان کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ آپ بحث و مباحثہ کرنے والے اینکر نہیں ہیں لہٰذا حقائق سے آگاہ کیجئیے۔ان تمام سوالات اور تبصروں پر تاحال حسن ایوب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے بعد سیاسی مبصرین کو این آر او کی چہ مگوئیاں ہی سنائی دے رہی ہیں۔


Top